Book Name:Fatawa Razawiyya jild 14

مقدمہ

خلیفہ و سلطان کے فرق اور یہ کہ سلطان کہہ دیا جانا ہی خلیفہ نہ ہونے کی کافی دلیل ہے اور یہ کہ لفظ خلیفہ میں اگر کوئی عرف حادث ہوتو اس سے خلافت مصطلحہ شرعیہ پر کیا اثر۔

(۱)خلیفہ حکمرانی وجہانبانی میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا نائب مطلق تمام امت پر ولایت عامہ والا ہے، شرح عقائد نسفی میں ہے:

(خلافتھم)ای نیابتھم عن الرسول فی اقامۃ الدین بحیث یجب علی کافۃ الامم الاتباع[1]۔

ان کی خلافت،یعنی دین کی اقامت میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نیابت کا مقام یہ ہے کہ تمام امت پر اس کی اتباع واجب ہے(ت)

خودسر کفار کا اسے نہ ماننا شرعًا اس کے استحقاق ولایت عامہ میں مخل نہیں جس طرح ان کا خود نبی کو نہ ماننا یونہی روئے زمین کے مسلمانوں میں جو اسے نہ مانے گا اس کی خلافت میں خلاف نہ آئے گا یہ خود ہی باغی قرار پائے گا اور اصطلاح میں سلطان وہ بادشاہ ہے جس کا تسلط قہری ملکوں پر ہوچھوٹے چھوٹے والیانِ ملك اس کے زیرِ حکم ہوں،

کما ذکرہ الامام جلال الدین السیوطی رحمہ اﷲ تعالٰی فی حسن المحاضرۃ عن ابن فضل اﷲ فی المسالك عن علی بن سعید۔

جیسا کہ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اﷲ تعالٰی نے حسن المحاضرۃ میں ابن فضل اﷲ سے انہوں نے مسالك میں علی بن سعید سے اسے ذکر کیا۔(ت)

یہ دو قسم ہے:

)مُولّی جسے خلیفہ نے والی کیا ہو اس کی ولایت حسبِ عطائے خلیفہ ہوگی جس قدر پر والی کرے۔

(۲)دوسرا متغلب کہ بزورِ شمشیر ملك دبا بیٹھا اس کی ولایت اپنی قلمر و پر ہوگی وبس۔

(۲)کہ اول پر متفرع ہے خلیفہ کی اطاعت غیر معصیت الٰہی میں تمام امت پر فرض ہے جس کا منشا خود اس کا منصب ہے کہنا نائبِ رسول رب ہے صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم،اور سلطان کی اطاعت صرف اپنی قلمرو پر،پھر اگر مولٰی ہے تو بواسطہ عطائے خلیفہ اس منصب ہی کی وجہ سے کہ اس کا امر امرِ خلیفہ ہے اور امرِ خلیفہ امر نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم،اور اگر متغلب ہے تو نہ اس کے منصب سے کہ وہ شرعی نہیں بلکہ


 

 



[1] شرح العقائد النسفیۃ دارالاشاعۃ العربیۃ قندھار،افغانستان ص۱۰۸



Total Pages: 712

Go To