Book Name:Fatawa Razawiyya jild 4

نہیں پہنچتا کیوں کہ پیشاب رانوں پر نہیں اترتا اور قرب ہمیشہ ملوث ہونے کا فیصلہ نہیں کرتا اور بعض جانور ٹانگیں پھیلا کر اور جھك کر پیشاب کرتے ہیں اور اس طرح وہ اسے بہا دیتے ہیں لہذا نجاست کا یقین حاصل نہ ہوا۔ کلامِ محقق کا آخری حصّہ بھی اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے جب انہوں نے فرمایا کہا گیا ہے کہ بکری (کے گرنے) سے پُورا پانی نکالا جائے حالانکہ قواعد اس کی نفی کرتے ہیں جب تك اس کے ناپاك ہونے کا یقین نہ ہو اھ۔ ہاں ایسا ظہور جو غلبہ ظن تك پہنچائے

 

عـــہ :  ثم ان المولی سبحٰنہ وتعالٰی فتح وجھا اٰخر شافیا کافیا ابلح ازھر کماقدمناہ فی فصل البیر والحمدلله اللطیف الخبیر فراجعہ فانہ مھم کبیر ۱۲ منہ غفرلہ (م)

پھر مولٰی سبحٰنہ نے ایك دوسری وجہ ظاہر فرمائی جو شافی ، کافی ، واضح اور روشن ہے جیسا کہ ہم نے اسے فصل فی البئر میں پہلے ذکر کیا ہے ، اور سب خُوبیاں اللہلطیف وخبیر کے لئے ہیں پس اس کی طرف رجوع کرو کہ یہ ایك بڑا معاملہ ہے۔ (ت)

لکن لایعکربہ علی مااردنا اثباتہ ھھنا من ان المعھود من العلماء ابداء الاحتمال للحکم بالطھارۃ دون العکس فان ھذا حاصل بعد کمالیس بخاف علی ذی فھم۔                                                                                                                                                                                                                                                                                

پاك کرنا مستحب قرار دیتا ہے۔ اور اس میں کوئی شك نہیں فقہاء کرام نے اس مسئلے میں بیس۲۰ ڈول نکالنا مستحب کہا ہے جیسا کہ خانیہ میں اسے بیان کیا۔ پس سمجھ لو ، اور اللہتعالٰی خوب جانتا ہے اھ یہ وہ ہے جو میں نے حاشیے پر تعلیق کی ہے لیکن اس کے ساتھ اس بات پر اعتراض نہیں کرنا چاہے جو ہم یہاں ثابت کرنا چاہتے ہیں وہ یہ کہ علماء سے معروف ہے کہ احتمال ، حکمِ طہارت کو ظاہر کرنے کیلئے لایا جاتا ہے کہ نہ کہ اس کا عکس۔ اور یہ (طہارت) ابھی تك حاصل ہے جیسا کہ کسی بھی ذی فہم پر مخفی نہیں۔ (ت)

مقدمہ سابعہ:

شدّت بے احتیاطی جس کے باعث اکثر احوال میں نجاست وآلودگی کا غلبہ وقوع وکثرت شیوع ہو بیشك باعثِ غلبہ ظن اور ظن غالب شرعًا معتبر اور فقہ میں مبنائے احکام ، مگر اس کی دو۲ صورتیں ہیں :

ایك تو یہ کہ جانب راجح پر قلب کو اس درجہ وثوق واعتماد ہوکہ دوسری طرف کو بالکل نظر سے ساقط کردے اور محض ناقابل التفات سمجھے گویا اُس کا عدم وجود یکساں ہو ایسا ظن غالب فقہ میں ملحق بیقین کہ ہر جگہ کار یقین دے گا اور اپنے خلاف یقین سابق کا پُورا مزاحم ورافع ہوگا اور غالبًا اصطلاحِ علما میں غالب ظن واکبر رای اسی پر اطلاق کرتے ہیں۔

فی غمزالعیون والبصائر شرح الاشباہ والنظائر الشك لغۃ مطلق التردد وفی اصطلاح الاصول استواء طرفی الشیئ وھو الوقوف بین الشیئین بحیث لایمیل القلب الی احدھما فان ترجح احدھما ولم یطرح الاٰخر فھو ظن فان طرحہ فھو غالب الظن وھو بمنزلۃ الیقین وان لم یترجح فھو وھم۔ ولبعض متأخری اصولیين عبارۃ اخری اوجز مماذکرناہ مع زیادۃ علی                                          

