Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

موجود ہے جبکہ اصل کا اشارہ کوئی معمولی بات نہیں ہے مشہور علماء کا قول ہے کہ “ متون “ کا مفہوم بھی فتاوٰی کے “ منطوق “ (ظاہر عبارت) پر مقدم ہے ۔ علامہ سیدی احمد حموی نے غمزالعیون میں لکھا ہے کہ مخفی نہیں کہ بر ہر خواہد عملی نماید ہیچ جائے ملامت نیست ومن فقیر بقول اخیر خود رامائل ترمی بینم بوجو ہے کہ شنیدی ومی شنوی

فاقول : بر دلیل قول اول می تواں گفت کہ سنت چوں از وقت خود برگشت نقصان پذیرفت وسنت بروجہ سنت ادانشدو سنن مکملات فرائض ست وشك نیست کہ تکمیل کامل اکمل از تکمیل ناقص ست پس نقصان سنن بنقصان فرائض منجر شود پس در تسلیم بر رکعتین ہم ابطال وصف سنیت ست بے آنکہ بروجہ سنت انجبار یا بدوہم انعدام تکمیل فرض ست علی الوجہ الاکمل بخلاف اتمام کہ سنت از نقصان محفوظ مطلق ماند و درفرض اگر جہتے از اکملیت فوت شود جہتے دیگر بدست آید ھذا ماوردعلی قلبی والعلم بالحق عند ربی ان ربی بکل شیئ علیم۔

متون اور شروح میں جوبات بطور مفہوم ہے وہ فتاوٰی واضح اقوال پر مقدم ہے ، حاصل یہ کہ نوادر کا مقابلہ اصول سے ایسے ہے جیسا کہ فتاوٰی کا متون سے ہے یعنی اصول کے اشارہ کو نوادر کی تصریحات پر ترجیح ہے غرضیکہ یہ مسئلہ اس قبیل سے ہے کہ اس کے دونوں اقوال میں سے جس پر انسان چاہے عمل کرے تو کوئی اعتراض نہیں ہے اور میں خود دوسرے قول کی طرف اپنے آپ کو مائل پاتاہوں اس کے وجوہ کچھ تو آپ نے سن لئے اور کچھ کو سنیں گے فاقول : پہلے قول کی دلیل پر کہا جاسکتا ہے کہ جب سنت اپنے وقت سے مؤخر ہوجائے تو وہ ناقص ہوجاتی ہے اور یہ سنت بطریق سنت ادا نہ ہوگی جبکہ سنتیں فرائض کو کامل بناتی ہیں اور یہ بات ظاہر ہے کہ کامل چیز کا مکمل کرنا زیادہ کامل ہوتا ہے ناقص چیز کی تکمیل کے مقابلہ میں ، تویوں سنت کا نقصان فرض کے نقصان کا باعث ہوتا ہے توجب دو رکعتوں پر سلام سنت کے وصف میں نقصان ہے جو کہ پورا نہیں ہوتا ، تو اس سے فرض کی تکمیل میں عدم لازم آئے گا کہ فرض اکمل نہ ہوسکے گا برخلاف اس بات کے کہ جب سنت کو تام کیا جائے تو وہ نقصان سے مطلقًا محفوظ رہے گی تو اس سے اگر چہ فرض کے اکمل ہونے میں فرق آیا مگر دوسری وجہ (سنتوں کی تکمیل) سے متبادل کمال حاصل ہوجائے گا۔ یہ ہے وہ جومیرے دل میں ڈالا گیا اور حقیقی علم میرے رب کو ہےِ ، میرا رب ہر چیز کا عالم ہے۔ (ت)

مسئلہ ١١٨٧ :       از ا وجین مکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ حاجی یعقوب علی خاں صاحب ٢٢ شعبان ١٣١١ھ

اس مسئلہ میں کیا حکم ہے کہ بکر وضو نماز فجر کا کر کے ایسے وقت میں آیا کہ امام قعدہ اخیرہ میں ہے ، جو سنت پڑھتا ہے تو جماعت جاتی ہے اور جماعت میں ملتا ہے تو سنتیں فوت ہوتی ہے ، اس صور ت میں سنتیں پڑھے یا قعدہ میں مل جائے۔ بینوا تواجروا

الجواب :

