Book Name:Fatawa Razawiyya jild 7

یفسدھا کل ماقصد بہ الجواب اوالخطاب کقولہ لمن اسمہ یحٰیی ،  یایحٰیی خذ الکتٰب بقوۃ[1] ١ھ ملخصا۔

ہروہ شے نماز کو فاسد کردے گی جس سے جواب یاخطاب مقصود ہو جیسا کہ یحٰیی نامی شخص کو یہ کہنا یایحٰیی خذالکتاب بقوۃ (اے یحٰیی! کتاب کو مضبوطی سے پکڑ)۱ھ ملخصًا(ت)

ردالمحتارمیں ہے :

قولہ اوالخطاب الخ ھذا مفسد بالاتفاق وھو ممااورد نقضا علی اصل ابی یوسف فانہ قراٰن لم یوضع خطا بالمن خاطبہ المصلی وقد اخرجہ بقصد الخطاب عن کونہ قراٰنا وجعلہ من کلام الناس[2]۔

اس کا قول “  اوالخطاب “  بالاتفاق مفسد نماز ہے اور یہ ان امور میں سے ہے جن سے امام ابویوسف کے قاعدے پرنقض وارد ہوتاہے کہ یہ قرآن ہے اس کی وضع اس لئے نہیں کہ کوئی شخص اس سے نمازی کومخاطب کرے ، حالانکہ (وجہ یہ ہے) کہ اس نے اسے قصد خطاب کے طور پر ، قرآن ہونے سے خارج کیااور اسے کلام الناس میں شامل کردیا ہے۔ (ت)

علامہ ابن امیرالحاج حلبی حلیہ میں فرماتے ہیں :

الذی یفتح کانہ یقول خذ منی کذا والتعلیم لیس من الصلاۃ فی شیئ

لقمہ دینے والا گویا کہہ رہاہوتاہے کہ “  مجھ سے یہ لے لو “  اور سکھانا نماز کاحصہ نہیں اور ایسی

وادخال مالیس منھا فیھا یوجب فسادھا وکان قضیۃ ھذا المعنی ان تفسد صلاتہ اذا فتح علی امامہ لکن سقط اعتبار التعلیم للاحادیث و للحاجۃ الی اصلاح صلاۃ نفسہ فماعدا ذلك یعمل فیہ بقضیۃ القیاس [3] ھ ملخصا بالمعنی۔

شیئ کانماز میں داخل کرنا جو نماز میں سے نہیں نماز کے فساد کاسبب ہے۔ اس بات کے پیش نظر ہونایہی چاہئے کہ جب امام کو لقمہ دیاجائے تو بھی نماز فاسد ہوجائے لیکن اس صورت میں نماز کے فساد کا حکم اس لئے جاری نہیں کیاجاتا کہ احادیث میں اس کی اجازت ہے اور نماز کی اصلاح کی بھی حاجت ہے البتہ اس کے علاوہ دیگر صورتوں میں قیاس پر عمل کیاجائے گا(یعنی نماز فاسد ہوجائے گی) ملخصًا بالمعنٰی۔ (ت)

اُسی میں ہے :

ھذا قد استعمل فی موضع الجواب وقد ارید ذٰلك منہ وفھم فیصیر من ھذا الوجہ کلام الناس فیفسد و ان لم یکن من حیث الصیغۃ فی الاصل من کلامھم فالقیاس فساد الصلٰوۃ الا انا ترکناہ بالنص والمعدول بہ عن القیاس لایقاس علیہ[4] ١ھ ملخصا۔                   

یہ جواب میں مستعمل ہے اور یہاں وہی مراد اور مفہوم ہے لہٰذا یہ لوگوں کے کلام میں سے ہونے کی وجہ سے مفسد نماز ہے اگرچہ الفاظ کے لحاظ سے لوگوں کے کلام میں سے نہیں ۔ تو قیاس کاتقاضا ہے کہ نماز فاسد ہوجائے مگر نص کی بنا پر قیاس ترك کردیااور جوخود خلافِ قیاس ہوں اس پر قیاس نہیں کیاجاسکتا ۱ھ ملخصًا(ت)

اُسی میں ہے :

(م) ان فتح بعد ماقرأ قدرماتجوز بہ الصلاۃ تفسد (ش) لانہ لیس فیہ اصلاح صلاتہ فیبقی تعلیما وجوابالہ وان اخذ الامام بفتحہ تفسد صلاۃ الکل(م)

(متن) اگریہ لقمہ اتنی قرأت کے بعد دیا جس سے نماز ہوجاتی ہے تونماز فاسد ہوجائے گی(شرح) کیونکہ اس میں اس کی نماز کی اصلاح نہیں ہے لہٰذا یہ تعلیم وجواب ہوگا اور اگرامام نے لقمہ لے لیاتو تمام کی

