Book Name:Fatawa Razawiyya jild 4

الحمدلله  الذی اعطی کل شیئ خلقہ ثم ھدی فکان اصل کل شیئ طاھرا اذمن القدوس الطاھر بدا وصلی الله  تعالٰی علی السید الطیب الطاھر الذی میز

تمام تعریفیں اللہ تعالٰی کیلئے ہیں جس نے ہر چیز کو اس کے لائق صورت دی پھر اسے بداہت دی ، پس ہر چیز کی اصل پاك ہے کیونکہ وہ پاکیزہ طاہر ذات کی طرف سے ظاہر ہُوئی طیب وطاہر سردار پر

الخبیث من الطیب بنور الھدی وعلی اٰلہ الاطائب وصحبہ الطاھر وبارك وسلم دائما ابدا قال احد کلاب الباب النبوی احمد رضا المحمدی السنی الحنفی القادری البریلوی غفرالله  لہ وحقق املہ اٰمین قول زید اصح وارجح واحق بالقبول واوفق بالمنقول والمعقول ہے۔ 

جس نے نورِ ہدایت کے ساتھ ناپاك کو پاك سے جُدا کردیا آپ کی پاکیزہ آل اور پاك صحابہ کرام پر اللہ تعالٰی کی رحمت ، برکت اور سلامتی ہمیشہ ہمیشہ نازل ہو۔ سگِ بابِ نبوی احمد رضا محمدی ، سُنّی ، حنفی قادری ، بریلوی ، اللہ تعالٰی اس کی بخشش کرے اور اس کی امید کو ثابت وسچ کردے (آمین) نے کہا کہ زید کا قول زیادہ صحیح ، راجح اور قبولیت کا زیادہ حق رکھتا ہے نیز معقول ومنقول کے زیادہ موافق ہے۔ (ت)

اور اس کے اکثر دلائل وجوابات صحیح ونجیح وقابل قبول فی الواقع ہمارے امام اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے مذہب میں یہ جانور سائر سباع کے مانند ہے کہ لعاب نجس اور عین طاہر ، یہی مذہب ہے صحیح واصح ومعتمد ومؤید بدلائل قرآن وحدیث ومختار وماخوذ للفتوٰی عند جمہور مشایخ القدیم والحدیث ہے۔ کلام زید میں بقدر کفایت اس کی تفصیل مذکور اور مسئلہ خود کثیر الددر ومعروف ومشہور لہذا اداءً لحق الجواب وکشف الصواب جمیع ابحاث متقدمہ حدیث وفقہ وترجیح وتزییف میں اضافہ چند فائدہ زائدہ منظور

اما الحدیث فنذکر ماذکر اصحابنا ثم نورد تحقیق الروایۃ ثم نشیر الی تنقیح الدرایۃ۔

رہی حدیث تو ہم وہی ذکر کرینگے جو ہمارے اصحاب نے ذکر کیا پھر روایت کی تحقیق لائیں گے اس کے بعد درایت کی درستگی بیان کرینگے۔ (ت)

آثار عدیدہ میں مروی کہ کلب مملوك کے قاتل پر ضمان لازم اور سگ شکاری کو عورت کا مہر مقرر کرسکتے ہیں۔

قال العلامۃ علی القاری علیہ رحمۃ الباری فی المرقاۃ کتاب البیوع باب الکسب تحت حدیث ابی مسعود الانصاری رضی الله  تعالٰی عنہ ان رسول الله  صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم نھی عن ثمن الکلب مانصہ ھو محمول عندنا علی ماکان فی زمنہ صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم حین امربقتلہ وکان الانتفاع بہ ےیومئذ محرما ثم رخص فی الانتفاع بہ حتی روی انہ قضی فی کلب صید قتلہ رجل                                                                                                                                                                                                                                   

علّامہ ملّا علی قاری ان پر اللہ تعالٰی کی رحمت ہو ، نے مرقاۃ کے کتاب البیوع ، باب الکسب میں حضرت ابومسعود انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی حدیث کو “ رسول اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے کتّے کی قیمت وصول کرنے سے منع فرمایا “ کے تحت فرمایا “ جو کچھ انہوں نے ذکر کیا وہ ہمارے نزدیك اس پر محمول ہے جو نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے زمانے میں تھا جب آپ نے اسے مار دینے کا حکم دیا اور ان دنوں اس سے نفع حاصل کرنا حرام تھا پھر اس سے انتفاع کی اجازت دے دی

باربعین درھما وقضی فی کلب ماشیۃ بکبش ذکرہ ابن الملك [1]اھ۔

اقول :  ظاھرہ عزوذلك الی رسول الله  صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم وقدصرح بہ فی الاسرار والنھایۃ وذخیرۃ العقبٰی [2]وغیرھا من الشروح والاسفار فقالوا ان عبدالله  بن عمروبن العاص رضی الله  عنہما روی عن رسول الله  صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم انہ قضی فی کلب باربعین درھما ولکن ظنی ان المعروف عـــہ وقفہ فلعل قضی فی الموضعین علی البناء للمفعول ، قال الامام الاجل ابوجعفر فی شرح معافی الآثار نزول ھذہ الاٰیۃ بعد تحریم الکلاب وان ھذہ الاٰیۃ اعادت الجوارح المکلبین الی صیرتھا حلالا واذاصارت کذلك کانت فی سائر الاشیاء التی ھی حلال فی حل امساکھا واباحۃ اثمانھا                                                

