Book Name:Fatawa Razawiyya jild 4

میں کہتا ہوں کتب میں مفہوم مخالف کا اعتبار کیا گیا ہے جیسا کہ ائمہ وعلما نے اس کی تصریح کی ، ردالمحتار میں ذخیرہ سے منقول ہے کہ فاسق کے سلسلے میں سوچ وبچار ضروری ہے اور ذمی کے بارے میں مستحب ہے اھ (ت)اور شرح تنویر میں شرح نقایہ ، خلاصہ اور خانیہ سے منقول ہے کہ کافر کا سچ جب اس کے جھُوٹ پر غالب ہو تب بھی اس (پانی) کا بہادینا زیادہ پسندیدہ ہے اھ (ت)

مقدمہ سادسہ:

کسی شے کا محل احتیاط سے دور یا کسی قوم کا بے احتیاط وشعور اور پروائے نجاست وحرمت سے مہجور ہونا اسے مستلزم نہیں کہ وہ شے یا اُس قوم کی استعمالی خواہ بنائی ہوئی چیزیں مطلقًا ناپاك یا حرام وممنوع قرار پائیں کہ اس سے اگر یقین ہُوا تو اُن کی بے احتیاطی پر اور بے احتیاطی مقتضی وقوع دائم نہیں پھر نفس شے میں سو اظنون وخیالات کے کیا باقی رہا جنہیں امثال مقام میں شرع مطہر لحاظ سے ساقط فرماچکی کماذکرنا فی المقدمۃ الثانیۃ(جیسا کہ ہم نے دوسرے مقدمہ میں ذکر کیا ہے۔ ت) اور توضیحا للمرام مسائل مسائل شرح سے اس کے چند نظائر بھی معرض بیان میں آنا مناسب کہ اس میں ایك تو ایضاح قاعدہ دوسرے اکثار فائدہ تیسرے علاج وساوس واللہتعالٰی الموفق۔

(۱) دیکھو کیا کم ہے ان کنوؤں کی بے احتیاطی جن سے کفار فجار جہاں گنوار نادان بچّے بے تمیز عورتیں سب طرح کے لوگ پانی بھرتے ہیں پھر شرع مطہر اُن کی طہارت کا حکم دیتی اور شرب ووضو روا فرماتی ہے جب تك نجاست معلوم نہ ہو۔

فی التتارخانیۃ ثم ردالمحتار من شك فی انائہ اوثوبہ اوبدنہ اصابتہ نجاسۃ اولا فھو طاھر مالم یستیقن وکذا الاٰبار والحیاض والحباب الموضوعۃ فی الطرقات ویستقی منھا الصغار والکبار والمسلمون والکفار [1] اھ۔

اقول :  وھذا امر مستمر من لدن الصدر الاول الی زماننا ھذا لایعیبہ عائب ولاینکرہ منکر فکان اجماعًا۔                         

تتارخانیہ پھر ردالمحتار میں ہے جس کو اپنے برتن ، کپڑے یا بدن میں شك ہو کہ اسے نجاست پہنچی ہے یا نہیں ، تو جب تك (نجاست لگنے کا) یقین نہ ہو وہ پاك ہے اسی طرح کنویں ، حوض اور راستوں میں رکھے ہوئے مٹکے جن میں سےچھوٹے اور بڑے ، مسلمان اور کفار (سب) پیتے ہیں (پاك ہیں) اھ

اقول : یہ بات پہلے دَور سے ہمارے زمانے تك جاری ہے کوئی عیب لگانے والا اسے عیب نہیں لگاتا اور نہ کوئی منکر اس کا انکار کرتا ہے پس اجماع ہوا۔ (ت)

(۲) خیال کرو اس سے زیادہ ظنوں وخیالات ہیں اُن جوتوں کے بارہ میں جنہیں گلی کوچوں ہر قسم کی جگہوں میں پہنے پھرے پھر علما فرماتے ہیں جُوتا کنویں سے نکلے اور اس پر کوئی نجاست ظاہر نہ ہو کنواں طاہر اگرچہ تطیبًا للقلب (دل کی تسلّی کے لئے) دس بیس۲۰ عـــہ ڈول تجویز کیے گئے۔

