Book Name:Fatawa Razawiyya jild 7

حلیہ کے ان الفاظ کی وجہ سے کہ “  ان کے علاوہ میں قیاس پرعمل ہوگا “  اور اس کے اس قول کے پیش نظر کہ “  خلاف قیاس پرقیاس نہیں ہوسکتا “  اورفتح کے قول کہ “   اس کے علاوہ ممنوع ہوں گے “  اور تبیین کے قول کہ “  اس پر غیر کو قیاس نہیں کیاجاسکتا “  اور یہ نہایت ہی واضح ہے(ت)

یا اس کا گمان صحیح تھا ، غورکیجئے تو اس صورت میں بھی اس بتانے کامحض لغو وبے حاجت واقع ہونا اور اصلاح نماز سے اصلًا تعلق نہ رکھنا ثابت کہ جب امام قدہ اولٰی میں اتنی تاخیر کرچکا جس سے مقتدی اس کے سہو پر مطلع ہوا تولاجرم یہ تاخیر بقدرکثیر ہوئی اور جوکچھ ہوناتھا یعنی ترك واجب ولزوم سجدہ سہو وہ ہوچکا اب اس کے بتانے سے مرتفع نہیں ہوسکتا اور اس سے زیادہ کسی دوسرے خلل کا اندیشہ نہیں جس سے بچنے کو یہ فعل کیاجائے کہ غایت درجہ وہ بھول کر سلام پھیردے گا پھر اس سے نماز تو نہیں جاتی وہی سہو کاسہورہے گا ، ہاں جس وقت سلام شروع کرتا اس وقت حاجت متحقق ہوتی اور مقتدی کوبتاناچاہئے تھا کہ اب نہ بتانے میں خلل وفسادنماز کااندیشہ ہے کہ یہ تواپنے گمان میں نماز تمام کرچکا ، عجب نہیں کہ کلام وغیرہ کوئی قاطع نماز اس سے واقع ہوجائے ، اس سے پہلے نہ خلل واقع کاازالہ تھا نہ خلل آئندہ کااندیشہ ، تو سوافضول وبے فائدہ کے کیاباقی رہا ، لہٰذا مقتضائے نظر فقہی پر اس صورت میں بھی فسادنماز ہے ، نظیر اس کی یہ ہے کہ جب امام قعدہ اولٰی چھوڑ کر پوراکھڑا ہوجائے تواب مقتدی بیٹھنے کااشارہ نہ کرے ، ورنہ ہمارے امام کے مذہب پر مقتدی کی نماز جاتی رہے گی کہ پوراکھڑے ہونے کے بعد امام کوقعدہ اولٰی کی طرف عودناجائز تھا تو اس کابتانامحض بے فائدہ رہا اور اپنے اصلی حکم کی رو سے کلام ٹھہر کر مفسدنماز ہوا ، بحرالرائق میں ہے :

لوعرض للامام شیئ فسبح الماموم لاباس بہ لان المقصود بہ اصلاح الصلٰوۃ فسقط حکم الکلام عند الحاجۃ الی الاصلاح ولایسبح للامام اذا قام الی الاخریین لانہ لایجوز لہ الرجوع اذا کان الی القیام اقرب فلم یکن التسبیح مفید اکذا فی البدائع وینبغی فساد الصلوۃ بہ لان القیاس فسادھا بہ عند قصد الاعلام وانما ترك للحدیث الصحیح من نابہ شیئ فی صلاتہ فلیسبح فللحاجۃ لم یعمل بالقیاس فعند عدمھا یبقی الامر علی اصل القیاس ثم رایتہ فی المجتبی قال ولوقام الی الثالثۃ فی الظھر قبل ان یقعد فقال المقتدی سبحٰن اﷲ قیل لاتفسد و عن الکرخی تفسد عندھما[1] ١ھ وبہ انتھٰی مانقلناہ عن البحر ،

قلت وقولہ عندھمایرید بہ الطرفین فان مذھبھما تغیر الذکر  بتغیر العزیمۃ خلافا لابی یوسف فعندہ ماکان ذکرا بصیغتہ لاتعمل فیہ النیۃ وکذا قولہ اعنی المجتبی لوسبح اوھلل یرید زجراعن فعل اوامرابہ فسدت عندھما[2] ١ھ فانما ارادالطرفین                                             

