Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

صحنِ مسجد قطعًاجزیہ مسجد ہے جس طرح صحنِ دار جزءِ دار ، یہا ں تك کہ اگر قسم کھائی زیدکے گھر نہ جاؤں گا ، اور صحن میں گیا بیشك حانث ہو گا کما یظھر من الھدایۃ والھندیۃ والدرالمختار وردالمختار و عامۃ الاسفار (جیسا کہ ہدایہ ، ہندیہ ، دُرمختار ، ردالمختاراور عام کتب میں ہے ، ت) اسی طرح اگر قسم کھائی مسجد سے باہر نہ جاؤں گا اور صحن میں آیا ہر گزحانث نہ ہو ا ، ولہذا معتکف کو صحن میں آنا جانا بیٹھنا رہنا یقینا روا ، یہ مسئلہ اپنی نہا یت وضا حت وغایت شہرت سے قریب ہے کہ بدیہیات اولیہ سے ملتحق ہو ، جس پر تما م بلادمیں عام مسلمین کے تعامل وافعال شاہد عدل ، جن کے بعد اصلًااحتیاج دلیل نہیں ، ہاں جو دعوٰی خلاف کرے اپنے دعوے پر دلیل لا ئے ، اور ہر گز نہ لاسکے گا   حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِؕ-   (یہا ں تك کہ اونٹ سو ئی کے سوراخ میں داخل ہو جائے۔ ت) مدعیِ خلاف نے کہ صحنِ مسجد کے مسجد نہ ہونے پر دو دلیلیں پیش کیں ، ایك عام جس میں دلیل کی صورت بھی نہیں بلکہ محض دعوٰی ہے دلیل ہے دوسری خا ص مساجد سورت سے متعلق دونو ں محض باطل و زاہق۔ فقیر غفراﷲتعالٰی اس مسئلہ واضحہ کی ایضا ح کو بحکم ضرورت صرف دس وجہیں ذکرکرتا ہے جن سے حکم انجلائے تام پائے اور دونو ں دلیل خلاف کا ازالہ وہام ہو جائے ، اسی کے ضمن میں اِن شاء اﷲ تعالٰی تمام مراتب سوال کا جواب منکشف ہو جائے گا۔

فاقول : وباﷲالتوفیق وافاضۃالتحقیق(میں کہتا ہوں اﷲتعالٰی ہی تو فیق اور تحقیق عطا کرنے والا ہے ،

اوّلا : مسجد اس بُقعہ کا نام ہے جو بغرض نمازِ پنجگانہ وقف خالص کہا گیا وتمام تعریفہ مع فوائد قیودہ فی الوقف من کتابنا العطایاالنبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ(مسجد کی کامل تعر یف اور اس کے تمام قیود کے فوائدکی تفصیل ہما رے فتاویـــــ “ العطایا النویہ فی الفتاوی الرضویۃ “ کے باب الوقف میں ملاحظہ کیجئے۔ ت) یہ تعریف با لیقین صحن کو بھی شامل 'اور عمارات و بنایا سقف وغیرہ ہر گز اس کی ماہیت میں داخل نہیں یہاں تك کہ اگر عمارت اصلًا نہ ہو صرف ایك چبوترہ یا محدودمیدان نماز کے لئے وقف کردیں قطعًا مسجد ہوجائے گا اور تمام احکامِ مسجد کااستحقاق پائے گا۔ فتاوٰی قاضی خاں وفتاوٰی ذخیرہوفتاوٰی علمگیریوغیرہا میں ہے

رجل لہ ساحۃ امر قوما ان یصلوافیھا بجماعۃان قال صلوا فیھاابداا وامرھم بالصلٰوۃ مطلقا و نوی الابدصارت الساحۃ مسجدا لو مات لا یورث عنہ [1] اھ ملخصًا

ایك آدمی کی کُھلی جگہ ہے لوگوں سے کہتا ہے کہ یہاں نماز اداکرو ، اب اگر اس نے یہ کہاکہ یہاں ہمیشہ تم نماز پڑھو ، یا اتنا کہا نماز پڑھو مگر نیّت ہمیشہ کی ، تو وہ جگہ مسجد کہلائے گی _____ اگر وُہ فوت ہو جاتا ہے تو وہ زمین وراثت میں شامل نہ ہو گی اھ ملخصًا(ت)

