Book Name:Fatawa Razawiyya jild 4

فیھا قبل الغسل ثلاث مرات۔ وذٰلك مقدار مایغلب علی ظنہ انھا طھرت لوکانت متحققۃ النجاسۃ دفعا للوسواس اعتبارا للظاھر من حال تلك الاوانی کماکرہ التوضی بسؤر الدجاجۃ المخلاۃ لانھا لاتتوقی عن النجاسۃ فی الغالب والظاھر المتبادر للافھام لعدم تمیےیزھا وعدم تحاشیھا عن استعمال ذلك وکماکرہ التوضی بماء قلیل ادخل الصبی یدہ فیہ لانہ لایتوقی من النجاسۃ فی الظاھر المتبادر والغالب الکثیر المعتاد وکماکرہ الصلاۃ فی سراویل المشرکین اعتبارا للظاھر فانھم لایستنجون اذابالوا و تغوطوا وکان الظاھر من سراویلھم النجاسۃ ومع ھذا ای کون الغالب الظاھر من حال اوانیھم النجاسۃ لواکل اوشرب فیھا قبل الغسل جاز ولایکون اٰکلا ولاشاربا حراما لان الطھارۃ اصل لان الله تعالٰی لم یخلق شیئا نجسا من اصل خلقتہ وانما النجاسۃ عارضۃ فاصل البول ماء طاھر وکذلك الدم والمنی والخمر عصیر طاھر ثم عرضت النجاسۃ فیجری علی الاصل المحقق حتی یعلم بحدوث العارض وما یقول الانسان بان الظاھر الغالب فی الاشیاء المذکورۃ النجاسۃ قلنا نعم                                                                                                                                                                                                                                        

استعمال مکروہ ہے۔ اور یہ مقدار وہ ہے کہ اگر ان برتنوں پر نجاست لگی ہوئی ہو تو اس سے اس کے پاك ہونے کا غالب گمان حاصل ہوجائے اس طرح ان برتنوں کے ظاہری حالت سے پیدا ہونے والا وسوسہ دُور ہوجائے گا جیسا کہ گلیوں میں پھرنے والی مُرغی کے جھُوٹے سے وضو مکروہ ہے کیونکہ عام طور پر وہ نجاست سے نہیں بچتی۔ اور ذہنوں میں ظاہر ومتبادر بات یہ ہے کہ وہ اس (نجاست) کے استعمال میں نہ تمیز کرتی ہے اور نہ ہی اس سے بچتی ہے۔ اور جیسا کہ اس قلیل پانی سے وضو کرنا مکروہ ہے جس میں بچّے نے اپنے ہاتھ ڈالا کیونکہ ظاہر اور متبادر اور غالب نیز عام عادت یہ ہے کہ وہ نجاست سے نہیں بچتا۔ اور جیسے ظاہر کا اعتبار کرتے ہوئے مشرکین کی شلواروں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے کیونکہ وہ پیشاب اور قضائے حاجت کے بعد استنجاء نہیں کرتے اور ان کی شلواروں کا ظاہری حال ناپاکی ہے اور اس کے باوجود یعنی ان کے برتنوں کے بارے میں ظاہر وغالب یہی ہے کہ وہ ناپاك ہیں ، اگر دھونے سے پہلے ان میں کھایا ےیاپیا تو جائز ہے اور کھانا پینا حرام نہ ہوگا کیونکہ طہارت اصل ہے اس لئے کہ اللہتعالٰی نے حقیقت میں کسی چیز کو ناپاك پیدا نہیں کیا نجاست (بعد میں) لاحق ہوتی ہے پس پیشاب کی اصل پاك پانی ہے اسی طرح خون ، منی اور شراب پاك رس ہے پھر ان کو نجاست لاحق ہوئی پس حکم اصل پر جاری ہوگئی جو ثابت ہے یہاں تك کہ عارض کے پیدا ہونے کا علم ہوجائے۔ اور اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ ظاہرًا مذکورہ اشیا میں گمان نجاست ہے ہم کہتے ہیں ہاں لیکن طہارت

