Book Name:Fatawa Razawiyya jild 3

میں پانی دس۱۰ ہاتھ تھا دوسری میں نو۹ ہاتھ رہا تو معلوم ہوا کہ سو۱۰۰ ڈول میں ایك ہاتھ گھٹتا ہے دس۱۰ ہاتھ پر ہزار ڈول چاہئے تھے سو نکل گئے نوسو۹۰۰ اور نکال دیں جہاں کُل پانی نکالنا ہے ڈول کی مقدار معین کرنے کے کوئی معنی نہیں ہاں جہاں یہ حکم ہوتا ہے کہ بیس۲۰ سے تیس۳۰ یا چالیس۴۰ سے ساٹھ۶۰ ڈول تك نکالیں وہاں اس کی تعیین یہ ہے کہ ہر کنویں کیلئے اُسی کا ڈول معتبر ہے اور جس کنویں کا کوئی خاص ڈول نہ ہو وہاں وہ ڈول جس میں ایك صاع ماش آسکے صاع دوسو ستّر۲۷۰ تولے کا پیمانہ ہے۔ اگر۲  اس کے بدن پر کوئی نجاست ہونا تحقیق معلوم ہو تو کل پانی نکلے گا ورنہ بے وضو یا بے غسل آدمی کے گرنے میں بیس۲۰ ڈول اور چڑیا میں کچھ نہیں اور چُوہے میں بیس۲۰ اگر اس کا منہ پانی کو پہنچا ہو ورنہ کچھ نہیں۔ والله تعالٰی اعلم

مسئلہ ۹۶ :  مرسلہ حکمت یار خان محلہ شاہ آباد  ۲۴ جمادی الآخرہ ۱۳۳۴ ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں ، ایك کنواں ہے جس کا پانی کبھی نہیں ٹوٹتا اُس میں سے ایك چُوہا پھُولا ہوا بُودار نکلا اب اس کے پاك کرنے کی کیا صورت ہے اور ایسی صورت میں نماز لوٹائی جائیگی یا نہیں؟ اگر لوٹائی جائے گی تو کَے دن کی ، مفتی بہ قول تحریر فرمائیں۔

الجواب :

پانی توڑنے کی کوئی حاجت نہیں جتنا پانی اس میں موجود ہے اتنے ڈول نکال دیں پاك ہوجائیگا تین دن رات کی نماز کا اعادہ بہتر ہے ، والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۹۷ :  مرسلہ حکمت یارخان محلہ شاد آباد ۲۵ جمادی الآخرہ ۱۳۳۴ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے اہلسنّت وماحی بدعت قاطع ظلمت حضرت مولانا قبلہ وکعبہ مدظلہ العالی کہ ایك مسئلہ بئر جو کہ کل حضور کی خدمت میں پیش کیا گیا تھا اس کے وقوع کو آج چار دن ہوئے اور اُسی دن ایك مولوی اہلسنت وجماعت سے وہ مسئلہ دریافت کیا گیا اُنہوں نے یہ کہا کہ جب اس کنویں کا پانی نہیں ٹوٹتا ہے تو تین سو ساٹھ۳۶۰ ڈول پانی نکالنے سے پاك ہوجائیگا کل حضور کے فتوے سے معلوم ہوا کہ کنواں پاك نہیں ہوا اب دریافت طلب ہے کہ صورتِ مذکورہ سے کنواں پاك ہوا یا نہیں وایضًا صورتِ مذکور پر عمل کرکے اُس روز سے برابر اُسی سے وضو اور غسل کرکے نماز پڑھی جاتی ہے اب اس صورت میں حضور کا کیا حکم ہے۔

الجواب :

مولٰی تعالٰی معاف فرمائے وہ مسئلہ غلط بیان میں آیا وضو وغسل کرنے والوں کے بدن اور کپڑے ناپاك ہوئے وہ سب نمازیں بیکار گئیں اگر حرج عظیم بوجہ کثرت مبتلایان نہ ہو تو مذہب کا یہی حکم ہے کہ وہ سب لوگ اپنے بدن اور کپڑے پاك کریں اور یہ نمازیں پھیریں اور اس میں حرج شدید ہو تو شریعت حرج میں نہیں ڈالتی پھر ۳۶۰ ڈول وہ اور اتنے دنوں میں جتنے ڈول وضو اور غسل وغیرہ کیلئے نکلے وہ سب ملاکر اگر اُس وقت کے موجود پانی کے اندازے تك پہنچ گئے کنواں اب پاك ہوگیا ورنہ جتنے باقی رہے ہوں اب نکال لئے جائیں ، والله تعالٰی اعلم۔