اس صورت میں بالاتفاق جماعت میں شریك ہوجائے کہ جماعت میں ملنا سنتیں پڑھنے سے اہم و آکد ہے ، جب یہ جانے کہ سنتیں پڑھوں گا تو جماعت ہوچکے گی بالاتفاق جماعت میں مل جانے کا حکم ہے اگر چہ ابھی امام رکعت ثانیہ کے شروع میں ہو ، قعدہ تو ختم نماز ہے اس میں کیونکہ امید ہوسکتی ہے کہ امام کے سلام سے پہلے یہ سنتیں پڑھ کر جماعت میں مل سکے گا ،

فی الدرالمختار اذاخاف فوت رکعتی الفجر لاشتغالہ بسنتھا ترکہا الجماعۃ اکمل[1] الخ واﷲ تعالٰی اعلم۔

درمختار میں ہے جب کسی کو یہ خطرہ ہو کہ اگر فجر کی سنتیں ادا کیں تو جماعت فوت ہوجائے گی تو وہ سنتیں ترك کردے کیونکہ جماعت اکمل ہے الخ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)

مسئلہ ١١٨٨ :       ١٥رمضان المبارک

 کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص فرض تنہا پڑھ چکا تھا اب مسجد میں جماعت قائم ہوئی اور یہ اس وقت مسجد میں موجود ہے تو اب اسے کیا حکم ہے؟ بینو توجروا

الجواب :

ظہر و عشاء میں ضرور شریك ہو جائے کہ اگر تکبیر سن کر باہر چلاگیا یا وہیں بیٹھا رہا تو دونوں صورت میں مبتلائے کراہت وتہمت ترك جماعت ہوا اور فجر و عصر و مغرب میں شریك نہ ہو کہ قول جمہور پر تین رکعت نفل نہیں ہوتے اور چوتھی ملائے گا تو بسبب مخالفت امام کراہت لازم آئے گی اور فجر وعصر کے بعد تو نوافل مکروہ ہی ہیں اور ویسے بیٹھا رہے گا تو کراہت اور اشد ہوگی لہٰذا ان نمازوں میں ضرور ہوا کہ باہر چلاجائے

قال العلامۃ الشرنبلالی رحمۃ اﷲ علیہ فی نورالایضاح وشرحہ مراقی الفلاح ان خرج بعد صلوٰۃ منفردالایکرہ لانہ قد اجاب داعی اﷲ مرۃ فلا تجب علیہ .ثانیا الا انہ یکرہ خروجہ اذا اقیمت الجماعۃ قیل خروجہ فی الظھر و فی العشاء لانہ یجوز النفل فیہما مع الامام یتھم بمخالفۃ الجماعۃ کالخوارج و الشیعۃ وقد قال   

علامہ شرنبلالی   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے نورالیضاح اوراس کی شرح مراقی الفلاح میں فرمایا جب تنہا نماز ادا کرکے کوئی مسجد سے باہر نکلا تو کراہت نہیں کیونکہ اس نے ایك دفعہ اﷲ تعالٰی کی طرف بلانے والے کی آواز پر لبیك کہا ہے لہٰذا دوبارہ اس پر واجب نہیں البتہ اس صورت میں کراہت ہوگی جب اس کے نکلنے سے پہلے ظہر اورعشا کی جماعت کے لئے تکبیر کہہ دی گئی کیونکہ ان میں امام کے ساتھ نوافل ادا کرسکتا ہے تا کہ

صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من کان یومن باﷲ والیوم الاخر فلا یقفن مواقف التھم فیقتدی فیھما ای الظہر والعشاء متنفلا لدفع التھمۃ عنہ  ،  یکرہ جلوسہ من غیر اقتداء لمخالفۃ الجماعۃ بخلاف الصبح العصر والمغرب لکراھۃ النفل  ،  والمخالفۃ فی المغرب [2] الٰی آخرہ قال العلامۃ الطحطاوی رحمۃ اﷲ علیہ فی الحاشیۃ المراقی قولہ لکراھۃ النفل ای بعد الصبح العصر و فی النھر ینبغی ان یجب خروجہ لان کراھۃ مکثہ بلاصلوٰۃ اشد[3] واﷲ تعالٰی اعلم سبحنہ اتم واحکم                                               

 



[1]    درمختار باب ادراك الفریضہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ /  ٩٩

   [2]  مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب ادراك ا لفریضہ مطبوعہ نور محمد کا رخانہ تجارت کتب کراچی ص٢٤٩

[3]    حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب ادراك ا لفریضہ مطبوعہ نور محمد کا رخانہ تجارت کتب کراچی ص ٢٤٩



Total Pages: 262

Go To