Book Name:Fatawa Razawiyya jild 7

اور مسبوق قرأت کے حق میں اپنی نماز کو اول اور تشہد کے حق میں آخر نماز کرکے نماز اداکرے ، فجر کے علاوہ ایك رکعت پانے والا دورکعتوں کوفاتحہ اور سورت کے ساتھ اداکرے اور ان کے درمیان قعدہ بھی کرے ، چاررکعتی نماز میں چوتھی میں صرف فاتحہ پڑھے اور اس سے پہلے قعدہ نہ کرے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)

مسئلہ ۹۵۷ : ازقصبہ میترانوالی ڈاك خانہ گھکرریلوی ضلع گوجرانوالہ مرسلہ حافظ شاہ ولی اﷲصاحب ۷محرم الحرام ۱۳۰۹ھ

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم۔  بخدمت عالی جناب قدسی القاب مولوی احمدرضاخاں صاحب دام برکاتہ ، ، از فقیر حافظ ولی اﷲ شاہ بعد از تسلیمات وآداب ماوجب معروض آنکہ عرصہ ایك سال کا گزراہے کہ بندہ حضور کی قدم بوسی سے مشرف ہواتھا اور ایك مسئلہ حضور سے دریافت کیاتھا درباب اقتداء مقیم کامسافر کے ساتھ نماز رباعی میں اس حالت میں جومسافر ایك رکعت اداکرچکا ہو اور مقیم آکرملا توایك رکعت مقیم نے امام مسافر کے ساتھ پائی پھر وہ تین کس طرح پراداکرے ، میں نے آپ سے یہ مسئلہ دریافت کیاتھا تو آپ نے فرمایاتھا کہ اول دورکعت جوخالی قرأت سے ہیں وہ ادا اس طرح پر کرے کہ بقدر الحمد کے قیام کرے اور اس میں قرأت نہ پڑھے بعدہ ، ایك رکعت جو مسبوقانہ ہے اداکرے اور اس میں ثناء و فاتحہ وسورۃ پڑھے۔ اور یہی مسئلہ مسافر والے کا اس جگہ تنازع دومولوی صاحبوں کا آپس میں پڑاہواہے بلکہ بہت عالموں سے یہ مسئلہ دریافت کیاگیا ہے سب کے سب آپ کے برخلاف بیان کرتے ہیں اور یہی کہتے ہیں سوا سند کتاب کے ہم نہیں مانتے اور دوسری جگہ ہمیشہ جب امام سے علیحدہ ہوکرمسبوقانہ اداکرتاہے توپہلے ابتداء سے شروع کرتاہے یعنی ثناء وفاتحہ وسورۃ شروع کرتاہے کیاوجہ ہے کہ مقیم نماز رباعی میں امام مسافر کے ساتھ مسبوق ہوجائے تو اول خالی دورکعت اداکرے برخلاف ترتیب معمولہ کے ، لہٰذا مہربانی فرماکر محض واسطے ثواب کے یہ مسئلہ مسافروالا مفصل معہ حوالہ کتب معتبرہ کے تحریر فرمائیں تاکہ تنازع رفع ہوجائے مگربجز حوالہ کتاب کے تسلی نہ ہوگی کیونکہ ہم نے اس جگہ بہت کتب سے معلوم کیاہے کچھ تسکین نہ ہوئی ، اور اگرپہلی خالی دورکعت کواداکرے تو اس میں قعدہ ایك پرکرے یانہ؟ اور قرأت وسجدہ سہو بھی اداکرے یانہ؟ ازجانب نیازمند امیر احمد اگرچہ ظاہرآپ سے ملاقات حاصل نہیں مگرزبانی حافظ ولی اﷲ شاہ صاحب سے آپ کی تعریف سن کرشائق ہوں کہ آپ جیسا شاید ہندوستان میں کوئی عالم حنفی مذہب موجودنہیں ، جو مسئلہ حافظ ولی اﷲ شاہ صاحب نے اوپرلکھاہے آپ پوراپورا بعینہٖ حوالہ کتب معتبرہ تحریرفرمائیں تاکہ اطمینان کلی حاصل ہو اور کوئی شك وشبہ باقی نہ رہے اور دوسرا صرف نیازمند کو یہ شبہہ واقع ہوا ہے کہ مسافر کے ساتھ مقیم نے نماز چہارگانہ میں دوسری رکعت میں آکراقتداء کیا تواب پہلی رکعت جو بعد فراغ امام اٹھ کر پڑھے گا کس طرح پڑھے گا؟ کیونکہ اس کی تین رکعت باقی ہیں اور یہ جورکعت امام کے ساتھ اس نے پائی ہے مقتدی کی کونسی رکعت ہوگی؟ آیا بعموم قاعدہ کے جو رکعت امام کی وہی رکعت مقتدی کی ، اس نماز میں تو یہ رکعت امام کی بلحاظ مسافر ہونے کے آخر کی ہے اور مقیم کی دوسری ، اب وہ دوسری رکعت میں الحمدوقل پڑھے گایانہیں ؟ ہرسہ رکعت میں جیسے قرأت پڑھنی کتب سے ثابت ہو تحریرفرمائیں مکلف اوقات گرامی امیراحمدعفی عنہ مکرر عرض یہ ہے کہ قیاس یہ چاہتاہے کہ جو رکعت امام کی قرأت والی ہے اس کی بھی قرأت والی رکعت اس کے ساتھ ملحق ہوجائے یا کہ پہلی دورکعت وہ اداکرے جوخالی سورۃ والی ہیں فقط بینواتوجروا

