Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

و صدقہ دو آدمی یاسہ آدمی از غلام و پسر صغیر باشد یا غیر آں دادہ نہ شود پس صدقہ کسانے کہ ادا کردہ شد شرعًا صحیح ودرست خواہد شد یانہ؟بیّنوا بالکتاب توجروایوم الحساب۔

سات افراد کا ہوگا یا آٹھ کا،دو آدمیوں یا تین غلام اور چھوٹے بچّوں کا صدقہ نہ دیاہو، جن اشخاص کا صدقہ دیا ہے وہ شرعًا درست ہوگا یانہیں؟
کتاب سے جواب دے کر روزِ حساب اجر پاؤ۔(ت)

الجواب:

ہر چہ مؤدی از اطفال صغار خود ادا کردادا شد کہ وجوب ہم بروست نہ بر اطفال وانچہ از زوجہ و اولاد کبارعاقلین داداگر باذن ایشاں بود نیز از ایشاں ادا شد ورنہ نے فی ردالمحتار عن البحرلوادی زکوٰۃ غیرہ بغیر امرہ فبلغہ فاجازلم یجز لانھا وجدت نفاذاعلی المتصدق لانھا ملکہ ولم یصرنائبا عن غیرہ فنفذت علیہ ولو تصدق عنہ بامرہ جاز[1] (ملخصًا)واﷲ تعالیٰ سبحٰنہ اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔

چھوٹے بچّوں کی طرف سے جواد اکیا وُہ ادا ہوجائے گا کیونکہ وہ واجب ہی والد پر تھا۔ اور جو بیوی اور بڑی اولاد کی طرف سے ادا کیا اگر ان کا اذن تھا تو بھی ادا ہوجائیگا اور اگر اذن نہ تھا تو صدقہ ادانہ ہوگا۔ ردالمحتار میں بحر سے ہے: اگر کسی نے دوسرے کی طرف سے اس کی اجازت کے بغیر زکوٰۃ ادا کردی پھر دوسرے تك خبر پہنچی اور اس نے اسے جائزبھی رکھا تب بھی زکوٰۃ ادا نہ ہوگی کیونکہ اس کا نفاذ صدقہ کرنے والے پر ہے،کیونکہ وُہ زکوٰۃ اس کی ملکیت ہے اور غیر سے نائب بن نہیں سکتا کہ اس کی اجازت کا نفاذ ہو، ہاں اگر اجازت سے زکوٰۃ ادا کی ہو تو پھر جائز ہوگا(ملخصًا) واﷲتعالیٰ سبحانہ اعلم و علمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت)

مسئلہ ١٣٨:             ٢٨ جمادی الاول ١٣٢٥ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زکوٰۃ اور صدقہ فطر کا نصاب برابر ہے یا کچھ فرق ہے؟بینواتوجروا۔

الجواب :

مقدار نصاب سب کے لیے ہے کچھ فرق نہیں، ہاں زکوٰۃ میں مال نامی ہونا شرط ہے کہ سونا چاندی،چرائی پر چھوٹے جانور ،تجارت کا مال ہے وبس، اور سال گزرنا شرط ہے، صدقہ فطر و قربانی میں یہ کچھ


 

 



[1] ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ مصطفی البابی مصر ٢/١٢



Total Pages: 836

Go To