Book Name:Fatawa Razawiyya jild 13

من جنس النساء[1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔

دی جائے وہ عورت کی جنس ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)

مسئلہ ٤٨:                       ازلکھنؤ امین الدولہ پارك مرسلہ محمد ابراہیم ایس اینڈ سنگرکمپنی       ٥شعبان ١٣٣٧ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے رات کے وقت اپنی زوجہ کو واسطہ صحبت کے بلایا تو بیوی کے انکار کرنے پر زید نے یہ قسم کھائی کہ اب میں تم سے صحبت کروں تو اپنی ماں سے زنا کروں،بعدہ زید بہت شرمندہ ہوا اور توبہ واستغفار کیا،اس معاملہ میں زید کو کیا کرنا چاہئے؟بالفرض اگر زید نے اسی شب بعد استغفار صحبت بھی کی تو کیا کرنا چاہئے؟

الجواب:

اس نے بر اکیا براکیا،توبہ و استغفار کے سوا اور کچھ لازم اس پر نہیں،صحبت کی تو کچھ حرج نہ ہوا،نہ اس سے نکاح پر کچھ حرف آیا،کمایظھر بمراجعۃ الفتح والدر وغیرہما(جیسا کہ فتح اور در وغیرہ کو دیکھنے سے ظاہر ہوتا ہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ٤٩:خاوند نے ماں بہن کہا،طلاق نہیں دی،یہ صورت مسئلہ ہے،لہذا عندالشرع کیا حکم ہے؟بینواتوجروا

الجواب:

صورت مذکورہ میں طلاق ثابت نہیں،نہ یہ ظہار،صرف برا کہااور گناہگار ہوا،تو بہ کرے وبس،

قال اﷲ تعالٰی وَ اِنَّہُمْ لَیَقُوۡلُوۡنَ مُنۡکَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوۡرًا ؕ۔[2] وَ اِنَّ اللہَ لَعَفُوٌّ غَفُوۡرٌ ﴿۲واﷲ تعالٰی اعلم۔

اﷲ تعالٰی نے فرمایا اور وہ بیشك بری اور نری جھوٹ بات کہتے ہیں اور بیشك اﷲ ضرور معاف کرنیوالااور بخشنے والا ہے۔ (ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ٥٠:                                    از شہر بریلی گڑھی مسئولہ عبدالکریم صاحب                                 ٥ذیقعدہ ١٣٣٧ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے مکان پرجبکہ اس کی بیوی اپنے میکہ گئی ہوئی تھی،اپنے بھائی وغیرہ کے روبرو کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو اس وقت سے ماں بہن کے برابر جانتا ہوں اس کو خبر کردو کہ وہ اپنا ٹھکانا دوسری جگہ کرلے،اور یہ بات اس وقت اس نے کہی تھی کہ جب اس کی دوسرے شخص سے لڑائی ہوئی تھی اور لوگوں نے اس کو جھوٹی خبر دی تھی کہ تم کو تمہارے سسرنے پٹوایا ہے،یہ حالت سخت غصہ


 

 



[1] بدائع الصنائع فصل واماالذی یرجع الی المظاھر بہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٣/٢٣٣

[2] القرآن ٥٨/٢



Total Pages: 688

Go To