Book Name:Fatawa Razawiyya jild 14

دفعِ فتنہ اور اپنے تحفظ کے لئے خود مسٹر نے فتح الباری سے دربارہ سلطان متغلب نقل کیا(ص۵۱)۔

طاعتہ خیرمن الخروج علیہ لما فی ذٰلك من حقن الدماء وتسکین الدھماء[1]۔

اس کے خلاف کے مقابلہ میں اس کی طاعت بہتر ہے کیونکہ اس میں جانوں کا تحفظ اور شورش سے سکون ہے(ت)

(۳)کہ دوم پر متفرع ہے خلیفہ نے جس مباح کا حکم دیا حقیقۃً فرض ہوگیا جس مباح سے منع کیا حقیقۃً حرام ہوگیا یہاں تك تنہائی وخلوت میں بھی اس کا خلاف جائز نہیں کہ خلیفہ نہ دیکھے اﷲ دیکھتا ہے،ایك زمانے میں خلیفہ منصور نے امام الائمہ سراج الامہ سید نا امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو فتوٰی دینے سے منع کردیا تھا،امام ہمام کی صاحبزادی نے گھرمیں ایك مسئلہ پوچھا،امام نے فرمایا:میں جواب نہیں دے سکتا خلیفہ نے منع کیا ہے۔یہاں سے ظاہر ہوا کہ خلیفہ کا حکم مباح درکنار فرض کفایہ پر غالب ہے جبکہ دوسرے اس کے ادا کرنے والے موجود ہوں کہ اب اس کا ترك معصیت نہیں تو حکمِ خلیفہ نافذ ہوگا اگرچہ خلیفہ ظالم بلکہ خود اس کا وہ حکم ظلم ہو کہ امام کو فتوٰی سے روکنا نہ ہوگا مگر ظلمًا،اور سلطان متغلب جس کی ولایت خلیفہ سے مستفاد نہ ہو اس کے امر و نہی سے مباحات فی نفسہا واجب و حرام نہ ہوجائیں گے تنہائی میں اس طور پر کہ اسے اطلاع پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو مباح اپنی اباحت پر رہے گا۔علامہ شہاب الدین خفاجی رحمہ اﷲ تعالٰی صاحب نسیم الریاض وعنایۃ القاضی وغیرہما کتب نافعہ کے زمانے میں سلطان نے حقہ پینے سے لوگوں کو منع کیا تھا یہ پردہ ڈال کر پیتے۔امام علامہ عارف باﷲ سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی رسالہ الصلح بین الاخوان میں فرماتے ہیں:"نہ خود حقہ پیتا ہوں نہ میرے گھر بھر میں کوئی پیتا ہے مگر مباح کو حرام نہیں کہہ سکتا"۔[2]اور منع سلطانی کے جواب میں شرح ہدیہ ابن العماد میں فرماتے ہیں:

لیت شعری ای امر من امریہ یتمسك بہ امرہ الناس بترکہ اوامرہ باعطاء المکس علیہ علی ان المراد من اولی الامر فی الاٰیۃ العلماء علی اصح الاقوال کما ذکرہ العینی فی اٰخر مسائل شتی من شرح الکنز وایضا

یعنی کاش میں جانوں کہ سلطان کا کون سا حکم لیاجائے یہ کہ لوگ حقہ نہ پئیں یا یہ کہ تمباکو پرٹیکس دیں معہذا آیہ کریمہ میں اصح قول یہ ہے کہ اولی الامر سے مراد علماء ہیں جس طرح شرح کنز امام عینی میں ہے نیز کیا ظالم سلاطین کا حکم حکم شرعی ہوجائے گا حالانکہ

 


 

 



[1] مسئلہ خلافت بحث بعض کتب مشہورہ عقائد و فقہ داتا پبلشر لاہور ص ۱۰۶

[2] رسالہ الصلح بین الاخوان لعبد الغنی نابلسی



Total Pages: 712

Go To