الصحیح لا(ش) کذا فی الخانیۃ والخلاصۃ ونص القاضی فی شرح الجامع الصغیر انہ الاصح وعﷲ ھو وغیرہ بانہ لولم یفتح ربما جری علی لسانہ مایکون مفسدا فکان بمنزلۃ الفتح والاولی فی التعلیل حدیث المسوربن یزید واطلاق ماروی عن علی و عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ (م) وان انتقل الامام الی اٰیۃ اخری ففتح علیہ بعد الانتقال تفسد(ش) لوجود التلقین من غیرضرورہ کذا فی الھدایۃ وغیرھا وجعل صاحب الذخیرۃ ھذا محکیا عن القاضی الامام ابی بکر الزر نجری وان غیرہ من المشائخ قالوا لاتفسد کذا نقلوہ عن المحیط واخذ من ھذا صاحب النھایۃ ان عدم الفساد قول عامۃ المشائخ ووافقہ شیخنا رحمہ اﷲ تعالٰی علی ذلك وھو الاوفق لاطلاق الرخص الذی رویناہ[5] ١ھ ملخصا۔                               

نمازفاسد ہوجائے گی۔ (متن) صحیح یہ ہے کہ نماز فاسد نہیں ہوتی(شرح) اسی طرح خانیہ اور خلاصہ میں ہے اور قاضی نے شرح جامع الصغیرمیں کہاہے کہ یہی اصح ہے اور انہوں نے اور دیگر لوگوں نے علت یہ بیان کی ہے کہ اگر وہ لقمہ نہیں دے گا تو بعض اوقات امام کی زبان پر ایسی چیز جاری ہوجاتی ہے جونماز کے لئے مفسد ہوتی اس لئے وہ لقمہ ہی ہوگا ، حضرت مِسْوَر بن یزیدسے مروی اور وہ جو حضرت علی اور حضرت انس رضی اﷲ عنہما سے مروی روایات کا اطلاق علت کے بیان کے لئے بہترہے(متن) اور اگرامام کسی دوسری آیت کی طرف منتقل ہوگیا اور اسے انتقال کے بعد لقمہ دیاتو نماز فاسد ہوجائے گی (شرح) کیونکہ یہ بغیر ضرورت کے تلقین ہے ، ہدایہ وغیرہ میں اسی طرح ہے ، اور صاحب ذخیرہ نے اسے قاضی امام ابوبکر الزرنجری نے نقل کیاہے اگرچہ ان کے علاوہ دیگرمشائخ کہتے ہیں کہ نماز فاسد نہں ہوتی ، محیط سے اسی طرح منقول ہے ، اسی سے صاحب نہایہ نے لیا اور کہا کہ اکثرمشائخ کاقول عدم فساد ہے اور ہمارے شیخ رحمہ اﷲنے اسی کی موافقت کی ہے اور یہ ان رخصتوں کے اطلاق کے بھی زیادہ موافق ہے جن کا ہم نے ذکر کیاہے۱ھ تلخیصًا(ت)

فتح القدیرمیں ہے :

خرج قصد اعلام الصلاۃ بالحدیث لالانہ لم یتغیر بعزیمتہ فیبقی ماورواء ہ علی

نماز میں ہونے کی قصدًا اطلاع کرنا ، حدیث کی وجہ سے مفسدات سے خارج ہے ، نہ اس لئے کہ اس کے

المنع [6]ھ ملخصا

عزم وارادہ سے تغیّر نہیں ہوا لہٰذا اس کے علاوہ صورتیں منع ہی رہیں گی ۱ھ ملخصًا(ت)

جب یہ اصل ممہد ہولی ، حکم صورت مسؤلہ واضح ہوگیا ظاہر ہے کہ جب امام کوقعدہ اولٰی میں دیرہوئی اور مقتدی نے اس گمان سے کہ یہ قعدہ اخیرہ سمجھا ہے تنبیہ کی تودوحال سے خالی نہیں یا تو واقع میں اس کاگمان غلط ہوگا یعنی امام قعدہ اولٰی ہی سمجھا ہے اور دیر اس وجہ سے ہوئی کہ اس نے اس بار التحیات زیادہ ترتیل سے ادا کی جب توظاہر ہے کہ مقتدی کابتانا نہ صرف بے ضرورت بلکہ محض غلط واقع ہواتویقینا کلام ٹھہرا اور مفسد نماز ہوا

لقول الحلیۃ ان ماوراء ذلك یعمل فیہ بقضیۃ القیاس ولقول المعدول بہ عن القیاس لایقاس علیہ ولقول الفتح یبقی ماوراء ہ علی المنع ولقول التبیین لایقاس علیہ غیرہ وھذا واضح جدا۔

 



[1]   الدرالمختار  باب مایفسد الصلاۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۹

[2]   ردالمحتار باب مایفسد الصلاۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۵۹

[3]   حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی

[4]   حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی

[5]   حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی

[6]   فتح القدیر باب مایفسد الصلاۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۴۹



Total Pages: 215

Go To