Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

ہوجائے گا اور تمام احکامِ مسجد کااستحقاق پائے گا۔ فتاوٰی قاضی خاں وفتاوٰی ذخیرہوفتاوٰی علمگیریوغیرہا میں ہے

رجل لہ ساحۃ امر قوما ان یصلوافیھا بجماعۃان قال صلوا فیھاابداا وامرھم بالصلٰوۃ مطلقا و نوی الابدصارت الساحۃ مسجدا لو مات لا یورث عنہ [1] اھ ملخصًا

ایك آدمی کی کُھلی جگہ ہے لوگوں سے کہتا ہے کہ یہاں نماز اداکرو، اب اگر اس نے یہ کہاکہ یہاں ہمیشہ تم نماز پڑھو، یا اتنا کہا نماز پڑھو مگر نیّت ہمیشہ کی ،تو وہ جگہ مسجد کہلائے گی _____ اگر وُہ فوت ہو جاتا ہے تو وہ زمین وراثت میں شامل نہ ہو گی اھ ملخصًا(ت)

پھر مسقف وغیرہ مسقف میں فرق کرنا اسے مسجد اسے فناء مسجد ٹہرانا محض بے معنی۔

ثانیًا  ہر عاقل جانتا ہے کہ مسجد و معبد ہو یا مسکن ومنزل ہر مکان کو بلحاظ اختلافِ موسم دو حصّوں پر تقسیم کرنا عادات مطردئہ بنی نوع انسان سے ہے جس پر معظم معمورۃ الارض میں تمام اعصاروا امصار کے لوگ اتفاق کئے ہوئے ہیں ایك پارہ مسقف کرتے ہیں کہ برف وبارش وآفتاب سے بچائے، دوسرا کُھلا رکھتے ہیں کہ دھوپ میں بیٹھنے ، ہوا لینے، گرمی سے بچنے کے کام آئے ، زبانِ عرب میں اوّل کو شتوی کہتے ہیں اور دوم کو صیفی کما افادہ العلامۃ بدرالدین محمود العینی فی کتاب الایمان من البنایۃ شرح الھدایۃ (جیسا کہ علامہ بدرالدین محمودعینی نے بنایہ شرح الہدایہ کے کتاب الایمان میں تصریح کی ہے ۔ت) یہ دونو ں ٹکڑے قطعًا اس معبد یا منزل کے یکسا دو٢ جزء ہوتے ہیں جن کے باعث وہ مکان ہر موسم میں کام کا ہوتا ہے اور بالیقین مساجد میں صحن رکھنے سے بھی واقفین کی یہی غرض ہوتی ہے ورنہ اگر صرف شتوی یعنی مسقف کو مسجد اور صیفی یعنی صحن کو خا رج ازمسجد ٹھہرائے تو کیا واقفین نے مسجد صرف مو سم سرماو عصرین گرما کے لئے بنائی تھی کہ ان اوقات میں تو نماز مسجد میں ہو باقی زمانوں میں نمازوں اعتکاف کے لئے مسجد نہ ملے یا ان کا مقصو د یہ جبر کرنا تھا کیسی ہی حبس و حرارت کی شدت ہو مگر ہمیشہ مسلمان اسی بند مکان میں نماز پڑھیں، معتکف رہیں، ہوا ا و ر راحت کا نام نہ لیں، یا انھیں دُنیا کا حا ل معلوم نہ تھا کہ سال میں بہت اوقات ایسے آتے ہیں جن میں آدمی کو درجہ اندرونی میں مشغولِ نماز و تراویح و اعتکاف ہونا درکنار دم بھر کو جانا ناگوار ہو تا ہے ، اور جب کچھ نہیں تو بالجزم ثابت کہ جس طرح انھوں نے اپنے چین کے لئے مکانِ سکونت میں صحن و دالان دونوں درجے رکھے ہیں یو نہی عام مسلمان کی عام اوقات میں آسائش و آرام کے لئے مسجد کو بھی انہی دو٢ حصّوں پر تقسیم کیا۔


 

 



[1] فتاوٰی ہندیۃ الباب الحادی عشرفی المسجد ومایتعلق بہ مطبوعہ مطبع نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ٢٥٥



Total Pages: 673

Go To