Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

 

 

 

باب الجُمعۃ

(نماز جمعہ کا بیان )


مسئلہ ١٢٧٦:           مرسلہ مولوی حافظ امیر اﷲ صاحب مدرس اول مدرسہ عربیہ اکبریہ                             ٧ محرم ١٣٠٦ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دیہات میں جمعہ جائز ہے یا نہیں؟ اور وہ آبادی جس کی مسجد میں اس کے ساکن نہ سماسکیں شہر ہے یا گاؤں ؟ بینوا توجروا

الجواب:

دیہات میں جمعہ ناجائز ہے اگر پڑھیں گے گنہگار ہوں گے او رظہر ذمّہ سے ساقط نہ ہوگا۔

فی الدرالمختار فی القنیۃ صلٰوۃ العید فی القری تکرہ تحریما ای لانہ اشتغال بما لایصح لان المصر شرط الصحۃ [1] انتھی

اقول: فالجمعۃ اولی لانہ فیھا مع ذلك اما ترك الظھر وھوفرض اوترك جماعتہ وھی واجبۃ ثم الصلوۃ فرادی مع الاجتماع، وعدم المانع شنیعۃ اخری غیر ترك الجماعۃ فان من صلی فی بیتہ منعز لاعن الجماعۃ فقدترك الجماعۃ وان صلوا

درمختار میں ہے کہ قنیہ میں ہے کہ عید کی نماز دیہاتوں میں مکروہ تحریمی ہے یعنی نہ ایسی شیئ میں مصروف ہونا ہے جو صحیح نہیں کیونکہ شہر کا ہونا صحتِ عید کے لئے شرط ہے انتہی

اقول: جمعہ بطریق اولی مکروہ تحریمی ہوگا کیونکہ اس جمعہ کی صورت میں ترك ظہر ہوگا جو فرض ہے یا ترك جماعت ہوگا حالانکہ وہ واجب ہے، باوجود اجتماع اور عدم مانع کے تنہا نماز ادا کرنا ترك جماعت سے الگ خرابی ہے کیونکہ جو جماعت سے الگ گھر میں نماز ادا کرے گا اس نے جماعت ترك کردی اور ایك وقت میں مسجد میں حاضر

 


 

 



[1] درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۱٤



Total Pages: 673

Go To