یہاں تك مروی ہے کہ ایك شخص نے شکاری کتّا ہلاك کردیا تو آپ نے (اس کے خلاف) چالیس درہم کے ساتھ فیصلہ فرمایا اور جانوروں کی حفاظت کیلئے رکھے گئے کتّے کے سلسلے میں ایك مینڈھا دینے کا فیصلہ فرمایا اسے ابن الملك نے ذکر کیا اھ (ت)

اقول : بظاہر یہ ، رسول اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی طرف منسوب ہے اور اسرار ، نہایہ ذخیرۃ العقبٰی وغیرہ شروح اور بڑی بڑی کتب میں اس کی تصریح کرتے ہوئے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے رسول اکرم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  سے روایت کیا کہ آپ نے کُتّے کے سلسلے میں چالیس درہم کا فیصلہ فرمایا لیکن میرے خیال میں اس کا موقوف ہونا معروف ہے شاید دونوں جگہوں میں “ قُضِیَ “ مبنی للمفعول ہے۔ امام اجل ابوجعفر طحاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے شرح معافی الآثار میں فرمایا کہ اس آیت کا نزول کتّوں کو حرام قرار دینے کے بعد ہوا اور اس آیت نے سکھائے ہوئے شکاری کتوں کو دوبارہ حلت کی طرف لوٹا دیا یعنی ان کا روکا ہوا (شکار) حلال ہوگا ، ان کی قیمت لینا جائز ہوگی اور ان میں سے

 

عـــہ بعد کتابتی لھذا المحل رأیت المحقق حیث اطلق ذکر الحدیث فی الفتح عن الاسرار ثم قال ھذا لایعرف الاموقوفا الخ والله  الحمد ۱۲ منہ

اس جگہ کی کتابت کے بعد میں نے دیکھا کہ محقق علی الاطلاق نے اس حدیث کو فتح القدیر میں اسرار سے ذکر کیا ہے پھر فرمایا یہ حدیث نہیں پہچانی جاتی مگر موقوفًا الخ ولله  الحمد ۱۲ منہ (ت)

وضمان متلفیھا مااتلفوا منھا کغیرھا اوقدوری فی ذلك عمن بعد النبی صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم حدثنا یونس ثناابن وھب قال سمعت ابن جریج یحدث عن عمروبن شعیب عن ابیہ عن جدہ عبدالله  بن عمرو انہ قضی فی کلب صید قتلہ رجل باربعین درھما وقضی فی کلب ماشیۃ بکبش اھ ، ثم اسند عن ابن شھاب الزھری انہ قال اذا قتل الکلب المعلم فانہ یقوم قیمتہ فیغرمہ الذی قتلہ ثم عن محمد بن یحیی بن حبان الانصاری قال کان یقال یجعل فی الکلب الضاری اذاقتل اربعون درھما [3] اھ

وفی عمدۃ القاری للعلامۃ البدر محمود العینی عن عثمٰن رضی الله  تعالٰی عنہ انہ اجاز الکلب الضاری فی المھر وجعل علی قاتلہ عشرین من الابل [4] ذکرہ ابوعمر في التمھید۔

جو کچھ ضائع کیا گیا ، ضائع کرنے والے پر اس کی ضمان ہوگی جیسا کہ دوسرے جانوروں میں ہوتا ہے (یہ مطلب نہیں کہ خود اس کا کھانا حلال ہوگیا) اس سلسلے میں نبی کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے بعد والوں (صحابہ کرام وتابعین) سے بھی روایات مروی ہیں۔ ہم (امام طحاوی) سے یونس نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں ہم سے ابن وہب نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ابنِ جریج سے سُنا وہ عمروبن شعیب سے وہ اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا (عبداللہ بن عمرو) سے روایت کرتے ہیں کہ ایك شکاری کتے کو کسی نے ہلاك کردیا تو انہوں نے اس کے بدلے میں چالیس درہموں کا فیصلہ فرمایا اور جانوروں کی حفاظت کرنے والے کتے کے بارے میں ایك مینڈھے کا فیصلہ کیا اھ ، پھر (امام طحاوی نے) ابن شہاب زہری کا قول نقل کیا انہوں نے فرمایا : جب معلّم کتّا ہلاك کیا جائے تو اس کی قیمت معین کرکے قاتل تاوان اداکرے پھر محمد بن یحیٰی بن حبان کا قول نقل کیا فرماتے ہیں کہا جاتا تھا کہ جب کوئی شخص شکاری کتّے کو ہلاك کرے تو اس کے بدلے میں چالیس درھم مقرر کئے جائیں اھ علامہ بدر الدین عینی محمود کی عمدۃ القاری میں ہے حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ انہوں نے مہر میں شکاری کتا دینا جائز قرار دیا ہے اور اس کے قاتل پر بیس۲۰ اونٹ تاوان رکھا ہے ، اسے ابوعمر نے تمہید میں ذکر کیا ہے۔ (ت)

ان احادیث سے کلب کا مال متقوم ہونا ثابت اور پُرظاہر کہ نجس العین مال متقوم نہیں تو واجب کہ طاہر العین ہو

 



[1]   مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب الکسب وطلب الحلال مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۶ / ۳۸

[2]   ذخیرۃ العقبٰی علی شرح الوقایۃ مسائل شتی من البیع ، مطبع منشی نولکشور کان پور ۲ / ۴۰۰

[3]   شرح معانی الآثار باب ثمن الکلب ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۲ / ۲۵۱

[4]   عمدۃ القاری شرح البخاری باب ثمن الکلب ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ۱۲ / ۵۹



Total Pages: 269

Go To