فی الطریقۃ والحدیقۃ عن التاترخانیۃ سئل الامام الخجندی عن رکیۃ وھی البئر وجدفیھا

طریقہ محمدیہ اور حدیقہ ندیہ میں تتارخانیہ سے منقول ہے امام خجندی سے رکیہ کے بارے میں پُوچھا گیا اور یہ ایک

عـــہ :  الاول مصرح بہ بعض الکتب والثانی لضابطۃ وضعھا محمد نظرا الی ان العشرین اقل ماورد کمافی الخانیۃ وھذا ھو الاولی بالاخذ والله اعلم ۱۲ منہ (م)

پہلے کی تصریح بعض کتب میں موجود ہے اور دوسرا اس ضابطہ کی بناء پر جسے امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے وضع کیا ہے اس کی رعایت کرتے ہوئے کہ احادیث میں وارد شدہ اقوال میں تعداد کے اعتبار سے سب سے کم بیس۲۰ کا قول ہے جیسا کہ خانیہ میں ہے یہ وہ ہے جس پر عمل کرنا اولٰی ہے والله تعالٰی اعلم ۱۲ منہ (ت)

خف ای نعل تلبس ویمشی بھا صاحبھا فی الطرقات لایدری متی وقع فیھا ولیس علیہ اثر النجاسۃ ھل یحکم بنجاسۃ الماء قال لا [2] اھ ملخصا۔

اقول :  بل قدصح عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم واصحابہ الصلاۃ فی النعال التی کانوا یمشون بھا فی الطرقات[3]۔  کمافی حدیث خلع النعال عند احمد وابی داود جمع المحدثین عن ابی سعید الخدری رضی الله تعالٰی عنہ واخرج الائمۃ احمد والشیخان والترمذی والنسائی عن سعید بن یزید سألت انسًا اکان النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم یصلی فی نعلیہ[4]  قال نعم۔ واخرج وابوداود والحاکم وابن حبان والبھیقی باسناد صحیح والطبرانی فی الکبیر علی نزاع فی صحتہ عن شداد بن اوس والبزار بسند ضعیف عن انس مرفوعًا وھذا حدیث الاول خالفوا الیھود (وفی روایۃ والنصاری) فانھم لایصلون فی نعالھم ولاخفافھم [5]  وقد کثرت الاحادیث القولیۃ والفعلیۃ فی ھذا المعنی مرفوعات وموقوفات۔                             

کنواں ہے کہ اس میں موزہ یعنی جُوتا پایا گیا جس کو پہننے والا پہن کر راستوں پر چلتا ہے اسے معلوم نہیں کہ اس میں کب گرا اور اس پر نجاست کا نشان بھی نہیں تو کیا پانی کے ناپاك ہونے کا حکم دیا جائے گا؟ انہوں نے فرمایا : نہیں اھ تلخیص۔

اقول : بلکہ نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اور صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے ان جوتوں میں جن کے ساتھ وہ راستوں میں چلتے تھے ، نماز پڑھنا صحیح طور پر ثابت ہے جیسا کہ جُوتا اتارنے والی حدیث میں ہے جسے امام احمد ، ابوداؤد اور محدثین کی ایك جماعت نے حضرت ابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی روایت سے نقل کیا ہے۔ اور امام احمد ، بخاری ومسلم ، ترمذی اور نسائی نے حضرت سعید بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے پُوچھا کہ کیا نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نعلین مبارك میں نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا : ہاں۔ اور ابوداؤد ، حاکم ، ابن حبان اور بہےیقی نے صحیح سند کے ساتھ اور طبرانی نے کبیر میں ایسی سند کے ساتھ جس کی صحت میں نزاع ہے شداد بن اوس سے اور بزار نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مرفوعًا روایت کیا اور یہ پہلی حدیث ہے کہ یہودیوں کی مخالفت کرو (ایك روایت میں ہے اور نصارٰی کی بھی) کیونکہ وہ اپنے جُوتوں اور موزوں میں نماز نہیں پڑھتے اس مفہوم میں قولی ، فعل ، مرفوع اور موقوف احادیث بکثرت پائی جاتی ہیں۔ (ت)

