Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

ساری سیاہی کو سپیدی گھیر لیتی ہے اور اب اس عمود کی صورت متمیز نہیں رہتی ان صورتوں  پر

(٦)اب یہ سپیدی جس طرح آسمان پر بڑھی زمین کی جانب بھی متوجہ ہوتی اور صحن وبام کو روشن کر دیتی ہے یہ وقت اسفار ہے کہ نماز صبح کا مستحب وقت ہے اور اس پہلے اندھیرے میں پڑھنی خلافِ مستحب۔

(٧) جب آفتاب اور زیادہ قریبِ افق آتا ہے یہ سپیدی سُرخی لاتی ہے پھر سنہرا پن پھر چمکدار سپیدی اُس کے متصل طلوعِ آفتاب ہے، پانچویں شکل جو اجماعی صبح ہے اسے جانے دیجئے، تو چوتھی شکل بھی اس رمضان مبارك اور اس سے پہلے کے متعدد رمضانوں میں بریلی وشاہجہان پور میں تیسری شب کی صبح اُن گھڑیوں سے بھی جو پارسال تك حال کی گھڑیوں سے نومنٹ کم تھیں کبھی کسی دن ٹھیك پانچ بجے بھی نہ ہُوئی اور اخیر تاریخوں میں جو چاہے آزما کر دیکھ لے، سواپانچ بجے تك بھی ہرگزنہ ہوگی تو چار بج کر ٤٠منٹ پر روزہ نہ ہونے کا حکم کیونکہ صحیح ہوسکتا ہے تمیز کے لیے ایك اور پہچان گزارش کروں، آسمان پر چند کواکب سے ایك شکل حرف کاف بنتی ہے اس وضع پر یہ کاف آج کل پچھلی رات کو طالع ہوتا ہے اس سے ایك نیزے کے فاصلے پر ان دنوں بڑا روشن ستارہ زہرہ ہے، بریلی میں صبح کاذب کا عمودآج کل اس کاف کے الف یعنی حصہ و سطانی کے گرد ہوتا ہے اور زہرہ تك پھیلتا ہے پھر زہرہ کے دونوں پہلوؤں سے جنوب و شمال کو صبح صادق تجلی کرتی ہے اس شکل پر، اوقات کے متعلق تجلی کرتی ہے اس شکل پر،

اوقات کے متعلق بیان سے فراغ ہوا۔ رہے مسائل مذکورہ اشتہار، ان میں بھی سخت اغلاط بشدت ہیں، مثلًا:اول ہلالِ رمضان بحال ابر وغبار ایك ثقہ کی گواہی شرط کرنی اس مذہب معتمد و ظاہر الروایۃ مصححہ کے خلاف ہے کہ اجلہ ائمہ مثل امام شمس الائمہ حلوانی وامام برہان الدین فرغانی واما م بزازی وغیرہم نے جس کی تصحیح فرمائی اور نظر بحال زمانہ اس پر اعتماد واجب ہے کہ یہاں شہادت مستور بھی مقبول ہے یعنی جس کا فسق معلوم نہیں اور اس کا ظاہر حال صلاح ہے محررمذہب امام محمد رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے تصریح فرمائی کہ ہلالِ رمضان میں ثقہ وغیر ثقہ دونوں کی شہادت مقبول ہے غیر ثقہ سے وہی مستور مراد جس کی عدالت باطنی مجہول ہے آج کل ثقہ کی کمیابی ظاہر ہے تو اس ظاہرالروایۃ


 

 



Total Pages: 836

Go To