Book Name:Fatawa Razawiyya jild 6

قولہ بالالحان ای بالنغمات وحاصلہا کما فی الفتح اشباع الحرکات لمراعات النغم (قولہ ان غیرالمعنی) کما لو قرا ئالحمد ﷲ  رب العلمین واشبع الحرکات حتی اتی بواوبعد الدال وبیاء بعد اللام والھاء وبالف بعد الراء ومثلہ قول المبلغ رابنالك الحامد بالالف بعد الراء لان الراب ھو زوج الام کمافی الصحاح والقاموس١[1] اھ۔

اقول: ذکر اتیان الواو بعد الدال والیاء بعد الھاء وقع فی غیرموقعہ لما علمت انھما محل الاشباع ،ولا یتغیر فیہ المعنی وانما مشی المحشی رحمۃ اﷲ  تعالٰی علی ماظن سابقا فی اشباع ھاء الجلالۃ وقد علمت انہ خلاف المقصود۔

اس کی عبارت بالحان سے مراد نغمات ہیں اور فتح کے مطابق اس کا حاصل یہ ہے"نغمہ کی رعایت کرتے ہوئے حرکات میں اشباع پیدا کرنا"اور اس کی عبارت"ان غیرالمعنی"سے مراد یہ ہے جیسا کہ کسی نے الحمد ﷲ  رب العلمین پڑھتے ہوئے حرکات میں اتنا اشباع کیا کہ دال کے بعد واو ،لام اور ہا کے بعد یا اور راء کے بعد الف بڑھا دیا اسی طرح کسی مبلغ (آواز پہنچانے والے) نے رابنا لك الحامد پڑھا یعنی را کے آگے الف بڑھا دیا کیوں کہ راب کا معنی ماں کے شوہر کے ہیں،جیسا کہ صحاح اور قاموس میں ہے اھ(ت)

اقول: (میں کہتا ہوں) یہاں دال کے بعد واؤ اور ھا کے بعد یا کا تذکرہ اس محل ومقام کے مناسب نہیں کیونکہ ان دونوں حرفوں میں اشباع ہے مگر معنی تبدیل نہیں ہوتا۔محشی رحمہ اﷲ  تعالٰی اپنے سابقہ گمان پر چلے ہیں جو انھیں اسم جلالت کی ہاء کے بارے میں ہوا تھا اور آپ نے جان لیا کہ یہ خلاف مقصود ہے(ت)

مختار محققین قول ائمہ متقدمین ہے کما بینہ فی الغنیہ(جیسا کہ غنیہ میں بیان کیا ہے۔ت) اور ظاہرا لفظ جموعۃشق ثانی سے ہے کہ اس کے معنی معلوم نہیں واﷲ  تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ثانیہ : حروف کو کچّی زبان سے ادا کرنا یہ اگر ایسی جگہ ہو کہ فسادِ معنی لازم نہ آئے جیسے لاتقھرکی جگہ لا تکھر توامام اعظم وامام محمد کے نزدیك مطلقًامفسد نہیں ورنہ معتمد ائمہ مذہب ،مطلقًا فساد ہے اور پ یا چ یاگ بولنے میں فساد اظہر کہ یہ حروف کلام ا ﷲ  تو کلام اﷲ  ،کلام عرب ہی میں نہیں۔قنیہ میں:

سألت استاذنا برھان الائمۃ المطرزی عمن قرأفی صلاتہ کلمۃ فیھا جیم بالچیم

میں نے اپنے استاذ برہان الائمہ المطرزی سے اس شخص کے بارے میں پُوچھا جو نماز میں جیم کی جگہ چ یا

 


 

 



[1] ردالمحتار باب یفسد الصلٰو ۃ الخ مطبوعہ مصطفی البابی ١/٤٦٨



Total Pages: 736

Go To