Book Name:Fatawa Razawiyya jild 9

 

 

 

 

رسالہ

جَلِیُّ الصَّوْت لِنَھْیِ الدَّعْوَۃِ اَمَامَ مَوْت  ١٣٠٩ھ

( کسی موت پر دعوت کی ممانعت کا واضح اعلان)

 

مسئلہ ٢٦٦: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر بلاد ہندیہ میں رسم ہے کہ میّت کے روز وفات سے اس کے اعزہ واقارب واحباب کی عورات اس کے یہاں جمع ہوتی ہیں، ا س اہتمام کے ساتھ جو شادیوں میں کیا جاتا ہے ۔ پھر کچھ دوسرے دن اکثر تیسرے دن واپس آتی ہیں، بعض چالیس دن تك بیٹھتی ہیں، اس مدت اقامت میں عورات کے کھانے پینے، پان چھالیا کا اہتمام اہل میّت کرتے ہیں جس کے باعث ایك صرف کثیر کے زیر بارہوتے ہیں، اگر اس وقت ان کا ہاتھ خالی ہو توا س ضرورت سے قرض لیتے ہیں، یوں نہ ملے توسودی نکلواتے ہیں، اگر نہ کریں تومطعون و بدنام ہوتے ہیں، یہ شرعًا جائز ہے کیا؟ بینوا توجروا

الجواب:

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

الحمد اﷲ الذی ارسل نبینا الرحیم الغفور بالرفق والتیسیر واعدل الامور فسن الدعوۃ عند السرور دون الشرور صلی اﷲ

سب خوبیاں اﷲ کے لیے جس نے ہمارے رحم کرنے بخشنے والے نبی کر نرمی وآسانی کے ساتھ بھیجا اور کاموں میں اعتدال رکھا، تو دعوت کا طریقہ سرور کے

 


 

 



Total Pages: 948

Go To