Book Name:Fatawa Razawiyya jild 9

یہ تینوں جواب بتوفیق الوہاب قبل مطالعہ کلام علماء ذہن فقیر میں آئے تھے، پھر ان کی تصریحیں کلمات علماء میں دیکھیں کما سمعت وﷲ الحمد (جیسا کہ آپ نے سنا اور اﷲ ہی کے لیے حمدہے۔ ت) اورا بھی ائمہ علماء کے جواب اور بھی ہیں:

وفیما ذکرنا کفایۃ لمن القی السمع وھو شہید ان اﷲ یسمع من یشاء ویھدی الٰی صراط الحمید۔

اور جو ہم نے بیان کیا وہ کافی ہے اس کے لیے جو کان لگائے اور متوجہ ہو۔ بیشك اﷲ جسے چاہتا ہے سناتا ہے اور ذات حمید کے راستے کی ہدایت دیتا ہے (ت)

مخالفت (٩): سائل نے مطلق کہا تھا ایك بزرگ کے مزار شریف پر واسطے زیارت کے گیا جو اپنے ارسال و اطلاق سے شہر میں جانے اور سفر کرکے جانے دونوں کو شامل ، کما لایخفی (جیسا کہ مخفی نہیں۔ ت) اور آپ نے بھی یو نہی برسبیل اطلاق زیارت قبور کی تحسین فرمائی او سند میں حدیث بھی وہ ذکر کی جس میں امربزیارت مطلق وارد۔ یہ اطلاقات مذہب جمہور اہل حق سے تو بیشك موافق، مگر مشرب طائفہ میں آپ پر لازم تھا کہ بلاسفر کے قید لگادیتے، ورنہ سائل ودیگر ناظرین اگر اطلاق دیکھ کر زیارت مزارات کو جانا مطلق جائز سمجھے تو مانعین کے نزدیك ان کا یہ وبال اطلاق فتوٰی کے ذمہ رہے گا۔

المقصد الثانی فی الاحادیث

(مقصد دوم احادیث میں)

اگرچہ حیات و ادراك وسماع وابصار ارواح میں احادیث وآثار اس درجہ کثرت ووفور سے وارد جن کے استیعاب کو ایك مجلد عظیم ودفترِ ضخیم درکار اورخود ان کے احاطہ واستقصا کی طرف راہ کہاں، مگر یہاں بقدر حاجت صرف ساٹھ حدیثوں پر اقتصار اور مثل مقصد اول اس میں بھی دونوں پر انفسامِ گفتار۔

نوع اول: بعد موت بقائے روح وصفات وافعال روح میں، یہاں وہ حدیثیں مذکو ر ہوں جن سے ثابت کہ روح فنا نہیں ہوتی اور اس کے افعال وادر اکات جیسے دیکھنا، بولنا، سننا، آنا جانا، چلنا پھرنا، سب بدستور رہتے ہیں، بلکہ اس کی قوتین بعد مرگ اور صاف وتیز ہوجاتی ہیں، حالت حیات میں جو کام ان آلاتِ خاکی یعنی آنکھ، کان، ہاتھ، پاؤں، زبان سے لیتے تھے اب بغیر ان کے کرتی ہے۔ اگر چہ جسم مثالی کی یاد آوری سہی، ہر چند اس مطلب نفیس کے ثبوت میں وہ بے شمار احادیث وآثار سب حجۃ کا فیہ دلائل شافیہ جن میں :

(١) بعد انتقال عقل وہوش بدستور رہنا۔ (٢) روح کا پس ازمرگ آسمانوں پر جانا۔


 

 



Total Pages: 948

Go To