Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

الفاظ مسنونہ یہ ہیں:

لَبَّیْك اَللّٰھُمَّ لَبَّیْك ط لَبَّیْك لاَ شَرِیْك لَك لَبَّیْك ط اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَك وَالْمُلْك عــــہ  لاَ شَرِیك لَکَ

میں تیرے دربار میں حاضر ہو گیا الہٰی! میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوگیا، میں حاضر ہوگیا ہوں، تیرا کوئی شریك نہیں، میں حاضر ہوگیا ہوں، بلا شبہ تعریف اور نعمت اور ملك تیرے ہی لیے ہے، تیرا کوئی شریك نہیں۔ (ت)

صبح وشام کے وقت اور ہر نماز کے بعد اور بلندی پر چڑھتے۔ پستی میں اترتے، دوسرے قافلہ سے ملتے، ستاروں کے ڈوبتے، نکلتے کھڑے ہوتے، بیٹھتے،، چلتے، ٹھہرتے غرض ہر حالت کے بدلنے زیادہ کثرت کرے۔

ف:احرام کا مسنون ومستحب طریقہ یہ ہے کہ غسل کرے، بدن سے مَیل اتارے، ناخن ترشوائے، خط بنوائے، موئے بغل و زیرناف دُور کرے، سرمُنڈانے کی عادت ہو تو منڈائے ورنہ کنگھی کرے، تیل ڈالے، بدن میں خوشبو لگائے، پھر جامہ احرام پہن کر دو رکعت نماز بہ نیت سنت احرام پڑھے۔ پھر وہیں قبلہ رو بیٹھا دل وزبان سے نیت

(بقیہ حاشیہ صفحہ  گزشتہ)

لکن بشرط ومقارنتھا بذکر یقصد بہ التعظیم [1] اھ فانکشف الغطاء والحمد ﷲ رب العٰلمین ۱۲ منہ (م)

عــــہ :قولہ الملك استحسن الوقف علیہ لئلا یتوھم ان مابعد خبرہ [2] شرح اللباب ونقل بعضھم انہ مستحب عند الائمۃ الاربعۃ [3] اھ ردالمحتار، اقول ولم یجب لان المعنی الوہم ایضا صحیح فی نفسہ وان لم مرادا ۱۲ منہ (م)

ہو، صحیح ہوجاتا ہے بشر طیکہ نیت کے ساتھ کوئی ایسا ذکر ہو جس سے تعظیم مقصود ہو اھ تو اس سے پردہ چھٹ گیا والحمد لله رب العٰلمین ۱۲منہ (ت)

لفظ"الملک"پر وقف بہتر ہے تاکہ مابعد کے خبر ہونے کا احتمال پیدا نہ ہو،شرح لباب،اور بعض نے نقل کیا ہے کہ  یہاں وقف،ائمہ اربعہ کے ہاں مستحب ہے اھ رد المحتار ،اقول یہ وقف واجب نہیں کیونکہ  بعد کے ساتھ ملانے سے جس معنیٰ کا وہم  ہوسکتا ہے وہ بھی درست ہے اگرچہ وہ معنیٰ یہاں مراد نہیں ۱۲ منہ(ت)

 


 

 



[1] درمختارفصل فی الاحرام مطبع مجتبائی دہلی۱ /۱۶۳

[2] مسلك متقسط مع ارشاد الساری فصل ثم یصلی رکعتین دارالکتاب العربی بیروت ص۶۹

[3] ردالمحتارفصل فی الاحرام مصطفی البابی مصر۲ /۱۷۳



Total Pages: 836

Go To