Book Name:Fatawa Razawiyya jild 4

(۲) قدر مستقل کو دھوئے اور لمعہ کا تیمم کرے ص ۱۲و ۲۸و ۴۸۔
(
۳) وضو کرے اور لمعہ کا تیمم۔ ص۶۴و ۸۴۔
(
۴) پورا وضو کرے طہارت ہوگئی۔ ص۱۳۔
(
۵) وضو کرے اور باقی جگہ عــہ دھوئے طاہر ہوگیا۔ ص ۲۹و ۶۵۔
 (
۶) پُورا نہائے۔ ص۴۹و ۸۵۔

(۷) پہلے لمہ دھوئے پھر حدث کا تیمم کرے اگر پہلے تیمم کرلے گا لمعہ دھونے کے بعد پھر کرنا ہوگا۔ ص۱۴و ۳۰و ۴۷و ۶۶و ۸۳۔ ت

عــہ : باقی جگہ کے یہ معنی کہ اعضائے وضو کے علاوہ اور بدن میں جہاں جنابت تھی ۱۲ منہ غفرلہ (م)

(۸) دونوں کے لئے ایك تیمم کرے اور لمعہ کی تقلیل استحبابًا نہ وجوبًا یعنی ناکافی پانی جنابت کی جتنی جگہ کو دھوسکے بہتر یہ کہ دھولے کہ جنابت کم ہوجائے اور آئندہ تھوڑا پانی بھی کفایت کرے۔ ص۱۵و ۳۱و ۵۰و ۶۷و ۸۶۔

ح ت و (۹) لمعہ کے حق میں تیمم ٹوٹ گیا حدث کے حق میں باقی ہے لمعہ دھوئے۔ ص۱۶و ۳۲و ۶۸۔

(۱۰) حدث کے حق میں تیمم ٹوٹ گیا لمعہ کے حق میں باقی ہے قدر مستقل کو دھوئے۔ ص۱۷و ۳۳و ۵۲۔
(
۱۱) تیمم حدث کےلئے نہ رہا لمعہ کے لئے ہے وضو کرے۔ ص۶۹و ۸۸۔
(
۱۲) تیمم دونوں کے حق میں ٹوٹ گیا پُورا وضو کرے طہارت ہوگئی۔ ص۱۸۔
(
۱۳) تیمم دونوں کے حق میں ٹوٹ گیا وضو کرے اور باقی عــہ جگہ دھوئے طاہر ہوگیا۔ ص۳۴و ۷۰۔
(
۱۴) تیمم دونوں کے حق میں ٹوٹ گیا : پُورا نہائے۔ ص۵۳و ۸۹۔
(
۱۵) تیمم دونوں کے حق میں ٹوٹ گیا پہلے لُمعہ دھوئے اس کے بعد حدث کا تیمم کرے۔ ص۱۹و ۳۵و ۵۱و ۷۱و ۸۷۔
(
۱۶) تیمم دونوں کے حق میں باقی ہے لمعہ کی تقلیل کرے۔ ص۲۰و ۳۶و ۵۴و ۷۲و ۹۰۔
ت ح و (۱۷) تیمم گیا وضو کرے طہارت ہوگئی؛ ص۱و ۲۲۔
(
۱۸) تیمم نہ رہا وضو کرے اور باقی عــــــہ جگہ دھوئے طاہر ہوگیا۔ ص۵و ۳۹و ۷۵