Book Name:Fatawa Razawiyya jild 8

میں کہیں جھول پیدا ہوا ، نہ تراکیب کی برجستگی میں کوئی خلل واقع ہوا۔  ذٰلِك فَضْلُ اﷲ یُؤتِیْہِ مَنْ یَّشَاءُ ط وَاﷲ ذُو الفَضْلِ الْعَظِیْمِ٭
اس مختصر مقالے میں اتنی گنجائش تونہیں کہ اس ضیابارخطبے کی تمام خوبیاں گنائی جائیں ، تاہم چنددلآویز جھلکیاں خوش ذوق

قارئین وسامعین کی نذر ہیں ع
   گرقبول افتدز ہے عزّوشرف

حمد باری تعالٰی

فقہ حنفی میں امام اعظم ابوحنیفہ   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی ایك مشہور تصنیف کانام الفقہ الاکبرہے ، اسی طرح جامع کبیر ، زیادات ، فیض ، مبسوط ، دُرَرْ ، غُرَرْبھی بلندپایہ فقہی تصانیف ہیں ، امام احمدرضا نے ان ناموں میں کہیں ضمیرکا ، کہیں حرف جر وغیرہ کا اضافہ کرکے ان کو اس انداز میں ترتیب دیا ہے کہ

کتابوں کے یہ نام ہی اﷲ تعالٰی کی بہترین حمد بن گئے ہیں ، فرماتے ہیں :

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ھُوَ الْفِقْہُ الْاَکْبَرْ وَالْجَامِعُ الْکَبِیْرُ لِزِیَادَاتِ فَیْضِہِ الْمَبْسُوطِ الدُّرَرِ الْغُرَر (سب تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہیں ، اﷲ کی تعریف ہی سب سے بڑی دانائی ہے اور اﷲ تعالٰی کے پھیلے ہوئے فیض کے شفاف اور تابناك اضافوں کی بڑی جامع ہے)

سبحان اﷲ ، کیا دلپذیر حمدہے!

یعنی فیضان الٰہی کے اضافے اور زیادات موتیوں کی طرح شفاف اور روشن پیشانیوں کی طرح تابناك ہیں ۔ اب آپ خود ہی سوچئے کہ جس فیض کے اضافے اور زیادات اس قدرمنزہ اور روشن ہوں اس فیض کی اپنی شفافیت وتابندگی کاکیاعالم ہوگا! پھر صاحب فیض جل وعلا کی تابانی ودرخشانی کی توبات ہی نہ پوچھئے کہ وہ انسانی فہم و ادراك سے ماوراہے اور زبان وبیان اس کی

ترجمانی سے قاصرہیں ۔ بقول شیخ سعدی ؒ :  ؎

             اے برتر ازخیال وقیاس وگمان ووہم      وزہرچہ گفتہ اندوشنیدیم وخواندہ ایم
              دفترتمام گشت وبپایاں رسیدعمر                         ماہمچناں دراول وصف توماندہ ایم

جزاك اﷲ ، اے امام احمد رضا! کیا البیلی اور انوکھی حمد بیان کی ہے آپ نے ، اﷲ رب العٰلمین کی!

لیکن واضح رہے سامعین وقارئین کرام! کہ حمد کا یہ پہلو ضمنی ہے ، جبکہ امام احمد رضا درحقیقت یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اﷲ تعالٰی کی نہ کوئی حد ہے نہ انتہا۔ یعنی ع :

حمدِ بیحد مرخدائے پاك را

لیکن محض “ حمدبے حد “ کہہ دینے سے وہ بات نہیں بنتی جو امام احمد رضاکہناچاہتے ہیں ۔ وہ اﷲ تعالٰی کے فیض مبسوط کا ذکرکرتے ہیں ۔ اور ظاہرہے کہ اﷲ کے فیض کی کوئی انتہانہیں ۔ اور غیرمتناہی فیض کی زیادات ، غیرمتناہی درغیرمتناہی ہوں گی اور جو حمد ان زیادات کی جامع ہوگی وہ غیرمتناہی درغیرمتناہی ہوگی ، اور امام احمد رضا اﷲ تعالٰی کی ایسی ہی حمد کرناچاہتے ہیں ۔ الجامع لزیادات فیضہ___________
  کیاکمال درجے کا اغراق فی المبالغہ ہے! “ حمدبے حد “ یا “ بے انتہاتعریف “ میں اس مبالغے کا عشرعشیر بھی نہیں پایاجاتا۔

صلوٰۃ وسلام اور اس کے ضمن میں حضورپرنور    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم    کے فضائل کابیان

بارگاہ رسالت میں صلوٰۃ وسلام پیش کرتے ہوئے امام احمدرضانے پہلے توائمہ فقہ کے ناموں اورمعروف القاب کو اس طرح ترتیب دیا کہ کچھ ان میں سے سرورعالم کے نام بن گئے اور کچھ ان کی صفات۔ اس کے بعد اسماء کتب سے آنحضرت   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے فضائل بیان کئے ہیں البتہ صلوٰۃ وسلام پیش کرنے کے دوران امام احمدرضا نے مندرجہ بالاتمام محاسن و لطائف کے علاوہ ایك اورخوبی کااضافہ کیاہے ، یعنی سرورکونین   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے بارے میں اپنے عقیدے کی بھی وضاحت کردی ہے اور یوں اہلسنت کی ترجمانی کافریضہ بھی انجام دے دیاہے۔

امام احمدرضا کا عقیدہ ہے کہ رسول اﷲ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ہم سب کے ، بلکہ سارے عالم کے مالك ہیں ، لیکن بالذات نہیں بلکہ اﷲ تعالٰی کی تملیك سے مالك ہیں ۔ اپنے نعتیہ کلام میں فرماتے ہیں :   ؎

ان کو تملیك ملیك الملك سے
   مالك عالم کہا پھرتجھ کوکیا!

ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ رسول اﷲ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  بروزمحشرعاصیوں کی شفاعت فرمائیں گے اور حق تعالٰی سے ان کو بخشوائیں گے  ؎ 

پیش حق مژدہ شفاعت کاسناتے جائیں گے
  آپ روتے جائیں گے ، ہم کو ہنساتے جائیں گے

اب دیکھئے کہ ائمہ کرام کے اسماء والقاب سے کس طرح اپنے عقیدے کی وضاحت فرمائی ہے ، لکھتے ہیں :
 وَالصّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَی الْاِمَامِ الْاَعْظَمِ لِلرُّسُلِ الْکِرَام * مَالِکِیْ وَشَافِعِیْ اَحْمَدُ الْکُرَام۔

 



Total Pages: 262

Go To