قلت وقد افرزت فی ھذہ المسئلۃ وتحقیق الحکم فیھا کراہۃ لطیفۃ تحتوی بعون الملك القوی علی فرائد نظیفۃ وفوائد شریفۃ سمیتھا جمال الاجمال لتوقیف حکم الصلاۃ فی النعال حاصل ماحققت فیھا ان الصلاۃ فی الحذاء الجدید والنظیف المصون عن مواضع الدفق ومواقع الریبۃ تجوز بلاکراھۃ ولابأس وکذا النعل الھندیۃ اذا لم تکن صلبۃ ضیقۃ تمنع افتراش اصابع القدم والاعتماد علیھا بل قد یقال باستحبابہ واما غیر ذلك فیمنع منہ ومن المشی بھا فی المساجد وان کانت رخصۃ فی الصدر الاول فکم من حکم یختلف باختلاف الزمان والله تعالٰی اعلم۔                                                                                                                                                                                                                                                      

میں کہتا ہوں میں نے اس مسئلہ اور اس کے حکم کی تحقیق میں ایك عمدہ کتابچہ لکھا ہے جو طاقت والے بادشاہ کی مدد سے عمدہ موتیوں اور عظیم فوائد پر مشتمل ہے میں نے اس کا نام جمال الاجمال لتوقیف حکم الصلاۃ فی النعال (جُوتوں سمیت نماز پڑھنے کے حکم کی واقفیت کا عمدہ اجمالی بیان۔ ت) رکھا ہے۔ میں نے اس میں جو تحقیق کی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ نئے اور پاك جوتے میں جو نجاست کی جگہوں اور شك وشبہ کے مقامات سے محفوظ ہو ، بلاکراہت نماز پڑھنا جائز ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہندوستانی جُوتے کابھی یہی حکم ہے جب کہ وہ ایسا سخت اور تنگ نہ ہو جو انگلیاں بچھانے اور ان پر ٹیك لگانے میں رکاوٹ ہو ، بلکہ اس کے مستحب ہونے کا قول بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ جُوتے میں نماز پڑھنے اور اس کے ساتھ مساجد میں چلنے سے بھی منع کیا جائے گا اگرچہ پہلے دور میں اس کی اجازت تھی کچھ احکام اختلافِ زمانہ سے بدل جاتے ہیں والله تعالٰی اعلم (ت)

(۳) غور کرو کیا کچھ گمان ہیں بچّوں کے جسم وجامہ میں کہ وہ احتیاط کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی پھر فقہا حکم دیتے ہیں جس پانی میں بچّہ ہاتھ یا پاؤں ڈال دے پاك ہے جب تك نجاست تحقیق نہ ہو۔

فی المتن والشرح المذکورین کذلك حکم الماء الذی ادخل الصبی یدہ فیہ لان الصبیان لایتوقون النجاسۃ لکن لایحکم بھابالشك والظن حتی لوظھرت عین النجاسۃ اواثرھا حکم بالنجاسۃ [6] اھ ملخصا۔

 



[1]      ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۱۱

[2]   الحدیقۃ الندیہ الصنف الثانی من الصنفین الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل اباد ۲ / ۶۷۴

[3]   مسند احمد بن حنبل عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ مطبوعہ دار الفکر بیروت ۳ / ۹۲

[4]   صحیح البخاری باب الصلٰوۃ فی النعال مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۶ 

[5]   

Total Pages: 269

Go To