Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

فرمایا، جب شرف حضور پایا قبر انور کے حضور رونا اور منہ اس خاك پر ملنا شروع کیا،دونوں صاحبزادے حضرات حسین وحسن رضی الله تعالٰی علٰی جد ہما وعلیہما وبارك وسلم تشریف لائے، بلال رضی الله تعالٰی عنہ انھیں گلے لگا کر پیار کرنے لگے، شہزادوں نے فرمایا ہم تمھاری اذان کے مشتاق ہیں یہ سقفِ مسجد انور پر جہاں زمانہ اقدس میں اذان دیتے تھے گئے، جس وقت الله اکبر الله اکبر کہا تمام مدینہ میں لرزہ پڑگیا، جب اشہد ان لا الٰہ الا الله کہا مدینہ کا لرزہ دوبالا ہوا، جب اس لفظ پر پہنچے کہ اشھدان محمدرسول الله کنواری نوجوان لڑکیاں پردوں سے نکل آئیں اور لوگوں میں غل پڑگیا کہ حضور اقدس صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم مزار پر انوار سے باہر تشریف لے آئے، انتقالِ حضور محبوب ذی الجلال صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بعد کسی دن مدینہ منورہ کے مرد وزن میں وہ رونا نہ پڑا تھا جو اس دن ہوا  [1] ؎

درنمازم خم ابروئے تو بریاد آمد                   حالتے رفت کہ محراب بفریاد آمد

(جب آپ کی کمانِ ابرو، مجھے نماز میں یاد آئی، تو بیخودی کی حالت میں مسجد آہ وبکا میں مصروف ہوگئی)

اور نیز وہ حدیث بھی مؤید وجوب ہوسکتی ہے جسے امام ابن عساکر اور امام ابن النجار نے کتاب الدرۃ الثمینہ میں انس رضی الله تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:

مامن احد من امتی لہ سعۃ ثم لم یزرنی فلیس لہ عذر [2]۔

میرا جو امتی باوصف مقدرت میری زیارت نہ کرے اس کے لیے کوئی عذر نہیں۔

حتی کہ بعض ائمہ شافعیہ زیارت شریفہ کو مثل حج فرض بتاتے ہیں، علامہ عبدالغنی بن احمد بن شاہ عبدالقدوس چشتی گنگوہی قدس سرہ شاگر امام علامہ ابن حجر مکی رحمہم الله تعالیٰ سنن الہدیٰ میں فرماتے ہیں:"میں نے اپنے استاذ ابن حجر (ایّد الله الاسلام ببقائہ)کو فرماتے سنا کہ زیارت شریفہ ہمارے بعض اصحاب شافعیہ کے نزدیك مثل حج واجب ہے اور ان کے نزدیك واجب فرض میں کچھ فرق نہیں۔"[3]

بالجملہ قول وجوب من حیث الدلیل اظھر اور نظر ایمانی میں اَحب وازہر ہے اور قریب وجوب کہ علمائے مذاہب اربعہ بلکہ خود امام اعظم رضی الله تعالٰی عنہ کا منصوص اس کے قریب اور حکمًا مقارب، اور قول سنت


 

 



[1] شفاء السقام الباب الثالث مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص٥٣

[2] المواہب اللدنیہ مقصد عاشر فصل ثانی الترغیب فی زیارۃ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم المکتب الاسلامی بیروت ٤/٥٧١

[3] سنن الہدٰی عبدالغنی بن احمد



Total Pages: 836

Go To