پھر مسقف وغیرہ مسقف میں فرق کرنا اسے مسجد اسے فناء مسجد ٹہرانا محض بے معنی۔

ثانیًا  ہر عاقل جانتا ہے کہ مسجد و معبد ہو یا مسکن ومنزل ہر مکان کو بلحاظ اختلافِ موسم دو حصّوں پر تقسیم کرنا عادات مطردئہ بنی نوع انسان سے ہے جس پر معظم معمورۃ الارض میں تمام اعصاروا امصار کے لوگ اتفاق کئے ہوئے ہیں ایك پارہ مسقف کرتے ہیں کہ برف وبارش وآفتاب سے بچائے ، دوسرا کُھلا رکھتے ہیں کہ دھوپ میں بیٹھنے ، ہوا لینے ، گرمی سے بچنے کے کام آئے ، زبانِ عرب میں اوّل کو شتوی کہتے ہیں اور دوم کو صیفی کما افادہ العلامۃ بدرالدین محمود العینی فی کتاب الایمان من البنایۃ شرح الھدایۃ (جیسا کہ علامہ بدرالدین محمودعینی نے بنایہ شرح الہدایہ کے کتاب الایمان میں تصریح کی ہے ۔ ت) یہ دونو ں ٹکڑے قطعًا اس معبد یا منزل کے یکسا دو٢ جزء ہوتے ہیں جن کے باعث وہ مکان ہر موسم میں کام کا ہوتا ہے اور بالیقین مساجد میں صحن رکھنے سے بھی واقفین کی یہی غرض ہوتی ہے ورنہ اگر صرف شتوی یعنی مسقف کو مسجد اور صیفی یعنی صحن کو خا رج ازمسجد ٹھہرائے تو کیا واقفین نے مسجد صرف مو سم سرماو عصرین گرما کے لئے بنائی تھی کہ ان اوقات میں تو نماز مسجد میں ہو باقی زمانوں میں نمازوں اعتکاف کے لئے مسجد نہ ملے یا ان کا مقصو د یہ جبر کرنا تھا کیسی ہی حبس و حرارت کی شدت ہو مگر ہمیشہ مسلمان اسی بند مکان میں نماز پڑھیں ، معتکف رہیں ، ہوا ا و ر راحت کا نام نہ لیں ، یا انھیں دُنیا کا حا ل معلوم نہ تھا کہ سال میں بہت اوقات ایسے آتے ہیں جن میں آدمی کو درجہ اندرونی میں مشغولِ نماز و تراویح و اعتکاف ہونا درکنار دم بھر کو جانا ناگوار ہو تا ہے ، اور جب کچھ نہیں تو بالجزم ثابت کہ جس طرح انھوں نے اپنے چین کے لئے مکانِ سکونت میں صحن و دالان دونوں درجے رکھے ہیں یو نہی عام مسلمان کی عام اوقات میں آسائش و آرام کے لئے مسجد کو بھی انہی دو٢ حصّوں پر تقسیم کیا۔

ثالثًا : اب نمازیوں سے پو چھئے آپ اذان سن کر گھر سے کس ارادہ پر چلتے ہیں ، یہی کہ مسجد میں نماز پڑھیں گے یا کچھ اور ، قطعًا یہی جواب دیں گے کہ مسجد میں نماز پڑھنے آتے ہیں ، اب دیکھئے کہ وہ موسم گرما میں فجر و مغرب وعشاء کی نمازیں کہاں پڑھتے ہیں اور اُن کے حفّاظ قرآن مجید کہاں سناتے ہیں اور اُن کے معتکف کہاں بیٹھتے اور ذکر وعبادت میں مشغول رہتے ہیں ، خو دہی کھل جائے گا کہ مسلمانوں نے صحن کو بھی مسجد سمجھاہے یا نہیں تو مسجدیت صحن سے انکار اجماع کے خلاف۔

رابعًا : بلکہ غور کیجئے تو جو صاحب انکار رکھتے ہیں خود اُنہی کے افعال اُن کی خطا پر دال ، اگر وہ مسجدمیں نماز پڑھنے آتے ہوں تو لاجرم مو سم گرما میں عام مسلمانوں کی طرح صحن ہی پر پڑھتے ہوں گے پھر ان سے پوچھئے آپ گھر چھوڑ کر غیر مسجد میں نماز پڑھنے کیوں آئے ، اور جب یہ مسجد نہیں تو یہاں نماز پڑھنے میں کیا فضیلت سمجھی ، فضیلت درکنار داعی اﷲکی اجابت کب کی ، اور حدیث لاصلٰوۃلجارالمسجدالافی المسجد [2])مسجد کے پڑوسی کی نماز ، مسجد کے علاوہ نہیں ہو سکتی۔ ت)کی تعمیل کہاں ہوئی اور سنتِ عظیمہ جلیلہ کس واسطے چھوڑی ، کہا کو ئی ذی عقل مسلمان گوارا کرے گا کہ مکان چھوڑ کر آوازِ آذان سُن کر نماز کو جائے اور مسجد ہو تے ساتے مسجد میں نہ پڑھے بلکہ اس کے حریم و حوالی میں نماز پڑھ کر چلا آئے ، کیا اہل عقل ایسے شخص کو مجنون نہ کہیں گے ، تو ا نکار والوں کا قو ل وفعل قطعًا متناقض ، اگر یہ عذر کریں کہ جہاں امام نے پڑھی مجبوری ہیں پڑھنی ہوئی ہے تو محض بیجا و نا معقول وناقابل قبول ، آپ صاحبوں پر حقِ مسجد کی رعایت اتباعِ جماعت سے اہم و اقدم تھی ، جب آپ نے دیکھا کہ سب اہل جماعت مسجد چھوڑ کر غیر مسجد میں نماز پڑھتے ہیں آپ کو چاہئے تھا خود مسجد میں جاکر پڑھتے ، اگر کوئی مسلمان آپ کا ساتھ دیتا جماعت کرتے ورنہ تنہا ہی پڑھتے کہ حقِ مسجد سے ادا ہوتے۔ یہاں تك علما اس تنہا پڑھنے کو دوسری مسجد میں باجماعت پڑھنے سے افضل بتاتے ہیں نہ کہ غیر مسجد میں ۔ فتاوٰی امام قاضی خاں پھر خزانۃ لمفتین پھر ردلمحتار وغیرہ میں ہے۔

 



[1]       فتاوٰی ہندیۃ الباب الحادی عشرفی المسجد ومایتعلق بہ مطبوعہ مطبع نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /  ٢٥٥

     [2] مستدرك حاکم کتاب الصّلوٰۃ لاصلوٰۃلجارالمسجدالخ مطبوعہ دارالفکربیروت ۲۴۶ /  ۱



Total Pages: 262

Go To