Book Name:Fatawa Razawiyya jild 9

قرآن واطعام طعام۔ طریقہ مرّوجہ میں ثواب پہنچانے کی دعا اس وقت کرتے ہیں جب کہ کھانا دینے کی نیت کرلی۔ اور کچھ قرآن عظیم پڑھ لیا تو کم سے کم گیارہ ثواب اس وقت مل سکے۔ د س ثواب قراءت کے اور ایك نیتِ اطعام کا۔ کیا انھیں میّت کو نہیں پہنچاسکتے؟ رہا کھانا دینے کا ثواب ۔ وہ اگر چہ اس وقت موجود نہیں تو کیا ثواب پہنچانا شاید ڈاك یاپارسل میں کیسی چیز کا بھیجنا ہوگا جب تك وہ شے موجود نہ ہوکیا بھیجی جائے۔ حالانکہ اس کا طریقہ صرف جناب باری میں دعا کرنا ہے کہ وہ ثواب میّت کو پہنچائے ، خود امام الطائفہ صراط مسقیم میں لکھتا ہے :

"طریق رسانیدن آں دُعا بجناب الٰہی ست"[1] (اس کے پہنچانے کا طریقہ جناب الٰہی میں دعا ہے۔ ت)

کیا دعا کرنے کے لیے بھی اُس شے کا موجودفی الحال ہونا ضروری ہے۔ مگر ہے یہ کہ جہالت سب کچھ کراتی ہے، اور وقتِ فاتحہ کھانے کا قاری کے پیش نظر ہونا اگر چہ بیکار بات ہے مگر اس کے سبب سے وصولِ ثواب یا جواز فاتحہ میں کچھ خلل نہیں۔ جو اسے ناجائز وناروا کہے، ثبوت اس کا دلیل شرعی سے دے ورنہ اپنی طرف سے بحکم خدا ورسول کسی چیز کو ناروا کہہ دینا خدا ورسول پر افتراء کرنا ہے۔ ہاں اگر کسی شخص کایہ اعتقاد ہے کہ جب تك کھانا سامنے نہ کیاجائے گا ثواب نہ پہنچے گا، تویہ گمان اس کا محض غلط ہے۔ لیکن نفسِ فاتحہ میں اس اعتقاد سے بھی کچھ حرف نہیں آتا۔ ومن ادعی فعلیہ البیان (اور جو دعوٰی کرے بیان اس کے ذمہ۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم

__________________


 

 



[1] صراط مسقیم ہدایت ثانیہ درذکر بدعا تیکہ الخ المکتبہ السلفیہ لاہور ص٥٥



Total Pages: 948

Go To