Book Name:Fatawa Razawiyya jild 14

ھل منع السلاطین الظلمۃ یثبت حکما شرعیا وقد قالوا من قال لسلطان زماننا عادل کفر۔[1]

ائمہ دین نے تصریح فرمائی ہے کہ جو ہمارے زمانے کے سلطان کو عادل کہے کافر ہوجائیگا انتہی۔

یہ ارشاد امام علم الہدٰی ابو منصور ماتریدی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا اپنے زمانے کے سلاطین میں ہے جنہیں ہزار برس سے زائد ہوئے نہ کہ اب۔نسأل اﷲ العفووالعافیۃ۔

(۴)کہ نیز دوم پر متفرع ہے ایك وقت میں تمام جہان میں ایك ہی ہوسکتا ہے اور سلاطین دس ملکوں میں دس۔خود مسٹر آزاد لکھتے ہیں(ص۸۴):"اسلام نے مسلمانوں کی حکومت ایك ہی قرار دی تھی یعنی روئے زمین پر مسلمانوں کا صرف ایك ہی فرمانرواوخلیفہ ہو۔"

(۵)کوئی سلطان اپنے انعقاد سلطنت میں دوسرے سلطان کے اذن کا محتاج نہیں مگر ہر سلطان اذن خلیفی کا محتاج ہے کہ بے اس کے اس کی حکومت شرعی و مرضی شرع نہیں ہوسکتی،خود آزاد کے ص۷۹ سے گزرا کہ:

"خلافت کی عظمت دینی نے مجبور کیا کہ اپنی حکومت کو شرعی طور پر منوادینے کے لئے خلافت سے پروانہ نیابت حاصل کرتے رہیں۔"

(۶)خلیفہ بلاوجہ شرعی کسی بڑے سے بڑے سلطان کے معزول کئے معزول نہیں ہوسکتا،خود جبار وسرکش قوّاد ترك کہ متوکل بن معتصم بن ہارون رشید کو قتل کرکے خلفاء پر حاوی ہوگئے تھے جب ان میں کسی کو زندہ رکھ کر معزول کرنا چاہتے خود اسے مجبورکرتے کہ خلافت سے استعفٰی دے تاکہ عزل صحیح ہوجائے بخلاف سلطان کہ خلیفہ کا صرف زبان سے کہہ دینا"میں نے تجھے معزول کیا"اس کے عزل کو بس ہے۔

(۷)سلطنت کے لئے قرشیت درکنار حریت بھی شرط نہیں،بہتیرے غلام بادشاہ ہوئے،

خود رسالہ آزاد صفحہ۵۵میں ہے:"غلاموں نے بادشاہت کی ہے اور تمام سادات وقریش نے ان کے آگے اطاعت کاسر جھکایا ہے"۔

اور خلافت کےلئے حریت باجماع اہل قبلہ شرط ہے کمافی المواقف وشرحہ وعامۃ الکتب(جیسا کہ مواقف اور اس کی شرح اور عامہ کتب میں ہے۔ت)یہاں سے خلیفہ وسلطان کے فرق ظاہرہوگئے،نیز


 

 



[1] شرح ہدیۃ ابن العماد



Total Pages: 712

Go To