Book Name:Fatawa Razawiyya jild 9

 

 

رسالہ

الحرف الحسن فی الکتابۃ علی الکفن ١٣٠٨ھ

(کفن پر لکھنے کے بارے میں عمدہ گفتگو )

 

 

مسئلہ نمبر۱۵:          ازمارہرہ مطہرہ باغ پختہ مرسلہ حضرت صاحبزادہ سیّد محمد ابراہیم                    ۹ رجب ۱۳۰۸ ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پارچہ کفن جو اماکنِ متبرکہ سے آئے اوراس پر آیاتِ کلام اﷲ واحادیث وغیرہ لکھی ہوں وہ میّت کو  پہنانا کیسا ہے اور شجرہ قبر میں رکھنا کیسا ہے؟بینوا توجروا

الجواب:

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم

الحمدﷲ الذی سترنابذیل کرمہ فی حیاتنا وبعد الممات وفتح علینا فی التوسل بایاتہ وشعائرہ ابواب البرکات والسلام علی من تبرك باٰثارہ الکریمۃ الاحیاء والاموات وحی ویحیی بامطار فیوضہ العظیمۃ کل موات وعلی اٰلہ وصحبہ واھلہ وحزبہ

سب خوبیاں اﷲ کے لئے جس نے اپنے دامنِ کرم سے ہمیں ہماری زندگی میں اور مرنے کے بعد بھی چھپایا،اور اپنی آیات وشعائر سے توسّل میں ہمارے اوپر برکتوں کے دروازے کھولے—اور درود وسلام ہو ان پر جن کے آثار گرامی سے زندے اور مردے سبھی نے برکت حاصل کی اور جن کے عظیم فیوض کی بارشوں سے ہربےجان کو زندگی ملی اور ملتی ہے اور(درود وسلام ہو)ان کی آل،اصحاب، اہل اور جماعت پر،

 


 

 



Total Pages: 948

Go To