Book Name:Fatawa Razawiyya jild 3

کے معاملہ میں تو ایسے ہے لیکن چمڑے کے پاك ہونے کا حکم اس پر موقوف نہیں ہے اور یہ اس لئے کہ ذبح کرنے والا اپنے عمل میں دبّاغ کا عمل کرتا ہے کہ وہ نجس رطوبات کو نکال دیتا ہے جیسا کہ ہدایہ میں ہے بلالکہ ذبح کا عمل چمڑے سے ناپاك رطوبتیں لگنے سے منع کرتا ہے

کانت الذکاۃ المانعۃ من الاتصال اولی ان تکون مطھرۃ [1]  کمافی العنایۃ ولاشك ان ھذا یعم کل ذبح فکان کما اذا دبغ مجوسی فالاظھر مااختارہ الامام قاضیخان ھذا ولعل الاوفق بالقیاس والا لصق بالقواعد ماذکر تصحیحہ فی التنویر والدر والقنیۃ ایضا وبہ جزم الاکمل والکمال وابن الکمال فی العنایۃ والفتح والایضاح وبالجملۃ ھماقولان مصححان وھذا اوفق وذاك ارفق فاختر لنفسك والاحتیاط اولٰی۔

واگر ازینہم گرزیم وگیریم کہ ذابح معاذ الله  مرتد شدوذبیحہ بجمیع اجزائہا نجس گشت بریں تقدیر نیز دباغت راموجب طہارت ندانستن جہل عظیم وباطل باجماع ائمہ ماست

فقد قال صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم ایما اھاب دبغ فقد طھر[2] والله تعالٰی اعلم۔

جبکہ دباغت کا عمل ناپاك رطوبتوں کو لگنے کے بعد زائل کرتا ہے اور دباغت جوکہ رطوبات کو لگنے کے بعد زائل کرتی ہے ، سے چمڑا پاك ہوجاتا ہے تو ذبح سے بطریق اولیٰ پاك ہوگا کیونکہ وہ رطوبات کو چمڑے کے ساتھ لگنے سے روك دیتا ہے جیسا کہ عنایہ میں ہے اور بلاشبہ یہ چیز ہر ذبح میں پائی جاتی ہے جیسا کہ ہر دباغت سے پاك ہوجاتا ہے خواہ مجوسی ہی دباغت کرے لہذا ظاہر حکم و ہی ہے جس کو قاضی خان نے بیان کیا ہے ، اس کو محفوظ کرو۔ ہوسکتا ہے جس قول کی تصحیح تنویر ، دُر اور قُنیہ نے کی وہ بھی قیاس کے موافق اور قواعد کے مطابق ہو۔ اسی کو اکمل ، کمال اور ابن کمال نے عنایہ ، فتح اور ایضاح میں اختیار کیا ہے۔ حاصل یہ کہ صحیح شدہ یہ دونوں قول ہیں ایك قیاس وقاعدہ کے زیادہ قریب ہے اور دوسرا آسانی کا باعث ہے اپنے طور پر جسے چاہو پسند کرو مگر احتیاط بہتر ہے۔ (ت)

اور اگر ہم اس کو بھی درگزر کریں اور تسلیم کرلیں کہ ذابح معاذ الله  مرتد ہے اور ذبیحہ کے چمڑے سمیت تمام اجزاء ناپاك ہیں تب بھی دباغت کے عمل سے چمڑے کو پاك نہ ماننا جہالت ہے اور باطل ہے کیونکہ اس پر تمام ائمہ کا اجماع ہے اور خود حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا ہے کہ ہر چمڑا رنگنے سے پاك ہوجاتا ہے۔ والله  تعالٰی اعلم۔ (ت)

__________________

فصل فی البئر

 

مسئلہ ۶۶ :                 از خیر آباد مرسلہ مولوی سید حسین بخش صاحب رضوی                   یکم ربیع الاوّل ۱۳۰۶ہجری

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر گرگٹ چاہ افتادہ ہو اُس کا پانی کس قدر نکالا جائے اور گرگٹ کس جانور کے برابر ہوسکتا ہے اگرچہ جُثّہ میں چھپکلی سے زیادہ اور خون رکھتا ہے بحوالہ کتاب ارشاد ہو ، بینوا توجروا۔

الجواب :

گرگٹ چُوہے کے حکم میں ہے اگر کُنویں سے مُردہ نکلے اور پھُولا پھٹانہ ہو بیس۲۰ ڈول نکالے جائیں گے فتاوٰی خانیہ وفتاوٰی ہندیہ وغیرہما میں ہے :

