Book Name:Fatawa Razawiyya jild 14

مسئلہ۲:                    از لاہور محلہ سادھواں مرسلہ میاں تاج الدین خیاط                              ۱۳ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ ہجرت کے احکاموں اور شرائط کا استعمال کس صورت میں ہونا چاہئے؟

الجواب:

دارالحرب سے دارالاسلام کی طرف ہجرت فرض ہے،

قال اﷲ تعالٰی اِنَّ الَّذِیۡنَ تَوَفّٰىہُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیۡۤ اَنْفُسِہِمْ قَالُوۡا فِیۡمَ کُنۡتُمْ ؕ قَالُوۡا کُنَّا مُسْتَضْعَفِیۡنَ فِی الۡاَرْضِ ؕ قَالُوۡۤا اَلَمْ تَکُنْ اَرْضُ اللہِ وٰسِعَۃً فَتُہَاجِرُوۡا فِیۡہَا ؕ فَاُولٰٓئِکَ مَاۡوٰىہُمْ جَہَنَّمُ ؕ وَسَآءَتْ مَصِیۡرًا ﴿ۙ۹۷ " [1]

اﷲ تعالٰی نے فرمایا:وہ لوگ جن کی جان فرشتے نکالتے ہیں اس حال میں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کرتے تھے ان سے فرشتے کہتے ہیں تم کاہے میں تھے کہتے ہیں کہ ہم زمین میں کمزور تھے،کہتے ہیں کہ اﷲ تعالی کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے،تو ایسوں کا ٹھکانا جہنم ہے اور بہت بری جگہ پلٹنے کی۔(ت)

ہاں اگر حقیقۃً مجبور ہوتو معذور ہے،

قال اﷲ تعالٰی

" اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیۡنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالْوِلْدٰنِ لَا یَسْتَطِیۡعُوۡنَ حِیۡلَۃً وَّلَا یَہۡتَدُوۡنَ سَبِیۡلًا ﴿ۙ۹۸﴾ فَاُولٰٓئِکَ عَسَی اللہُ اَنۡ یَّعْفُوَ عَنْہُمْ ؕ وَکَانَ اللہُ عَفُوًّا غَفُوۡرًا ﴿۹۹"[2]

اﷲ تعالٰی نے فرمایا:مگر وہ جودبالئے گئے مرد اور عورتیں اور بچے جنہیں نہ کوئی تدبیر بن پڑے اورنہ راستہ جانیں،تو قریب ہے اﷲ ایسوں کومعاف فرمائے اور اﷲ معاف فرمانے والا بخشنے والاہے۔(ت)

اور دارالاسلام سے ہجرت کا حکم نہیں،

قال رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاھجرۃ بعد الفتح[3]۔

حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:فتح(مکہ)کے بعد ہجرت نہیں۔(ت)

ہاں اگر کسی جگہ کسی عذر خاص کے سبب کوئی شخص اقامت فرائض سے مجبور ہوتو اسے اس جگہ کا بدلنا واجب اس مکان میں معذوری ہوتو مکان بدلے،محلہ میں معذوری ہوتو دوسرے محلہ میں چلا جائے،بستی میں معذوری ہو تو دوسرے بستی میں جائے۔ مدارك التنزیل میں ہے:

 



[1] القرآن الکریم ۴/ ۹۷

[2] القرآن الکریم ۴/ ۹۸،۹۹

[3] کنز العمال حدیث ۱۵۰۵۴  مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۶/ ۱۰۹



Total Pages: 712

Go To