Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

توحرج نہیں مگر اس میں یہ کرتی ہیں کہ روزہ آدھی رات تك رکھتی ہیں،شام افطار نہیں کرتیں، آدھی رات کے بعد گھر کے کواڑ کھول کر کچھ دُعا مانگتی ہیں اُس وقت روزہ افطار کرتی ہیں، یہ شیطانی رسم ہے،واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ ٢٧٦: از بلگرام شریف محلہ میدان پورہ مرسلہ حضرت صاحبزادہ سیّد ابراہیم میاں صاحب قادری دامت برکاتہم ٢٣رمضان ١٣١٢ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اعتکاف آخر عشرہ رمضان شریف کا پورے دس روز میں ادا ہوتا ہے یا تین چار روز آخر میں بھی جائز ہے؟ ایك شخص کا بیان ہے کہ مقصود مشروعیت اعتکاف کے واسطے شرف ادراك لیلۃ القدر کی ہے یہ کامل دہ میں حاصل ہوگا، دوسرے شخص کا بیان ہے تین چار روز میں بھی جائز ہے ایسا دیکھا گیا ہے۔

الجواب:

اعتکاف عشرہ اخیرہ کی سنتِ مؤکدہ علیٰ وجہ الکفایہ ہے، جس پر حضور پُر نور سیّد عالم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے مواظبت ومداومت فرمائی پورے عشرہ اخیرہ کا اعتکاف ہے، ایك روز بھی کم ہو تو سنّت ادا نہ ہوگی، ہاں اعتکافِ نفل کے لیے کوئی حد مقرر نہیں، ایك ساعت کا بھی ہوسکتا ہے، اگر چہ بے روزہ ہو۔ ولہذا چاہئے کہ جب نماز کو مسجد میں آئے نیتِ اعتکاف کرلے کہ یہ دوسری عبادت مفت حاصل ہوجائے گی، درمختار میں ہے:

سنۃ مؤکدۃ فی العشر الاخیر من رمضان ای سنۃ کفایۃ کما فی البرھان وغیرہ[1]۔

رمضان کے آخری عشرہ میں سنتِ مؤکدہ ہے یعنی سنّتِ کفایہ ہے،جیسا کہ برہان وغیرہ میں ہے۔(ت)

اسی میں ہے :

واقلہ نفلا ساعۃ من لیل اونھار عند محمد، وھو ظاھر الروایۃ عن الامام لبناء النفل علی المسامحۃ وبہ یفتی والساعۃ فی عرف الفقہاء جزء من الزمان لا جزء من اربعۃ وعشرین کمایقولہ المنجمون

امام محمد کے نزدیك کم سے کم نفلی اعتکاف دن و رات میں ایك گھڑی کا بھی ہوسکتا ہے اورامام اعظم سے بھی ظاہر الروایت میں ہے کیونکہ نفل کی بناء آسانی پر ہے اور اسی پر فتوٰی ہے، عرف فقہا میں ساعت کا مفہوم زمانے کا ایك جزہے نہ کہ چوبیس گھنٹوں میں سے ایك گھنٹہ جو کہ اہل توقیت

 


 

 



[1] درمختار باب الاعتکاف مجتبائی دہلی١/١٥٦



Total Pages: 836

Go To