Book Name:Fatawa Razawiyya jild 3

رسالہ
حسن التعمّم لبیان حد التیمّم
تیمم کی ماہیت وتعریف کا بہترین بیان(ت)

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

مسئلہ ۱۱۲ :    ۱۱ محرم الحرام  ۱۳۲۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں سوال اوّل تیمم کی تعریف وماہیت شرعیہ کیا ہے۔ بینوا توجروا

الجواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

تیممنا صعیدا طیبا من ساحۃ کرم الیہ یصعد الکلم الطیب٭ لیطھر قلوبنا والسنتنا فنستاھل ان نقول بنیۃ زکیۃ ومقول طیب۔

ان الحمدلله الذی انزل قراٰن غیر ذی عوج٭ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ                                         

ہم نے اس میدانِ کرم کی سطح پاك (صعید طیب) کا قصد کیا جس تك پاکیزہ کلمے صعود وترقی پاتے ہیں تاکہ وہ ہمارے دلوں اور زبانوں کو طہارت وپاکیزگی بخش دے جس کے باعث ہم صاف ستھری نیت اور پاکیزہ زبان سے بولنے کے قابل ہوجائیں۔ یقینا ساری تعریف خدا کیلئے ہے جس نے ایسا قرآن نازل فرمایا جس میں ذرا بھی کجی نہیں ، اور

مِنْ حَرَجٍ  والصلاۃ والسلام عدد الرمل والتراب ٭علی رحمۃ الرحمٰن ومنۃ الوھاب٭الذی اتی بالدین یسرامیسورا٭وجعلت لہ الارض مسجدا وطھورا٭فایما رجل من امتہ ادرکتہ الصلاۃ فلیصل٭متمتعا برکۃ اٰل ابی بکر الاجل۔ وعلی اٰلہ وصحبہ٭وابنہ وحزبہ٭ اجمعین٭ابد الاٰبدین۔                            

جس نے دین میں ہم پر کوئی تنگی نہ رکھی۔ ریت اور مٹی کے ذرّات کی تعداد میں درود وسلام ہو رحمت رحمن اور احسانِ وہاب پر جو سہل وآسان دین لے کر تشریف لائے ، اور جن کے لئے زمین مسجد اور مطہّر بنادی گئی کہ ان کی امت کا جو شخص بھی نماز کا وقت پا جائے وہ بزرگ ابوبکر کی آلِ پاك کی برکت سے فائدہ اٹھاتا ہوا نماز ادا کرے۔ اور اُن کی آل ، ان کے اصحاب ، ان کے فرزند ، ان کے گروہ سب پر ، ہمیشہ ہمیشہ (درود وسلام ہو) (ت)

امام محقق ابن الہمام پھر اُن کے اتباع سے بہت اعلام نے قرار دیا کہ حق یہ کہ وہ چہرہ وہر دو دست کا صعید یعنی جنس ارض طاہر سے مسح کرنا ہے یہ اجمال بہت تفصیل کا طالب فاعلم انہ جاء تحدیدہ فی کلماتھم علی ستۃ وجوہ (معلوم ہو کہ کلماتِ علماء میں تیمم کی تعریف چھ۶ طرح سے آئی ہے۔ ت)       

الوجہ الاوّل مااختارہ عامۃ شراح الھدایۃ انہ القصد الی الصعید الطاھر للتطھیر[1] وردہ المحقق فی الفتح واتباعہ بان القصد وھو النیۃ شرط لارکن [2] واجاب عنہ العلامۃ ش بجوابین :

اولھما :  ان الشرط ھو قصد عبادۃ مقصودۃ الٰی آخر مایأتی لاقصد نفس               

تعریف اوّل وہ ہے جو ہدایہ کے عامّہ شارحین نے اختیار کی : تطہیر کیلئے پاك سطح زمین کا قصد کرنا اعتراض فتح القدیر میں محقق ابن الہمام نے اور ان کے متبعین نے یوں رَد کردیا کہ قصد یعنی نیت تیمم کیلئے شرط ہے رکن نہیں (اور تعریف میں اسے عین تیمم قرار دیا گیا ہے جس سے رکن ہونا ہی ظاہر ہے) علامہ شامی نے اس اعتراض کے دو۲ جواب دیے :