الاشباہ والنظائر کی شرح غمزالعیون والبصائر میں ہے “ شک ، لغت میں مطلق تردّد کو کہتے ہیں اور اصولِ فقہ کی اصطلاح میں کسی چیز کی دونوں طرفوں کا برابر ہونا اور دو چیزوں کے درمیان یوں ٹھہر جانا کہ دل ، ان میں سے ایك کی طرف بھی مائل نہ ہو اگر ان میں سے ایك کو ترجیح حاصل ہوجائے اور دوسری کو چھوڑا نہ جائے تو وہ ظن ہے اگر دوسری کو چھوڑ دیا جائے تو یہ ظنِ غالب ہے جو یقین کے درجہ میں ہے اور اگر کسی جانب ترجیح نہ ملے تو وہم ہے (ت)بعض متاخرین اصولیوں کے نزدیك ایك دوسری عبارت ہے جو ہماری مذکورہ عبارت سے زیادہ مختصر ہے

ذلك وھی ان الیقین جزم القلب مع الاستناد الی الدلیل القطعی والاعتقاد جزم القلب من غیر استناد الی الدلیل القطعی کاعتقاد العامی والظن تجویز امرین احدھما اقوی من الاٰخر والوھم تجویز امرین احدھما اضعف من الاٰخر والشك تجویز امرین لامزیۃ لاحدھما علی الاٰخر انتھی[1] اھ ملخصا۔

اقول :  وبالله التوفیق انما یتعلق غرضنا من ھذہ العبارۃ بماذکر السید الفاضل رحمہ الله تعالٰی من التفرقۃ بین الظن وغالب الظن واما بقیۃ کلام فماشٍ علی المعھود من العلماءِ الکرام من عدم التعمق فی الالفاظ عند اتضاح المرام ولابأس ان اذکرہ اشباعًا للفائدۃ وان کان اجنبیا عن المقام۔ (قولہ رحمہ الله تعالٰی استواء طرفی الشیئ اقول تفسیر بالاعم فانہ یشمل المعقول والمحسوس کاستواء طرفی حوض مربع مثلا ولوزید عندالعقل لما نفع ایضا لان المربع کمایستوی طرفاہ فی الخارج فکذا فی الذھن بل لوقیل استواء       

لیکن اس میں کچھ اضافہ بھی ہے وہ یہ ہے کہ یقین ، دل کی پختگی کو کہتے ہیں جبکہ اس میں دلیل قطعی کی سند بھی ہو اعتقاد ، دل کی پختگی ہے لیکن کسی دلیلِ قطعی کی طرف اضافت نہیں ہوتی جیسے عام آدمی کا اعتقاد۔ ظن ، دو۲ باتوں کا یوں جائز قرار دینا کہ ان میں سے ایك دوسری کی نسبت زیادہ قوی ہو۔ وہم ، دو۲ باتوں کا (اس طرح) جائز قرار دینا کہ ان میں سے ایک ، دوسری کی نسبت ضعیف ہو۔ اور شک ، دو۲ باتوں کا یوں جائز قرار دینا کہ ان میں سے ایك کو دوسری پر کوئی فوقیت حاصل نہ ہو اھ ملخصا۔

میں اللہتعالٰی کی توفیق سے کہتا ہوں جو کچھ سید فاضل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے ذکر کیا ہے ان کی عبارت سے ہماری غرض ظن اور ظنِ غالب کے درمیان تفریق ہے جہاں تك باقی کلام کا تعلق ہے تو وہ اسی پر جاری ہے جو علماءِ کرام کے درمیان معروف ہے کہ مقصد واضح ہونے کے بعد الفاظ میں غوروفکر نہیں کیا جاتا اور اگر میں فائدے میں سَیری حاصل کرنے کے لئے ذکر کروں تو کوئی حرج نہیں اگرچہ یہ بحث اس مقام میں اجنبی ہے۔

ان کے قول “ کسی چیز کی دونوں طرفوں کے برابر ہونے “ کے بارے میں مَیں کہتا ہوں کہ یہ اعم کے ساتھ تفسیر ہے کیونکہ یہ معقول اور محسوس کو شامل ہے جیسے مربع حوض کی دونوں طرفوں کا برابر ہونا ، اگر وہ “ عندالعقل “ کی قید کا اضافہ کرتے تو بھی نفع نہ دیتا کیونکہ مربع کی دونوں اطراف جس طرح خارج میں برابر ہوتی ہیں ذہن میں بھی اسی طرح ہوتی ہیں ، اور اگر “ استواء

