Book Name:Fatawa Razawiyya jild 14

ذکر کیں اور خطبہ میں فرمایا:

ترجمت فیہ الخلفاء امراء المؤمنین القائمین بامرالامۃ من عھد ابی بکر الصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ والی عھدنا ھذا[1]۔

میں نے اس کتاب میں ان کے احوال بیان کئے جو خلیفہ امیر المومنین کارامت پر قیام کرنے والے صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے وقت سے ہمارے زمانے تك ہوئے۔

(و)پھر فرمایا میں نے اس میں کسی عبیدی کا ذکر نہ کیا کہ کئی وجہ سے ان کی خلافت صحیح نہیں،ایك تو وہ قرشی نہ تھے،دوسرے وہ بدمذہب بے دین کم از کم رافضی تھے ومثل ھؤلاء لاتنعقد لھم بیعۃ ولاتصح لھم امامۃ [2]ایسوں کے لئے نہ بیعت ہوسکے نہ ان کی خلافت صحیح۔تیسرے یہ کہ ان کی بیعت اس وقت ہوئی کہ خلافت عباسی قائم تھی اور ایك وقت میں وہ خلیفہ نہیں ہوسکتے،چوتھے یہ کہ حدیث فرماچکی کہ خلافت جب بنی عباس کو ملے گی پھر ظہور امام مہدی تك دوسرے کونہ پہنچے گی،ان وجوہ سے میں نے عبیدیوں کو ذکر نہ کیا وانماذکرت الخلیفۃ المتفق علٰی صحۃ امامتہ [3]میں نے وہی خلفاء ذکر کئے جن کی صحتِ خلافت پر اتفاق ہے دیکھو کیسے صریح نص ہیں کہ یہ کمزور خلافتیں بھی صحیح خلافت ہیں،آخر کس لئے،اس لیے کہ قرشی ہیں اور زبردست طاقتور سلاطین غیر قرشی۔

(ز)جب خلیفہ مستکفی باﷲ نے شعبان ۷۴۰ھ یا ۷۴۱ھ میں وفات پائی اور اپنے بیٹے احمد حاکم بامراﷲ کو ولی عہد کیا سلطان ناصر الدین محمد بن قلادون ترکی نے کہ۷۳۶ھ میں مستکفی باﷲ سے رنجیدہ ہوگیا اور ۱۸ذی الحجہ کو اسے مصر سے باہر شہر قوص میں مقیم کیا(اگرچہ ادارات پہلے سے بھی زائد کردئے اور خطبہ وسکہ خلیفہ ہی کا جاری رہا اس عہد کو نہ مانا اور جبرًا خلیفہ مستکفی کے بھتیجے ابراہیم بن محمد حاکم بامراﷲ کے لیے بیعت لی(اگرچہ مرتے وقت خود اس پر نادم ہوا اور سرداروں کو وصیت کی کہ خلافت ولی عہد مستکفی احمد ہی کے لئے ہو جس پر ابن فضل اﷲ نے وہ لکھا کہ حق بحقدار رسید)ابن قلادون کی اس حرکت پر امام جلال الدین سیوطی نے حسن المحاضرہ میں فرمایا کہ اﷲ عزوجل نے ناصربن قلادون پر اس کے سب سے زیادہ عزیز بیٹے امیر نوك کی موت کی مصیبت ڈالی،یہ اسے پہلی سزادی،پھر مستکفی کے بعد سلطنت سے متمتع نہ ہوا ایك سال اور کچھ روزوں کے بعد اﷲ عزوجل نے اسے ہلاك کیا بلکہ بعض نے مستکفی کی وفات۷۴۱ھ میں لکھی ہے تو یوں تین ہی مہینے بعد مرا،


 

 



[1] تاریخ الخلفاء خطبہ کتاب مطبع مجتبائی دہلی ص۶

[2] تاریخ الخلفاء خطبہ کتاب مطبع مجتبائی دہلی ص۷

[3] تاریخ الخلفاء خطبہ کتاب مطبع مجتبائی دہلی ص۸



Total Pages: 712

Go To