Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

شرط وجوب عــــہ۱  ٹھہرانے میں تامل ہے بلکہ شرط صحت عــــہ۲ ادا ہے۔ مگر یہ کہا جائے کہ وجوب سے مراد وہ  وجوب ہے  جس کے باعث دنیا میں مواخذہ ہوسکے کہ کفار پر ترك فرائض میں احتساب نہیں،نترکھم ومایدینون فافھم(ان کے دین کے معاملہ میں ان سے تعرض نہ کرینگے۔ ت)واﷲ تعالٰی اعلم

م:                                                                                  ثم استطاعۃ السبیل شرطھا                                                          فلیك بالحفظ لھدی ضبطھا

ت: پھر راہ پر قدرت شرط حج ہے۔ پس چاہئے کہ انھیں حفظ کرکے خوب خیال میں رکھا جائے۔

ش: یعنی شرط پنجم استطاعت ہے کہ علاوہ مصارف ضروری کے اس قدر مال کا مالك ہو جو مکہ تك اپنی خواہ کرایہ کی سواری میں، کھانے پہننے کا متوسط، صرف کرتا جائے اور حج کرکے اسی طرح لوٹ آئے اور ضروری مصارف

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) وھو المعتمد لان ظاہر النصوص یشہد لھم وخلافہ تاویل۔ [1](م)

یہی معتمد علیہ ہے کیوں کہ نصوص کا ظاہر اسی پر گواہ ہے اور اس کا خلاف تاویل ہے۔ (ت)

قرآ ن مجید میں صاف ارشاد ہوا:

مَا سَلَکَکُمْ فِیۡ سَقَرَ ﴿۴۲﴾ قَالُوۡا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیۡنَ ﴿ۙ۴۳﴾ وَ لَمْ نَکُ نُطْعِمُ الْمِسْکِیۡنَ ﴿ۙ۴۴﴾ وَ کُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الْخَآئِضِیۡنَ ۙ﴿۴۵﴾ وَ کُنَّا نُکَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیۡنِ ﴿ۙ۴۶﴾ حَتّٰۤی اَتٰىنَا الْیَقِیۡنُ ﴿ؕ۴۷[2] ۱۲ منہ (م)

تمھیں کس چیز نے جہنم میں پہنچایا، انھوں نے کہا ہم نمازی نہ تھے اور مسکینوں کو کھانا نہ کھلاتے اور سازشیں کرنیوالوں کے ساتھ شریك ہوکر ہم بھی حصہ لیتے اور ہم یوم جزا کا انکار کرتے یہاں تك کہ موت آگئی ۱۲ منہ (ت)

عــــہ ۱ :کہ اس مذہب صحیح پر وجوب درکنار وجوب ادا ہے لہذا شرائط مرسوم یعنی صحت ادا کی طرف عدول کیا ۱۲ منہ

عــــہ ۲ : اقول: بل لك ان تقول لما لم یکن الکافرمن من اھل النیّۃ والنیۃ شرط الصحۃ کان الاسلام مندرجا فیھا لاشرطا بحیالہ واﷲ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ (م)

میں کہتاہوں، آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ کافر جب نیت کرنے کا اہل نہیں جبکہ نیت صحت حج کے لیے شرط ہے تو یوں اسلام کا شرط ہونا پایا گیا، علیٰحدہ شرط نہ سہی، والله تعالٰی اعلم۔ (ت)

 


 

 



[1] کشف الاستار حاشیہ درمختارحاشیہ نمبر۴کتاب الحج مطبع مجتبائی دہلی۱ /۱۶۰

[2] القرآن۷۴ /۴۲ تا ۴۷



Total Pages: 836

Go To