Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

 

 

 

 

تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ

(زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک

 

مسئلہ ١٢تا۱۸: از گونڈہ بہرائچ ، محلہ چھاؤنی ، مکان مولوی اشرف علی صاحب مرسلہ حضرت سیّد حسین حیدر میاں صاحب دامت بر کاتہم ١٣جمادی الاولیٰ١٣٠٧ھ  


بسم اﷲالرحمن الرحیم ط

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین لُطف اﷲبہم اجمعین، ان مسائل میں :
مسئلہ اولیٰ: زکوٰۃ بتدریج دی جائے یایکمشت دینے میں کیا نقصان ہے؟
بینواتوجروا ۔

الجواب :

اگر زکوٰۃ پیشگی ادا کرتا ہے یعنی ہنوز حولانِ حول نہ ہُوا کہ وجوب ادا ہوجاتا، خواہ یُوں کہ ابھی نصاب نامی فارغ عن الحوائج کا مالك ہُوئے سال تمام نہ ہُوا، یا یُوں کہ سالِ گزشتہ کی دے چکا ہے اور سالِ رواں ہنوز ختم پر نہ آیا تو جب تك انتہائے سال نہ ہو بلاشبہ تفریق و تدریج کا اختیارِ کامل رکھتا ہے جس میں اصلًا کوئی نقصان نہیں کہ حولانِ حول سے پہلے زکوٰۃ واجب الادا نہیں ہوتی۔ درمختار میں ہے :

شرط افتراض ادا ئھا حولان الحول

ادائیگیِ زکوٰۃ کے فرض ہونے کے لئے یہ شرط ہے کہ مال

 


 

 



Total Pages: 836

Go To