الجواب :

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم ،  نحمدہ ،  ونصلی علی رسولہ الکریم۔

 (شاہ صاحب کرم فرمااکرمکم اﷲ تعالٰی السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ ، ، حکم مسئلہ جو کہ فقیرغفراﷲ تعالٰی لہ نے بیان کیا صحیح ومطابق کتاب تھا منشا اشتباہ ناظرین یہ ہے کہ صورت مذکورہ میں یہ مقیم بھی مسبوق ہے اور ہم مسبوق کو دیکھتے ہیں کہ حق قرأت میں اول نماز سے ابتداء کرتاہے ، درمختارمیں ہے :

المسبوق یقضی اول صلاتہ فی حق قرأۃ[1] ۔

مسبوق قرأت کے حق میں اپنی پہلی رکعت تصور کرکے اداکرے گا۔ (ت)

توچاہئے تھا کہ یہ بھی بعد سلام امام رکعت اولٰی ہی اداکرتاجس میں اس کو حکم قرأت ہے مگرانہوں نے یہ خیال نہ فرمایا کہ صورت مسطورہ میں مقیم تنہامسبوق نہیں لاحق بھی ہے دورکعت اخیرہ کی نظر سے لاحق اور اولٰی کے اعتبار سے مسبوق ، درمختارمیں ہے :

اللاحق من فاتتہ الرکعات کلہا اوبعضھا بعد اقتدائہ کمقیم ائتم بمسافر  [2]۔

لاحق وہ ہوگا جس کی اقتداء کے بعد تمام یابعض رکعات(امام سے )رہ گئی ہوں جیسا کہ وہ مقیم جس نے مسافر کی اقتداء کی۔ (ت)

ردالمحتارمیں ہے :

ای فھولاحق بالنظر للاخیرتین وقد یکون مسبوقا کما اذا فاتہ اول صلاۃ امامہ المسافر [3] ط۔

یعنی وہ آخری رکعتوں کے لحاظ سے لاحق ہے اور کبھی مسبوق بھی ہوسکتاہے جب مسافر امام کے ساتھ اس کی پہلی رکعت رہ گئی ہوط۔ (ت)

اور مسبوق لاحق کو یہی حکم ہے کہ پہلے دورکعت بے قرأت اداکرے جن میں لاحق ہے ان سے فارغ ہوکر رکعت مسبوق بہاکی قضاء باقرأت کرے۔ درمختارمیں ہے :

اللاحق یبدأ بقضاء مافاتہ بلاقرأۃ ثم ماسبق بہ بھا ان کان مسبوقا ایضا[4] ۔  (ملخصا)

لاحق پہلے بغیر قرأت کے فوت شدہ اداکرے اور اگرمسبوق بھی ہوتو اس کے بعد وہ پڑھے جس میں مسبوق ہوا(یعنی اول رکعت جوباقی تھی اس کو قرأت کے ساتھ پڑھے)۔ (ت)

توعلماء کافرمانا کہ مسبوق قضائے رکعات میں اول نماز سے آغاز کرے اس کے یہ معنی نہیں کہ سب سے پہلے رکعات مسبوق بہا کی قضاکرے ، یہ تونہ لفظوں کامفاد نہ ان کی مراد نہ واقع میں صحیح ومتصف بسداد تمام کتب فقہ جن میں خود انہیں علماء کی صاف وصریح تصریح ہے کہ مقتدی جس نماز میں لاحق ہو اسے مسبوق بہا سے پہلے اداکرے اس کے بطلان پر شاہد عدل بلکہ علماء اس حکم سے صرف رکعات مسبوق بہاکی باہمی ترتیب ارشاد فرماتے ہیں یعنی چندرکعتوں میں مسبوق ہوا وہ ان کی قضا کے وقت الاول فالاول اداکرے مثلًا تین میں مسبوق ہو تو پہلی میں ثناء وتعوذوفاتحہ سب کچھ پڑھے دوسری میں صرف فاتحہ وسورۃ ، تیسری میں  فقط فاتحہ ، غرض حکم منکشف ہے اور شبٍہہ منکسف ، یونہی دوسراشبہہ کہ قیاس چاہتاہے کہ رکعت قرأت رکعت قرأت سے ملحق ہو ،

اوّلًا نصوص صریحہ کے مقابل ہمارے خیالات کوکیادخل!

ثانیًا جسے چاررکعتی نماز میں صرف اخیرہ ملی بعد سلام امام دورکعت قرأت پڑھے گا توجیسے خالی سے خالی کااتصال ضرورنہیں یونہی بھری سے بھری کا۔

 



[1]    درمختار ، باب الامامۃ ،  مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۶

[2]   درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۸۶

[3]   ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۴۰

[4]   درمختار۔  باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۶



Total Pages: 215

Go To