Book Name:Fatawa Razawiyya jild 4

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
رسالہ
قوانین العلماء فی متیمم  عــــہ علم عند زید ماء ۱۳۳۵ھ
عُلماء کے قوانین اس تیمم کرنے والے کے بارے میں جسے معلوم ہُوا کہ زید کے پاس پانی ہے (ت)

شرح تعریف رضوی کے افادہ پنجم میں ضمنًا اس مسئلہ کا ذکر آیا کہ اگر دوسرے کے پاس پانی پایا اور نہ مانگا اور تیمم سے پڑھ لی پھر مانگا اور اُس نے دے دیا تو نماز نہ ہوئی ، نہ دیا تو ہوگئی۔ اس مسئلہ کی تفصیل وتحقیق وہاں لکھی کہ بجائے خود ایك رسالہ ہوگئی طول کے سبب اُسے وہاں سے جُدا کیا اور رسالہ کا حوالہ دیا۔ یہ وہ رسالہ ہے وبالله التوفیق۔

 

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

الحمدلله الذی ارسل من بحرنداہ٭ ماء ھداہ٭ مع مصطفاہ٭فاعطانا بلا سؤال٭وطھرنا بہ من دنس

تمام تعریف خدا کیلئے جس نے اپنے بحرِ سخا سے ، آبِ ہدٰی ، اپنے مصطفٰی کے ساتھ بھیجا ، تو ہمیں بے مانگے عطا کیا اور اس سے ہمیں گمراہی کے میل سے

عــــہ : اقول : جوتیمم سے ہو اور جوتیمم کرنا چاہتا ہومتیمم دونوں پر صادق ہے اور ان مسائل میں دونوں کا ذکر ہے پھر علم کہا رأی نہ کہا کماقالوا کہ علم شرط ہے دیکھنا ضرور نہیں جیسے پانی اس سے آڑ میں ہے یا یہ اندھا ہے اور اسے علم آیا کہ دوسرے کے پاس پانی ہے اور زید کہا رفیق نہ کہا کماقالوا کہ رفیق ہونا کچھ شرط نہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)

الضلال٭ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم٭وبارك وشرف ومجدوکرم٭علی التوالی والتواتر والاتصال٭الٰی ابد الاٰباد من ازل الاٰزال٭وعلٰی اٰلہ وصحبہ خیرصحب واٰل٭

پاك کیا۔ خدائے برتر ان پر درود وسلام نازل فرمائے اور برکت وشرافت ، بزرگی وکرامت بخشے۔  پے بہ پے لگاتار اور پیہم ، ابدوں کے ابد تک ، ازلوں کے ازل سے۔ اور ان کی آل واصحاب پر جو بہتر آل واصحاب ہیں۔ (ت)

متیمّم کہ دوسرے کے پاس پانی پائے یہ مسئلہ بہت معرکۃ الآراء وطویلۃ الاذیال ہے اکثر کتب میں اُس کے بعض جزئیات مذکور ہیں امام صدر الشریعۃ نے شرح وقایہ پھر محقق ابراہیم حلبی نے غنیہ شرح منیہ میں پھر محقق زین العابدین نے بحرالرائق میں رحمھم الله تعالٰی ورحمنا بھم (خدائے برتر ان پر رحمت فرمائے اور ان کی برکت سے ہم پر رحمت فرمائے۔ ت) اُس کیلئے قوانین کلیہ وضع فرمانا چاہے کہ جمیع شقوق کو حاوی ہوں۔ فقیراوّلًا چند مسائل ذکر کرے



Total Pages: 269

Go To