Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

علی المذھب[1]۔

وُہ عادل ہوں۔(ت)

ردالمحتار میں ہے:

بل فی المعراج لا یعتبر قولھم بالاجماع ولا یجوز للمنجم ان یعمل بحساب نفسہ[2]۔

بلکہ معراج میں ہے کہ نجومیوں کا قول بالاتفاق معتبر نہیں، اور منجم کے لیے اپنے حساب پر بھی عمل کرنا جائز نہیں۔ (ت)

اقول: یہ شرع مطہر عالمِ ماکان ومایکون کےارشادات ہیں عالم امّی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کو معلوم تھا کہ سیر نیرین ضرور اُس عزیز علیم کے حساب مقدر پر ہے ذٰلِکَ تَقْدِیۡرُ الْعَزِیۡزِ الْعَلِیۡمِ ﴿۹۶[3] (یہ سادھا ہے زبردست جاننے والے کا۔ت) اور کیوں نہ معلوم ہوتا حالانکہ انہیں پر نازل ہوا کہ اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ ﴿۪۵[4] (سورج اور چاند حساب سے ہیں۔ت)باایں ہمہ اس عالم حقائق عالم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے درباب رؤیت ہلا ل حساب کویك لخت ابطال واہمال فرمایا کہ حضور جانتے تھے کہ یہ اُن محاسبات قطعیہ سے نہیں جن کا ذکر کریمہ بحسبان میں ہے بلکہ ناقص ونامنضبط متاخرین اہلِ ہیئت کے تخمینات ہیں جن کا تخلف دشوار نہیں، ولہذا امام اہلِ ہیئت بطلیموس نے مجسطی میں با آنکہ ثوابت تك کے ظہور واخفاء کے لیے فصل جداگانہ وضع کی، رؤیت ہلال کا اصلًا ذکر نہ کیا کہ وُہ اصلًا اس کے انضباط پر قادر نہ ہوااور متاخرین نے جو کچھ لکھا اُن شدیدباہمی اختلافات کے بعد(جو مطالعہ شرح مواقف وشرح زیج سلطان وغیرہ سے ظاہر ہیں) خود بھی کوئی ضابطہ صحیحہ نہ بتاسکے اِنۡ یَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ ہُمْ اِلَّا یَخْرُصُوۡنَ ﴿۱۱۶ [5] (وُہ پیچھے نہیں جاتے مگر گمان کے اور وُہ تو نہیں مگر اٹکلیں دوڑاتے ہیں۔ت)کے مصداق رہے، ولہذا منجمین کے ان حسابات میں اکثر خطا پڑی ہے، ابھی چند سال کا ذکر ہے کہ رمضان مبارك جنتریوں میں بلا اشتباہ ٣٠ روز کالکھا تھا اور یہاں سے نقشہ سحری و افطار میں ٢٩ دن کا مہینہ شائع ہوا بفضلہ تعالیٰ ایسی صاف عام رؤیت ٢٩ کی ہوئی جس میں اصلًا اختلاف نہ ہوا، مخالفین میں سے ایك صاحب نے بعض خاص احباب سے کہا میں٢٩ کو نقشہ ہاتھ میں لیے منتظر رہا


 

 



[1] درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ١/١٤٨

[2] ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ٢/١٠٠

[3] القرآن ٦ /٩٦

[4] القرآن ٥٥/٥

[5] القرآن ١٠/٦٦



Total Pages: 836

Go To