___________________

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

بابُ التیمم

مسئلہ ۹۸ :                 از سرنیا ضلع بریلی مسئولہ شیخ امیر علی رضوی                   ۱۶ شوال ۱۳۳۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نمازِ عیدین یا نمازِ جمعہ یا پنجگانہ کی جماعت تیار ہے زید بے وضو ہے اور اگر وضو کریگا تو نماز ختم ہوجائیگی ایسی حالت میں کون سی نماز میں بے وضو شامل ہوسکتا ہے؟

الجواب :

بے وضو کوئی نماز نہیں ہوسکتی عیدین یا جنازہ کی نماز جاتی رہنے کا اندیشہ ہو تو تیمم کرے ، جمعہ وپنجگانہ کیلئے وضو کرنا لازم ہے اگرچہ جمعہ وجماعت فوت ہوجائے والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ۹۹ :                                  مسئولہ مولوی سید خورشید علی صاحب            ۱۱ ربیع الآخر شریف از بہیڑی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مدّت مسح موزہ میں غسل کی ضرورت ہوئی اور بسبب کسی عذر کے غسل نہیں کرسکتا تو تیمم بلا اتارنے موز ےکے کرسکتا ہے یا نہیں۔ بینوا توجروا۔

الجواب :

بیشك کرسکتا ہے تیمم میں موزہ اتارنے کی کچھ حاجت نہیں کہ وہ صرف چہرہ ودست پر دو۲ ضرب ہیں جن میں پاؤں کا اصلًا حصّہ نہیں۔

فی فصل المسح علی الخفين من الخانیۃ

خانیہ فصل المسح علی الخفين میں ہے : پیروں کا تیمم میں

لاحظ للرجلین من التیمم[1] اھ وفی ردالمحتار لافائدۃ فی النزع لانہ للغسل[2] اھ۔

کوئی حصہ نہیں اھ۔ ردالمحتار میں ہے ، موزے اتارنے میں کوئی فائدہ نہیں ، اتارنا تو غسل کیلئے ہے اھ(ت)

علماء نے جو فرمایا ہے کہ جنب کو موزہ اتارنا ضرور ہے وہ بحالتِ غسل ہے یعنی جس۱  طرح وضو میں مسح خفين جائز ہے غسل میں روا نہیں بخلاف تیمم کہ اس میں سرے سے پاؤں کا غَسل یا مسح کچھ بھی نہیں تو اُس میں نزع خف کی کیا حاجت۔ مسئلہ واضح ہے اور حکم ظاہر اور ردالمحتار کے باب التیمم میں ایك تصویر طویل سے اس کا جزئیہ بھی مستفاد فلیراجع عندہ ذکر النواقض (ردالمحتار میں یہ جزئیہ نواقض کے تحت دیکھ لیا جائے۔ ت) والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۰۰ :  مرسلہ مولوی الله یار خان صاحب ازمکان منشی حبیب الله صاحب تحصیلدار کھنڈوا ضلع نماڑ ملك متوسط ۴ ربیع الاوّل ۱۳۰۸ھ۔

جناب فيض مآب حاوی معقول ومنقول کاشف دقائق فروع واصول جناب مولوی محمد احمد رضا خان صاحب ادام الله فيضہم وظلہم وبرکاتہم بعرض مستفيدان حضور ایك عبارت دریافت معنے کیلئے حاضر کی جاتی ہیں۔

ان باعہ بمثل القیمۃ اوبغبن یسیر لایجوز لہ التیمم وان باع بغبن فاحش تیمم والغبن الفاحش مالایدخل تحت تقویم المقومین وقال بعضھم تضعیف الثمن[3]۔

 



[1]   فتاوٰی قاضی خان  مسح علی الخفين نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۴

[2]   ردالمحتار باب مسح علی الخفين مطلب نواقض المسح  مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۰۲

[3]   منیۃ المصلی  فصل فی التیمم مکتبہ قادریہ جامع نظامیہ رضویہ لاہور  ص۵۰



Total Pages: 232

Go To