Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

 

 

 

 

اوفی اللمعۃ فی اذان یوم الجمعۃ ١٣٢٠ھ

(اذانِ جمعہ کے بارے میں کامل رہنمائی)

 

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم 

مسئلہ ۱۴۱۱: از ملك بنگالہ موضع شاکو چپل ضلع سہلٹ ڈاکخانہ جگدیش پور مرسلہ مولوی ممتاز الدین صاحب ۱۱ ذی الحجہ١٣٢٠ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اذان ،مسجد کے اندر دینا کیسا ہے ،جمعہ کی اذانِ ثانی خطیب کے منبر پر بیٹھنے کے بعد جو دی جاتی ہے آیا وہ اذان ،مسجد کے اندر خطیب کے سامنے کھڑا ہوکر کہے یا مسجد کے ،اوربرتقدیر اول بلاکراہت جائز ہے یا نہیں،بعض لوگ کہتے ہیں یہ بلاکراہت سب علماء کے نزدیك جائز ہے اور سلف صالحین سے لے کر اس زمانہ تك کل امصار ودیار میں اسی طریقہ مسنون پر باتفاق علمائے کرام جاری ودائر ہے،شامی میں ہے کہ مؤذن اذان خطیب کے سامنے کہے، ہدایہ میں ہے منبر کے سامنے کہے، اور اسی پر علما کا عمل ہے، اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کے زمانے میں نہیں تھا مگر یہ اذان، اور درمختار میں ہے خطیب کے سامنے کہے، ان عبارات سے ہویدا ہُواکہ روبروخطیب کے مسجد کے اندر کہے اور باہر مسجد یاصحن مسجد میں کھڑا ہوکر اذان کہنا خلاف کُتبِ فقہ وسلف صالحین کا ہے انتہی، اور بعض لوگ کہتے ہیں جمعے کی اذان ثانی مسجد کےاندر منبر کے سامنے کھڑے ہوکر مکروہ نہیں ہے، اگرچہ جہاں تك اطلاق بین یدیہ آتا ہے


 

 



Total Pages: 673

Go To