Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

کشف الغطاء میں ہے:

بدانکہ معتبر نزد ماصاع عراقی ست وآں ہشت رطل ست، ورطل بیست استار، واستار چارو نیم مثقال، ومثقال بیست قیراط، وقیراط یك حبّہ وچہار خمس حبہ، وحبہ کہ آنرا بفارسی سُرخ گویند ہشتم حصہ ماشہ است، پس مثقال چہار ونیم ماشہ باشد[1]۔

واضح رہے ہمارے نزدیك عراقی صاع معتبر ہے اور وُہ آٹھ رطل ہے، رطل بیس استار کا ہوتا ہے اور استار ساڑھے چار مثقال کا، مثقال بیس قیراط کا اور قیراط ایك اور حبہ کے چار خمس کا ہوتا ہے، اور حبہ جسے فارسی میں سُرخ کہا جاتاہے وہ ماشہ کا آٹھواں حصّہ ہوتا ہے، لہذا اب مثقال ساڑھے چار ماشے قرار پایا۔(ت)

اسی حساب سے دوسو٢٠٠ درہم نصاب فضّہ کے ساڑھے باون تولہ اور بیس٢٠ مثقال نصاب ذہب کے ساڑھے سات تولے ہوتے ہیں، پس چہارم صاع کی مقدار آٹھ سودس ماشے یعنی ساڑھے سڑسٹھ(٦٧-١/٢) تولے ہوئے اور نیم صاع١٣٥ تولے اور اس انگریزی روپیہ سے ایك سو چالیس روپیہ بھر جہاں سیر سو روپے بھر یعنی ترانوے تولے نوماشے کا ہو جیسے بریلی، وہاں نیم صاع کے کچھ کم ڈیڑھ سیر یعنی ایك سیر سات چھٹانك دوماشے ساڑھے چھ رتی ہوئے، اور ایك صاع کے آدھ پاؤ کم تین سیر اور پانچ ماشے رتی، اور انگریزی سیر سے کہ اسّی روپے بھر یعنی پورے پچھتّر تولے کاہے، اور دہلی ولکھنؤ میں وہی رائج ہے، ساڑھے تین سیر اور ڈیڑھ چھٹانك اور دسواں حصہ چھٹانك کا ریاست رام پور کا سیر چھیانوے روپے یعنی پورے نوّے تولے کا ہے وہاں تین سیر کامل کا ایك صاع وعلی ھٰذا القیاس فی سائر البقاع(اسی قاعدے پر باقی علاقوں کو قیاس کیا جائے۔ت)

(٢و٣) گندم وجَو کے سواچاول دھان وغیرہ کوئی غلّہ کسی قسم کا دیاجائے اُس میں وزن کا کچھ لحاظ نہ ہوگا بلکہ اُسی ایك صاع جَو یا نیم صاع گندم کی قیمت ملحوظ رہے گی اگر اس کی قیمت کے قدر ہے تو کافی مثلًا نیم صاع گیہوں کی قیمت دو٢  آنے ہے تو روپے کے چار سیر والے چاول سے صرف آدھ سیر کافی ہوں گے، اور چالیس سیر والے دھان سے پانسیر دینے ہوں گے، درمختار میں ہے:

مالم ینص علیہ کذرۃ وخبز یعتبر فیہ القیمۃ[2] ۔

وُہ چیزیں جن پر نص مذکورہ نہیں مثلًا باجرہ اور روٹی، توان میں قیمت کا اعتبار ہے(ت)

 


 

 



[1] کشف الغطاء فصل دراحکام دعا وصدقہ و نحو ان از اعمال خیربرائے میت مطبع احمدی، دہلی ص٦٨

[2] الدرالمختار، باب صدقۃ الفطر ،مجتبائی دہلی ،١/١٤٥



Total Pages: 836

Go To