اگر امام کوعارضہ پیش آگیا مقتدی نے لقمہ دیا تو کوئی حرج نہیں کیونکہ اس سے مقصود نماز کی اصلاح ہے لہٰذا حاجت اصلاح کی وجہ سے اس سے حکم کلام ساقط ہوگیا ، اگرامام آخری دورکعات کی طرف اٹھ جائے تو اسے لقمہ نہ دیاجائے کیونکہ اگروہ قیام کے زیادہ قریب ہے تو اب اس کے لئے لوٹناجائز نہیں لہٰذا لقمہ اس کے لئے مفیدنہیں ۔ البدائع میں ایسے ہے ، اور اس سے نماز فاسد ہوجانی چاہئے کیونکہ یہ قیاس کاتقاضا ہے کہ جب مقصود امام کواطلاع ہو تونماز فاسد ہوجائے البتہ اس حدیث صحیح کی بناپر اس قیاس کو ترك کردیں گے کہ جس کونماز میں کوئی واقعہ درپیش ہو تو وہ تسبیح کہے ، توحاجت کے پیش نظر قیاس پرعمل نہ ہوگا اور جب حاجت نہ ہوگی تو معاملہ اصل قیاس پرہی رہے گا پھر میں نے مجتبٰی میں دیکھا اگرنمازظہر میں امام قعدہ کئے بغیرتیسری رکعت کی طرف اٹھا اور مقتدی نے سبحان اﷲ کہا تو بعض کے نزدیك نماز فاسد نہ ہوگی۔ امام کرخی سے منقول ہے کہ طرفین کے نزدیك نماز فاسد ہوجائے گی۔ اور یہاں بحرسے منقول عبارت ختم ہوگئی ۔ قلت اس کا قول “  عندھما “  سے مراد طرفین ہیں کیونکہ انہی کا قول ہے کہ تبدیلی عزم سے ذکر تبدیل ہوجاتاہے  

رضی اﷲ تعالٰی عنھما

ثم اقول :  وباﷲ التوفیق لایبعد ان یکون قام فی القیل للارادۃ کقولہ تعالٰی

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ [3]  وفی روایۃ الکرخی للحقیقۃ کقولہ تعالٰی

وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ [4] الاٰیۃ وھذا جمع کماتری حسن ان شاء اﷲ تعالٰی والافلاشك ان الدلیل مع الکرخی وانہ ھوقضیۃ مذھب الامام والامام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنھما فعلیہ فلیکن التعویل فان قیل فی القیل لواراد الارادۃ فما الوجہ لتخصیص المسئلۃ بالذکر فانھا معلومۃ من اطلاق قولھم لوعرض للامام شیئ الخ اقول بلی کان لمتوھم ان یتوھم عدم الجواز ھھنا مطلقا کمایتوھم من ظاھر لفظ البدائع لایسبح للامام اذاقام                                          

بخلاف امام ابویوسف کے ، ان کے نزدیك الفاظ ذکر میں نیت کادخل نہیں ہوتا ، اسی طرح اس یعنی المجتبٰی کاقول اگر اس نے سبحان اﷲ کہا یا لاالٰہ الا اﷲ ، اور اس سے مقصد کسی عمل پر زجریاکسی عمل کا حکم ہوتو ان دونوں کے نزدیك نماز فاسد ہوجائے گی۱ھ اس سے مراد طرفین   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  ا ہیں  ثم اقول : وباﷲ التوفیق (پھر میں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے کہتاہوں ۔ ت) یہ بھی ممکن ہے کہ مجتبٰی کی عبارت میں قام کامعنی ارادہ ہو ، جیسا کہ اﷲ تعالٰی کے اس ارشاد گرامی میں ہے “ اے اہل ایمان! جب تم نماز کا ارادہ کرو “ اورروایتِ کرخی میں حقیقی معنی ہے جیسا کہ اﷲتعالٰی کا فرمان ہے “  جب اﷲ کا بندہ کھڑا ہوکر اپنے رب کوپکارتاہے “ ۔ آپ نے دیکھا یہ نہایت ہی اچھاتطا بق ہے ان شاء اﷲتعالٰی ، ورنہ اس میں کوئی شك نہیں کہ دلیل کرخی کاساتھ دیتی ہے اور یہی ضابطہ ہے امام اعظم اور امام محمد  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  ا کے مذہب کا ، اس بناپر اس پر اعتماد کرناچاہئے ، اگرسوال ہو کہ عبارت میں اگرارادہ مراد ہے تواس مسئلہ کاخصوصًا کیوں ذکرہوا؟ کیونکہ اس کا علم تو فقہا کے اس قول “  اگرامام کوکوئی عارضہ لاحق ہو “  کے اطلاق سے ہی ہورہاہے اقول(میں کہتاہوں ) کیوں نہیں

