Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

تو صرف ایك کی گواہی مسموع نہ ہونی چاہئے جب تك جنگل میں یا بلند مکان پر دیکھا نہ بیان کرے ورنہ ایك کی شہادت اور اس کی شہادت پر بھی صرف ایك ہی شاہد اگر چہ کنیز مستورۃ الحال ہو بس ہے، اور باقی مہینوں میں یہ توہمیشہ ضرور ہے کہ ہر گواہ کی گواہی پر دو٢ مرد یا ایك مرد دو عورت عادل گواہ ہوں اگر چہ یہی دو مرد اُن دواصل میں ہر ایك کے شاہد ہوں مثلًا جہاں عیدین میں صرف دو٢عادلوں کی گواہی مقبول ہے زید وعمر و دو٢ عادلوں نے چاند دیکھا اور ہر ایك نے اپنی شہادت پر بکر و خالد دومرد عادل کو گواہ کر دیا کہ یہاں آکر بکر اور خالد ہر ایك نے زید و عمر و دونوں کی گواہی پر گواہی دی کافی ہے یہ ضرور نہیں کہ ہر گواہ کے جُداجُدا دو٢ گواہ ہوں، اور یہ بھی جائز ہے کہ ایك اصل خود آکر گواہی دے اور دوسرا گواہ اپنی گواہی پر دو گواہ جد اگانہ کر بھیجے، ہاں یہ جائز نہیں کہ ایك گواہ اصل کے دو٢ گواہ ہوں اور انہیں دونوں میں سے ایك خود اپنی شہادت ذاتی بھی دے۔درمختار میں ہے:

الشہادۃ علی الشہادۃ مقبولۃ وان کثرت استحسانا فی کل حق، علی الصحیح، الافی حد وقود بشرط تعذر حضورالاصل بمرض اوسفر و اکتفی الثانی بغیبتہ بحیث یتعذران یبیت باھلہ واستحسنہ غیر واحد، وفی القہستانی والسراجیۃ وعلیہ الفتوٰی واقرہ المصنف اوکون المرأۃ مخدرۃ لاتخالط الرجال وان خرجت لحاجۃ وحمام،قنیۃ، عندالشہادۃ عند القاضی قید للکل، وبشرط شہادۃ عددنصاب ولو رجلا وامرأتین عن کل اصل، ولوامرأۃ، لاتغایر فرعی ھذاوذاک، وکیفیتھا ان یقول الاصل مخاطبا للفرع ولوابنہ، بحر، اشھد علی شہادتی انی اشھد بکذا ویقول الفرع اشھد ان فلانا اشھد نی علی شہادتہ بکذا وقال لی اشھد علٰی شھادتی

گواہی مقبول ہے اگر چہ یکے بعد دیگر ے کتنے ہی درجے تك پہنچے مثلًاگواہانِ اصل نے زید و عمر و کو گواہ بنایا انہوں نے اپنی اس شہادت علی الشہادت پر بکر و خالد کو گواہ کردیا خالد نے اپنی اس شہادت علی الشہادت پر سعید و حمید کو شاہد بنالیا وعلٰی ھذاالقیاس)اور مذہب صحیح پر یہ امر حدود و قصاص کے سوا ہر حق میں جائز ہے اس شرط سے کہ جس وقت قاضی کے حضور ادائے شہادت ہُوئی اُس وقت وہاں اصل گواہ کا آنا مرض یا سفر یا زن پر دہ نشین ہونے کے باعث متعذر ہواور امام ابی یوسف کے نزدیك تین منزل دُور ہونا ضرور نہیں بلکہ اتنی دُوری کافی ہے کہ گواہی دے کر رات کو اپنے گھر نہ پہنچ سکے بکثرت مشائخ نے اس قول کو پسند کیا اور قہستانی و سراجیہ میں ہے کہ اسی پر فتوٰی ہے۔ مصنّف نے اسے مسلّم رکھا اورعورت کی پردہ نشینی یہ کہ مردوں کے مجمع سے بچتی ہو اگر چہ اپنی کسی ضرورت کے لیے باہر نکلے یا حمام جائے، ایسا ہی قنیہ میں ہے۔ اور یہ بھی شرط ہے کہ ہر اصل

 


 

 



Total Pages: 836

Go To