Book Name:Fatawa Razawiyya jild 14

حدیث و کتب فقہ اس سے مالامال ہیں،بادشاہ غیر قرشی کو سلطان،امام،امیر،والی،ملك کہیں گے،مگر شرعًا خلیفہ یا امیر المومنین کہ یہ بھی عرفًا اسی کا مترادف ہے،ہر بادشاہ قرشی کو بھی نہیں کہہ سکتے سوااس کے جو ساتوں شروط خلافت اسلام، عقل،بلوغ،حریت،ذکورت،قدرت،قرشیت سب کا جامع ہوکر تمام مسلمانوں کا فرمان فرمائے اعظم ہو۔

اجمالی کلام و واقعات عام و ازالہ اوہام جہال خام

اقول: وباﷲ التوفیق اسم خلافت میں یہ شرعی اصطلاح ہے جملہ صدیوں میں اسی پر اتفاقِ مسلمین رہا۔

(۱)زمانہ صحابہ سے برابر علمائے کرام خلفاء ملوك کو علیحدہ کرتے آئے حتی کہ خود سلاطین اسی کے پابند رہے اور آج تك ہیں،بڑے بڑے جبار بادشاہ گزرے کبھی غیر قریش نے ترك ہوں یا مغل یا پٹھان یا کوئی اور اپنے آپ کو خلیفہ نہ کہلوایا،نہ خلافت مصطفویہ شرعیہ کا دعوٰی کیا،جب تك خلافت عباسیہ قائم رہی خلیفہ ہی کی سرکار سے سلاطین کی تاجپوشی ہوتی،سلطان دستِ خلیفہ پر بیعت کرتا اوراس منصب شرعی کا مستحق اسی کو اگرچہ زور و طاقت وسطوت میں اس سے کہیں زائد ہوتا،جب کفار تاتار کے دستِ ظلم سے محرم ۶۵۶ھ میں جامہ خلافت تار تار ہوگیا علماء نے فرمایا ساڑھے تین برس تك خلافت منقطع رہی حالانکہ اس وقت بھی قاہر سلطنتیں موجود تھیں،مصر میں ملك ظاہر سلطان بیبرس کا دور دورہ تھا، امام جلال الدین سیوطی تاریخ الخلفاء میں خاتم الخلفا مستعصم باﷲ کی شہادت کے بعد ذکر فرماتے ہیں:

ثم دخلت سنۃ سبع وخمسین والدنیا بلاخلیفۃ[1]۔

پھر ۶۵۷ھ آیا اور دنیا بے خلیفہ تھی۔

پھر فرمایا:

ثم دخلت سنۃ ثمان وخمسین والوقت ایضا بلاخلیفۃ [2]۔

پھر ۶۵۸ھ آیا اور زمانہ اسی طرح بے خلیفہ تھا۔

پھر فرمایا:

وتسلطن بیبرس وازال المظالم وتلقب بالملك الظاھر ثم دخلت سنۃ

بیبرس سلطان ہوا اوراس نے ظلم دفع کئے اور اپنا لقب ملك ظاہر رکھا،پھر   ۶۵۹؁آیا اوروقت

 


 

 



[1] تاریخ الخلفاء احوال المستعصم باﷲ مطبع مجتبائی دہلی ص۳۳۰

[2] تاریخ الخلفاء احوال المستعصم باﷲ مطبع مجتبائی دہلی ۳۳۱



Total Pages: 712

Go To