الی الاٰخریین[5]  حیث لم یفصل والحاوی علی الوھم ان المقتدی لایطلع علی قیام الامام بفورہ بل یتاخر ذلك عن افاضتہ فی القیام ولولحظات کما ھو معلوم مشاھد فعند ذلك یسبح ثم الامام لاینبہ بفور مابدأ المقتدی بحرف التسبیح بل یتاخرولو لحظۃ ثم ھو ربما لایتذکر بمجرد السماع والتنبہ علی تنبیھہ بل قدیحتاج الی شیئ من التامل فھذہ ثلث وقفات والامام اذا نھض نھض ولم یکن فیہ تدرج یقتضی مکثا معتدا بہ فربما لایتنبہ بتسبیحہ الابعد مافات وقت العود لاسیما علی قول من قال بفواتہ اذ اقرب الی القیام کما ھو مختار صاحب البدائع و الھدایۃ والوقایۃ والکنز وغیرھم من الجلۃ الکرام وان کان الاصح العبرۃ بتمام القیام کما اعتمدہ فی مواھب الرحمٰن ونور الایضاح            

گویا کوئی وہم کرنے والا یہ تصورکرسکتاتھا کہ یہاں مطلقًا لقمہ ناجائز ہے جیسا کہ بدائع کے ان الفاظ کے ظاہر سے وہم کیاجاسکتاہے کہ “  امام جب آخری رکعتوں کی طرف کھڑا ہوجائے تو سبحان اﷲ نہ کہاجائے “ تویہاں انہوں نے کوئی فرق نہیں کیا اور یہاں منشاء وہم یہ بات ہے کہ مقتدی فی الفور امام کے قیام پرمطلع نہیں ہوتا بلکہ قیام کی طرف مائل ہونے کے بعد مطلع ہوتاہے اگرچہ کچھ لمحات ہی ہوں جیسا کہ معلوم ومشاہد ہے تو اس وقت مقتدی سبحان اﷲ کہے گا ، پھر امام بھی مقتدی کے لقمہ پرفی الفورمتوجہ نہیں ہوتا بلکہ معاملہ متاخرہوتاہے خواہ ایك لمحہ بعد ہی ہو ، پھر بعض اوقات اسے صرف سماع اور توجہ دلانے سے یادنہیں آجاتا بلکہ کچھ نہ کچھ غوروفکر کا محتاج ہوتاہے ، تویہ تین وقفے ہوئے ، توامام جب کھڑاہوتاہے ، توکھڑاہوجاتاہے اس میں ایسی تدریج نہیں جو قابل ذکر ٹھہرنے کاتقاضاکرے ، بعض اوقات مقتدی کی تسبیح سے بھی متوجہ نہیں ہوپاتا مگراس وقت جب لوٹنے کاوقت ختم ہوچکا ہو



[1]   بحرالرائق باب مایفسد الصلاۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۷

[2]   بحرالرائق باب مایفسد الصلاۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۷

[3]   القرآن ۵ / ۶

[4]   القرآن ۷۲ / ۱۹

[5]   بدائع الصنائع فصل فی بیان حکم الاستخلاف ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۳۵



Total Pages: 215

Go To