جواب اوّل : تیمم میں جو قصد ونیت شرط ہے وہ یہ کہ کسی عبادت مقصودہ کا قصد ہو خود سطح زمین کا قصدالصعید [3] اھ۔

اقول اوّلًا :   (۱) قصد الصعید مامور بہ فی القراٰن العظیم فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا[4] غیر ان القصد لابدلہ

من غایۃ وھی استباحۃ عــہ عبادۃ مقصودۃ الخ ولایقصد ذلك الا من استعمال الصعید قصدا فقصد الصعید لابد منہ ولاتحقق للتیمّم الا بہ واذلیس کنا فھو شرط لاشك کنفس الصعید فانہ ایضا من شرائط التیمّم کماقال العلامۃ نفسہ ان الشارح نبہ علی انہ ای قصد الصعید شرط وکذا الصعید وکونہ مطھرا کما افادہ ح فافھم [5] اھ۔

وثانیًا :  (۲) تریدون بہ رد الایراد وان سلم ماذکرتم لما افاد الا یراد الا الازدیاد لانہ جعل حقیقۃ التیمم مالاتوقف لہ علیہ اصلا فضلا عن شرط نہیں۔

اقول : اوّلًا صعید(سطح زمین) کے قصد کا تو قرآن عظیم میں حکم موجود ہے ارشاد ہے : فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا (تو پاك روئے زمین کا قصد کرو) یہ الگ بات ہے کہ قصد کی کوئی غایت ہونا ضروری ہے۔ اور وہ نماز کو مباح کرنے والے تیمم میں یہ ہے کہ کسی عبادت مقصودہ کا جواز چاہے الخ۔ اور یہ قصدًا جنس ارض کے استعمال ہی سے مقصود ہوتا ہے تو جنس ارض کا قصد ضروری امر ہے جس کے بغیر تیمم کا ثبوت اور تحقّق نہیں ہوسکتا۔ اور یہ قصد جب رکن نہیں تو اس کا شرط ہونا یقینی ہے۔ جیسے خود جنسِ زمین ، یہ بھی شرائطِ تیمم میں سے ہے ، جیسا کہ خود علامہ شامی نے فرمایا ہے کہ شارح نے اس پر تنبیہ کردی کہ جنسِ زمین کا قصد شرط ہے اور اسی طرح جنس زمین اور اس کا مطہر ہونا بھی شرط ہے جیسا کہ حلبی نے افادہ فرمایا فافہم اھ۔

ثانیًا آپ اعتراض دفع کرنا چاہتے ہیں حالانکہ آپ کا جواب اگر تسلیم کرلیا جائے تو اس سے اعتراض میں اور اضافہ ہی ہوگا اس لئے کہ اس جواب نے تو تیمم کی حقیقت ایك ایسی چیز کو قرار دے دیا جس پر تیمم سرے سے موقوف ہی نہیں اس چیز کا رکنِ تیمم ہونا

 

عــہ  ای فی التیمم المبیح للصلاۃ  منہ غفرلہ۔

یعنی نماز کو مباح کرنے والے تیمم میں۔ (ت)

الرکنیۃ۔

والاٰخر ان المعافی الشرعیۃ لاتوجد بدون شروطھا فمن صلی بلاطھارۃ مثلا لم توجد منہ صلاۃ شرعا فلابد من ذکر الشروط حتی یتحقق المعنی الشرعی فلذا قالوا بشرائط مخصوصۃ کمامر[6]  اھ یرید مایأتی فی التعریف الثانی اِن شاء الله تعالٰی۔

 



[1]   الکفایۃ مع الفتح  باب التیمم  نوریہ رضویہ سکّھر  ۱ / ۱۰۶

[2]   فتح القدیر باب التیمم  نوریہ رضویہ سکّھر  ۱ / ۱۰۶

[3]   ردالمحتار  باب التیمم  مصطفی البابی مصر  ۱ / ۱۶۸

[4]   القرآن  ۴ / ۴۲

[5]   ردالمحتار  باب التیمم  مصطفی البابی مصر  ۱ / ۱۶۸

[6]   ردالمحتار  باب التیمم  مصطفی البابی مصر  ۱ / ۱۶۸



Total Pages: 232

Go To