Book Name:Fatawa Razawiyya jild 9

روح میّت بحال ممات بےعود حیات صاحب ادراکات تھی۔ اب معتزلہ صالحیہ میں جا ملے۔ مفر کدھر، کیا یاد کروگے کہ کسی سے پا لا پڑا تھا، ہاں مفراس میں تھا کہ ان سب اقوال وابحاث کو دربارہ بدن مانئے اور روح کو ان تمام بر دومات سے پاك وصاف جانیے، بدن ہی کو مشائخ مردہ وبے فہم کہتے اور اسی کے سماع بحال موت سے انکار رکھتے ہیں، اب ٹھکانے سے آ گئے مگر ہیہات کہا تم اور کہا حق کا قول واﷲ المستعان علی کل متکبر جھول (ہر متکبر جاہل کے برخلاف اﷲ تعالٰی حامل ومدد گار ہے۔ ت)

ثالثا صریح جھوٹے ہو، کلام مشائخ میں نشان تخصیص مفقود، بلکہ ان کے بطلان پر تنصیص موجود ، کیا انھوں نے موت کو منافی ادراك بتاکر شبہ عذاب قبر وارد نہ کیا؟ کیا عود حیات سے اس کا جواب نہ دیا؟ کیا خود ملا تفہیمی نے اپنی پاؤں میں تیشہ زنی کو نہ کہا کہ:

مقصود فقہاء ازنفی سماع دریں مقام نفی سماع عرفی و حقیقی ہر دو ست زیرا کہ فقہا نفی سماع مطلق کردہ اند نہ بتقیید عرف واگر نفی صرف سماع عرفی نہ حقیقی مقصود می بود حاجت جواب دادن از مسئلہ عذاب قبر نبود وتوجیہ کردن دیگر وقائع کہ برسماع موتٰی دال است فھل ھذا الا توجیہ بما لایرضٰی بہ قائلہ [1]۔

اس مقام پر نفی سماع سے فقہاء کا مقصود سماع عرفی وحقیقی دونوں کی نفی ہے اس لیے کہ فقہا نے سماع کی نفی مطلق کی ہے نہ کہ عرف کی جگہ قید لگا کر۔ اگر حقیقی نہیں ـ صرف عرفی سماع کی نفی مقصود ہوتی تو مسئلہ عذاب قبرکا جواب دینے کی ضرورت نہ تھی اور وسرے وقائع جو سماع موتی پر دلالت کرتے ہیں نہ ان کی توجیہ کی ضرورت تھی یہ ایسی توجیہ ہے جس پر اس کا قائل راضی نہ ہو (ت)

توقطعًا ثابت کہ وہ اس موت کو منافی مطلق ادراك مانتے اور اس کے ہوتے امور برزخ کا ادراك بھی منتفی جانتے ہیں تو جب کلام روح پر محمول ہوا قطعًا آفت اعتزال سے نامعزول ہوا۔

عائدہ ثالثہ: بحمد ﷲ تعالٰی یہاں سے واضح ہواکہ عدم ادراك امور دینویہ میں عذر باطل حجاب وحائل خشت و گل، اور ملا تفہیمی صاحب کا عذر طمطراق اشتغال واستغراق کہ صفحہ ٦٢ و ٦٣ میں لکھا:

ارواح طیبہ مجردہ ازابدان بہ جہت اشتغال عبادت رب حقیقی واستغراق بہ کیفیت آں التفات باکوان و حوادث این عالم ندارند [2]۔

اجسا م سے مجرد ارواح طیبہ رب حقیقی کی عبادت میں اشتغال اور اس کی کیفیت میں استغراق کے باعث اس دنیا کے موجودات وحوادث کی جانب التفات نہیں رکھتیں۔ (ت)

 


 

 



[1] تفہیم المسائل عدم سماع موتٰی از کتب حنفیہ مطبع محمدی لاہور ص٨٣

[2] تفہیم المسائل استمداد از صاحب قبر مطبع محمدی لاہور ص ۵۸



Total Pages: 948

Go To