اذا وقع فی البئر سام ابرص ومات ینزح منھا عشرون دلوافی ظاھر الروایۃ[3]۔

ظاہر روایت یہ ہے کہ اگر گرگٹ کنویں میں گر کر مرجائے تو بیس۲۰ ڈول نکالے جائیں گے۔ (ت)

علامہ حسن شرنبلالی مراقی الفلاح میں شرح نورالایضاح میں فرماتے ہیں : مابین الفارۃ والھرۃ فحکمہ حکم الفارۃ[4]  الخ (چوہے اور بلّی کے درمیانی جانور سب کا حکم چوہے جیسا ہے۔ ت) والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۶۷ :

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دلو وسط کی مقدار کیا ہے۔ بینوا توجروا۔

الجواب :

کنویں میں جب کوئی چیز گرجائے اور شرع مطہر کچھ ڈول نکالنے کا حکم دے جہاں متون متاخرین میں لفظ دلو وسط واقع ہوا یعنی مثلًا چوہا گر کر مرجائے تو بیس۲۰ ڈول متوسط نکالے جائیں ، اس ڈول کی تعیین میں بھی اقوال مختلفہ ہیں کہ سات۷ تك پہنچتے ہیں مگر ظاہر الروایۃ ومختار۱  امام قاضی خان وصاحبِ۲  محیط ومصنف۳  اختیار ومولف۴ ہدایہ وغیرہم اکابر علماء یہی ہے کہ ہر کنویں کے لئے اُسی کا ڈول معتبر ہوگا جس سے اس کا پانی بھرا جاتا ہے ، ہاں

عـــــہ :   یہ فتوٰی فتاوٰی قدیمہ کے بقایا سے ہے جو مصنف نے اپنے صغر سن میں لکھے ۱۲ (م)

اگر اُس کنویں کا کوئی ڈول معین نہ ہو تو اس ڈول کا اعتبار کریں گے جس میں ایك صاع عدس یا ماش آجائیں غنیہ میں ہے : الدلو الوسط مایسع صاعا من الحب المعتدل [5] (درمیانہ ڈول وہ ہے جس میں صاع برابر (دال وغیرہ کے) دانے آجائیں۔ ت) اور صاع ۱  ہمارے امام کے نزدیك آٹھ رطل کا ہوتا ہے ہر رطل بیس۲۰ اِستار ہر استار ساڑھے چار مثقال ہر مثقال ساڑھے چار ماشے ، تو ہر رطل تینتیس۳۳ تولے نوماشے ، اور صاع دوسو ستّر۲۷۰ تولے کا ہوا۔

فی ردالمحتار عن شرح درر البحار اعلم ان الصاع اربعۃ امداد والمد رطلان والرطل نصف من والمن بالدراھم مائتان وستون درھما وبالاستار اربعون والاستار بکسرا لھمزۃ بالدراھم ستۃ ونصف وبالمثاقیل اربعۃ ونصف [6] اھ

اقول :  والدرھم المذکور ھھنا غیر الدرھم الشرعی المعتبر بوزن سبع کما یشھد بذلك جعلہ الاستار بالدراھم ستۃ ونصفا وبالمثاقیل اربعۃ ونصفا اذلوکان بوزن سبع لکانت اربعۃ مثاقیل ونصف بالدراھم ستۃ وثلثۃ اسباع لانصفا وایضا لوکان المن ۲۶۰ درھما بوزن سبعۃ لکان من المثاقیل ١٨٢مع انہ بحساب الاستار المذکور مائۃ وثمانون کمالایخفی علی المحاسب۔             

ردالمحتار میں شرح دررالبحار سے منقول ہے ، معلوم ہونا چاہئے کہ صاع چار۴ مُد ، اور مُد دو۲ رطل ، اور رطل نصف مَن اور مَن کا وزن دوسوساٹھ۲۶۰ درہم اور مَن اِستار کے حساب سے چالیس۴۰ استار کا ہوتا ہے ، اور استار کا وزن دراہم کے حساب سے ساڑھے چھ درہم اور مثاقیل کے حساب سے ساڑھے چار مثقال ہوتا ہے۔ اھ (ت)

 



[1]   الہدایۃ قبیل فصل فی البئر  المکتبۃ العربیۃ کراچی  ۱ /

Total Pages: 232

Go To