طرفی المعقول لم یتم ایضا لصدقہ علی الحوض المذکورفی مرتبۃ المعلوم سواء قلنا بحصول الاشیاء بانفسھا کما لحج بہ کثیر من اتباع الفلاسفۃ اوباشباحھا کما ھو الحق ولبقاء الطرفین علی العموم وانما المقصود الایجاب والسلب ولبقاء الاستواء علی الاطلاق وانما المراد فی میل القلب من جھۃ الحکم لامن جھۃ اخری کملاء مۃ غرض وغیرہ۔ (قولہ وھو الوقوف الخ) اقول :  ھذا کذلك فیعم مثلا وقوف السالك بین طریقین الی بلد لایمیل قلبہ الی احدھما وغیرذلک۔ (قولہ فان ترجح احدھما الخ) اقول یشمل المستحب مثلا ففعلہ مترجح علی ترکہ مع ان الترك غیر مطروح ویجری فی الامور العادیۃ والطبعیۃ وغیرذلك فربما یعرض للانسان شیأان فی الطعام واللباس والدواء والنکاح وغیرھا وھوامیل وارغب الی احدھما منہ الی الاٰخر من دون ان یطرح الاٰخر۔ (قولہ فان طرحۃ الخ)         طرفی المعقول 

“ (معقول کی دونوں طرفوں کا برابر) کی قید لگائی جائے تو بھی تعریف کامل نہ ہوگی کیونکہ مرتبہ معلوم میں یہ حوض مذکور پر صادق آتی ہے چاہے ہم ذات کے ساتھ اشیاء کے حصول کا قول کریں جیسا کہ اکثر متبعینِ فلاسفہ نے اسے اختیار کیا یا مشابہ ذات کے ساتھ اشیاء کے حصول کا قول کریں جیسا کہ یہی حق ہے یہ تعریف اس لئے بھی تام نہیں ہوتی کہ دونوں اطراف عموم پر باقی رہتی ہیں حالانکہ مقصود تو ایجاب اور سلب ہے نیز ان کا برابر ہونا مطلق ہے اس سے بھی تعریف کامل نہیں حالانکہ میلانِ قلب میں حکم کا اعتبار مراد ہے کوئی دوسری وجہ مثلًا کسی غرض کا پایا جانا وغیرہ مراد نہیں ہے۔ ان کا قول “ وھو الوقوف “ (اور وہ ٹھہرنا ہے) ، میں کہتا ہوں یہ بھی عام ہے مثلًا اس کو بھی شامل ہوسکتا ہے جو کسی شہر کی طرف جانے والے دو۲ راستوں کے درمیان کھڑا ہو اور اس کا دل کسی ایك کی طرف بھی مائل نہ ہو ، اس کے علاوہ بھی (مراد ہوسکتا ہے) ان کے قول “ فان ترجح احدھما “ (اگر ان میں سے ایك راجح ہوجائے) کے بارے میں مَیں کہتا ہوں مثال کے طور پر یہ مستحب کو بھی شامل ہے کیونکہ اس کا کرنا ، چھوڑنے پر ترجیح رکھتا ہے باوجودیکہ ترك بھی کیا جاتا ہے اور یہ طبعی وعادی امور اور اس کے علاوہ میں بھی جاری ہونا ہے۔ بعض اوقات انسان کے سامنے دو۲ چیزیں ہوتی ہیں اشیاءِ خوردنی ولباس ودوا ونکاح وغیرہ میں وہ ان میں سے ایك کی طرف دوسرے کی نسبت زیادہ میلان رکھتا ہے لیکن دُوسری کو چھوڑنا بھی نہیں چاہتا۔ ان کے قول “ فان طرحہ “ (اگر وہ اسے چھوڑ دے)

اقول :  یصدق علی الواجب وکذا الکلام فی الامور بالغیر الشرعیۃ علی ان الظن اعم من غالب الظن ولاشك فی صحۃ اطلاق الاول علی الاٰخر والمراد بالمقابلۃ بینھما کماذکر ان ھذا القسم یختص بھذا الاسم۔

 



[1]                 غمز عیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر ، الفن الاول من القاعدۃ الثانیہ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی۱ / ۸۴



Total Pages: 269

Go To