Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

ایضا لصدقۃ الفطر والکفارۃ والنذر وغیرذلك من الصدقات الواجبۃ کما فی القھستانی [1] ۔ اقول: وھو متمش علی تصحیح ما عن ابی یوسف من عدم جواز شئی من الصدقات الواجبۃ لکافر ذمی قال فی الدرلاتدفع (ای الزکوٰۃ) الٰی ذمی وجاز دفع غیرھا وغیرالعشر والخراج الیہ ای الذمی ولو واجباکنذروکفارۃ وفطرۃ خلافا للثانی وبقولہ یفتی حاوی القدسی اھ [2]وفیہ لو دفعھا المعلم لخلیفۃ ان کان بحیث یعمل لہ لولم یعطہ، صح والالا اھ [3] وفی معراج الدرایۃ ثم الھندیۃ وکذا مایدفعہ الی الخدم من الرجال والنساء فی الاعیاد وغیرھا بنیۃ الزکوٰۃ[4]۔

کفارہ ، نذر اور دیگر صدقاتِ واجبہ کا بھی وہی مصرف ہے قہستانی۔اقول: (میں کہتا ہوں۔ت) یہ اس راہ کو اختیار کیا گیا جو امام ابویوسف سے مروی قول کی تصحیح کے مطابق ہے کہ صدقاتِ واجبہ کسی کافر ذمی کو دینا ناجائز ہے۔ درمیں ہے ذمی کو (زکوٰۃ) نہیں دی جاسکتی البتہ زکوٰۃ، عشر اور خراج کے علاوہ صدقات ذمی کودئے جاسکتے خواہ وہ صدقہ واجبہ ہی ہوں مثلًا نذر، کفارہ اور صدقہ فطر، اس میں امام ابویوسف کا اختلاف ہے، امام مذکور کے قول پر حاوی مقدسی نے فتوٰی دیا ہے اھ اور اسی میں ہے اگر معلم نے اپنے خلیفہ کو زکوٰۃ دی اگر وہ اس طرح کام کرتا ہے کہ اگر معلم نہ دیتا تب بھی وہ اس کاکام کرتا ایسی صورت میں دینا درست ہے ورنہ نہیں اھ  اور معراج الدرایہ اور ہندیہ میں ہے اسی طرح حکم ہے اس رقم کا جوبہ نیتِ زکوٰۃ عید وغیرہ کے موقعہ پر خدام مردوں یا عورتوں کو دی جاتی ہے(ت)

صدقاتِ واجبہ زوجین کو بھی نہیں دے سکتے۔اقول: فدیہ نماز و روزہ جب بعد مرگ دیا جائے تو مقتضائے نظر فقہی یہ ہے کہ زوجہ کا فدیہ شوہر فقیر کو فورا اور شوہر کا زوجہ فقیرہ کو بعد عدت گزرنے کے دینا جائز ہو کہ اب زوجیت نہ رہی اور شوہر زوجہ کے مرتے ہی اجنبی ہوجاتا ہے ولہذا اسے مَس جائز نہیں ۔

فی الدرالمختار لایصرف الٰی من بینھا زوجیۃ ولومبانۃ [5] قال الشامی ای

درمختار میں ہے کہ زکوٰۃ ان کو نہ دی جائے جن کے درمیان زوجیت کا تعلق ہوخواہ خاتون کو طلاق بائنہ

 


 

 



[1]  ردالمحتار باب المصرف مصطفی البابی مصر ٢/٦٤

[2] درمختار باب المصرف مجتبائی دہلی ١/١٤١

[3] درمختار باب المصرف مجتبائی دہلی ١/١٤٢

[4] الفتاوی الہندیۃ الباب السابع فی المصارف نورانی کتب خانہ پشاور ١/١٩٠

[5] درمختار باب المصرف مجتبائی دہلی ١/١٤١



Total Pages: 836

Go To