Book Name:Fatawa Razawiyya jild 6

باعث پچھلی صف کے لوگ دروں میں کھڑے ہوں تو یہ ضرورت ہے والضرو رات تبیح المحظورات( سخت ضرورت ممنوعات کو مباح کردیتی ہے۔ت)رہا اکیلا ، اسکے لئے ضرورت، بے ضرورت محراب میں ،دَر میں مسجد کے کسی حصہ میں کھڑا ہونا اصلًا کراہت نہیں رکھتا ۔ دُرمختار میں ہے:

کرہ قیام الامام فی المحراب لاسجودہ فیہ وقد ماہ خارجہ لان العبرۃ للقدم [1]۔

امام کا محراب میں کھڑا ہونا مکروہ ہے، اگر قدم باہر ہوں اور سجدہ محراب میں ہو تو یہ مکروہ نہیں کیونکہ اعتبار قدموں کا ہے۔

ردالمحتار میں بحرالرائق سے ہے:

فی الولوالجیۃ وغیرھا اذالم یضق المسجد بمن خلف الامام لاینبغی لہ ذلك لانہ یشبہ تباین المکانین انتھی یعنی وحقیقۃ اختلاف المکان تمنع الجواز فشبھۃ الاختلاف توجب الکراھۃ والمحراب وان کان من المسجد فصوورتہ و ھیأتہ اقتضت شبھۃ الاختلاف ا ھ ملخصا ٢[2]۔

ولو الجیہ وغیرہا میں ہے جب امام کے پیچھے والے نمازیوں کے لئے مسجد تنگ نہ ہو تو امام کو محراب میں قیام نہیں کرنا چاہیئے، کیونکہ یہ دو جگہوں کے الگ الگ ہونے کا شبہ پیدا کرے گا انتہی یعنی مکان کا حقیقۃً اختلاف جوازِ نماز سے مانع ہے اور جہاں اختلافِ مکان کا شبہ ہو وہاں کرہت ہو گی اور محراب اگرچہ مسجد ہی سے ہے مگر محراب کی صورت اور ہیئت اختلافِ مکان کا شُبہ پیدا کرتی ہے۔ اھ ملخصا (ت)

اسی میں معراج الداریہ سے ہے:

حکی الحلوانی عن ابی اللیث لا یکرہ قیام الامام فی الطاق عند الضرورۃ بان ضاق المسجد علی القوم [3]۔

حلوانی نے ابو اللیث سے نقل کیا کہ ضرورت کے وقت امام کا محراب میں کھڑا ہونا مکروہ نہیں جبکہ نمازیوں پر مسجد تنگ ہو۔ (ت)

اُسی میں کتاب مذکور سے ہے:

الاصح ماروی عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ قال أکرۃ للامام ان یقوم

اصح روایت کے مطابق امام ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہی مروی ہے کہ امام کا دو ستون کے درمیان

 


 

 



[1] درمختار باب ما یفسد الصلوٰۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ١/٩٢

[2] ردالمحتار باب ما یفسد الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفے البابی مصر ١/٤٧٧

[3] ردالمحتار باب ما یفسد الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفے البابی مصر ١/٤٧٨



Total Pages: 736

Go To