لکن الطہارۃ ثابتۃ بیقین والیقین لایزول الابیقین مثلہ انتھی ثم قال فی الذخیرۃ ولاباس بطعام الیھود والنصارٰی کلہ من غیر استشناء طعام دون طعام اذاکان مباحا من الذبائح وغیرھا لقولہ تعالٰی وطعام الذین اوتوا الکتٰب حل لکم من غیر تفصیل فی الاٰیۃ بین الذبیحۃ وغیرھا وبین اھل الحرب وغیر اھل الحرب وبین بنی اسرائیل کنصاری العرب ولابأس بطعام المجوس کلہ الا الذبیحۃ وقال فی الذخیرۃ فی موضع اٰخر روی عن ابن سیرین رحمہ الله تعالٰی ان اصحاب رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کانوا یظھرون ویغلبون علی المشرکین ویأکلون ویشربون فی اوانیھم ولم ینقل انھم کانوا یغسلونھا وروی عن اصحاب رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لماھجموا علی باب کسری وجدوا فی مطبخہ قدورا فیھا الوان الاطعمۃ فسألوا عنھا فقیل لھم انھا مرقۃ فاکلوا وبعثوا بشیئ من ذلك الی عمر رضی الله تعالٰی عنہ فتناول عمر رضی الله تعالٰی عنہ من ذلك الطعام وتناول اصحابہ ای بقیۃ الصحابۃ رضی الله تعالٰی عنھم منہ ایضا فالصحابۃ رضی الله تعالٰی عنھم اکلوا من الطعام الذی طبخوا المجوس لان الاصل حل الاکل ولاتثبت الحرمۃ بالظن وطبخوا ای الصحابۃ رضی الله تعالٰی عنھم فی قدورھم قبل الغسل والدلیل لہ ان الطھارۃ اصل                                                                                                                                                          

یقین سے ثابت ہے اور یقین یقین کاملِ کے ساتھ زائل ہوتا ہے اھ پھر ذخیرہ میں فرمایا : “ یہود ونصارٰی کے تمام کھانوں میں بغیر استشناء کوئی حرج نہیں کہ یہ کھانا ہو وہ نہ ہو جبکہ وہ مباح ہو ذبیحہ ہو یا اس کے سوا ، کیونکہ اللہتعالٰی کا ارشاد ہے : “ اور اہلِ کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے “ آیت کریمہ میں ذبیحہ اور غیر ذبیحہ ، اہلِ حرب ، غیر اہلِ حرب اور بنی اسرائیل جیسا کہ عرب کے عیسائی کے درمیان کوئی تفصیل نہیں ہے اور مجوسیوں کے ذبیحہ کے علاوہ تمام کھانوں میں کوئی حرج نہیں ذخیرہ میں ایك دوسرے مقام پر ابن سرین رحم اللہسے نقل کیا کہ صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمحملہ کرکے مشرکین پر غالب آتے تو ان کے برتنوں میں کھاتے پیتے تھے اور یہ بات منقول نہیں کہ وہ ان کو دھوکر استعمال کرتے تھے نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ وہ کسرٰی کے دروازے پر جمع ہوئے تو ان کے باورچی خانہ میں ہانڈیاں پائیں جن میں طرح طرح کے کھانے تھے انہوں نے ان کے بارے میں پُوچھا تو بتایا گیا کہ یہ شوربہ ہے۔ چنانچہ انہوں نے اسے کھایا اور کچھ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی خدمت میں بھیج دیا تو حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاور باقی صحابہ کرام نے بھی اسے تناول فرمایا۔ پس صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے اس کھانے سے کھایا جس کو مجوسیوں نے پکایا تھا کیونکہ اصل میں اُسکا کھانا حلال ہے اور گمان سے حُرمت ثابت نہیں ہوتی نیز صحابہ کرام نے ان کی ہانڈیوں کو دھونے سے پہلے ان میں پکایا ، اس بات کی دلیل یہ ہے کہ طہارت اصل ہے

والنجاسۃ عارضۃ وقدوقع الشك فی العارض ولاترتفع الطھارۃ الثابتۃ بقضیۃ الاصل ومایقول القائل ان الظاھر ھو النجاسۃ قلنا نعم ولکن الطھارۃ کانت ثابتۃ بیقین والیقین لایزول بالشك والظن الابیقین الایری انہ اذا اصاب عضوانسان اوثوبہ مقدار فاحش من سؤر الدجاجۃ المخلاۃ اوالماء القلیل الذی ادخل الصبی یدہ اورجلہ فیہ وصلی مع ذلك جازت صلاتہ واذاصلی فی سراویل المشرکین جازت ایضا لاناقد تیقنا الطھارۃ وشککنا فی النجاسۃ فلم تثبت بالشك کذا ھنا فی طعام المجوس وقدورھم لاتثبت النجاسۃ بالشك وان کان الاحتیاط عدم ذلك فی نظیرہ ولانقول بھذا فی واقعۃ الصحابۃ رضی الله تعالٰی عنھم لاحتمال معارضۃ ھذا الاحتیاط امر اٰخر کالحاجۃ الی الطعام فی ذلك الوقت اوبیان الجواز للقاصر لانھم من اھل القدوۃ کماقال علیہ الصلاۃ والسلام علیکم بسنّتی وسنّۃ الخلفاء الراشدین من بعدی انتھی مانقلہ عن الذخیرۃ [1] اھ مانقلتہ عنھما بتلخیص و                    

اور نجاست لاحق ہونے والی اور اور لاحق ہونے والی میں شك واقع ہُوا جس سے وہ طہارت جو اصل سے ثابت ہے ، ختم نہیں ہوگی۔ اور وہ جو کچھ کہنے والا کہنا ہے کہ ظاہر ، نجاست ہی ہے ہم کہتے ہیں ہاں لیکن طہارت یقین کے ساتھ ثابت ہوئی تھی اور یقین شك اور گمان کے ساتھ زائل نہیں ہوتا وہ صرف یقین سے دُور ہوتا ہے کیا نہیں دیکھا گیا کہ جب کسی انسان کے عضو یا کپڑے کو گلیوں میں پھرنے والی مُرغی کا جھُوٹا زیادہ مقدار میں پہنچ جائے یا قلیل پانی جس میں بچّے نے اپنا ہاتھ یا پاؤں ڈالا اور وہ اس کے ساتھ نماز پڑھے تو نماز جائز ہوگی اور جب مشرکین کی شلوار میں نماز اداکرے تو یہ بھی جائز ہے کیونکہ ہمیں طہارت کا یقین اور نجاست میں شك ہے پس وہ شك کے ساتھ ثابت نہ ہوگی جس طرح یہاں مجوسی کے کھانے اور ہانڈیوں میں شك سے نجاست ثابت نہ ہوتی اگرچہ اس کی مثل میں احتیاط عدمِ طہارت ہی ہے اور صحابہ کرام کے واقعہ میں ہم یہ بات نہیں کہتے کیونکہ اس احتیاط کے مقابل ایك دوسرا معاملہ ہے جیسے اس وقت کھانے کی حاجت یا مجبور انسان کے لئے بیان جواز ، کیونکہ وہ لوگ ان لوگوں میں سے تھے جن کی اقتداء کی جاتی ہے جیسا کہ نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : تم پر میری اور میرے بعد خلفاء راشدین کی سنّت کی پیروی لازم ہے “ اھ جو کچھ ذخیرہ سے نقل کیا ہے وہ مکمّل ہوگیا۔ جو کچھ میں نے ان دونوں سے تلخیص اور

التقاط وھو کماتری کلام نفیس یفید النفائس ویبید الوساوس والله الحافظ من شر الدسائس۔

اقول :  ومما ینبغی التنبہ لہ ان قولہ فیمامر انہ لم ینقل عن الصحابۃ رضی الله تعالٰی عنھم انھم کانوا یغسلون اوانی الغنائم وقصاعھا کانہ اراد بہ الادامۃ والالتزام والا فقد صح عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم الامر بغسلھا احمد والشیخان وابوداؤد والترمذی وغیرھم عن ابی ثعلبۃ رضی الله تعالٰی عنہ قال قلت یارسول الله انا بارض قوم اھل کتاب افناکل فی اٰنیتھم قال ان وجدتم غیرھا فلا تأکلوا فیھا وان لم تجدوا فاغسلوھا وکلوا فیھا[2] وفی لفظ ابی داؤد انھم یأکلون لحم الخنزیر ویشربون الخمر فکیف نصنع باٰنیتھم وقدورھم [3] الحدیث

وفی احدی روایتی ابی عیسٰی سئل رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم عن قدور المجوس

انتخاب کے طریقے پر نقل کیا ہے وہ جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو نفیس کلام ہے جو عمدہ باتوں کا فائدہ دیتا اور وسوسوں کو دُور کرتا ہے اور اللہتعالٰی ہی سازشوں کے شر سے حفاظت فرمانے والا ہے۔ (ت)

 



[1]          الحدیقۃ الندیہ والنوع الرابع فی اختلاف الفقہاء مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۷۱۱

[2]   بخاری شریف کتاب الذبائح باب صید القوس مطبوعہ قدیمی کتب خانہ مقابل آرام باغ کراچی ۲ / ۸۲۳

[3]              مسند احمد بن حنبل عن ابی ثعلبہ رضی اللہ عنہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۴ / ۱۹۴



Total Pages: 269

Go To