Book Name:Fatawa Razawiyya jild 3

رسالہ ضمنیہ
الجدّ السّدید فی نفی الاستعمال عن الصعید
 ۱۳۳۵ھ
جنسِ زمین کے مستعمل نہ ہونے میں بہت عمدہ بیان (ت)

سوال۱۱۳ دوم :

جس طرح طہارت سے پانی مستعمل ہوجاتا ہے کہ دوبارہ وضو کے قابل نہیں رہتا تیمم سے مٹّی بھی یوں ہی مستعمل ہوجاتی ہے یانہیں بیّنواتوجروا۔  

الجواب

اقول :  وبالله التوفیق ہم اوپربیان کرآئے کہ تراب یعنی جنس ارض دو۲قسم ہے حقیقی جس کابیان رسالہ المطرالسعید میں گزرا ، اور حکمی کہ وہ ہاتھ ہیں کہ بہ نیت تطہیر جنس ارض سے مس کیے گئے یہ تراب حکمی ضرور بالاجماع مستعمل ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہرعضو پرجدااتصال سے مسح شرط ہے جس کابیان ابھی افادہ نوزدہم میں گزرا اور اسی کے ثمرات سے ہیں تیمم کی وہ ترکیبیں جومشائخ نے مستحسن رکھیں جن میں ہتھیلی کے حصوں کو ذراع کے مختلف حصوں پرتقسیم فرمایاکہ ہرحصہ کانئے حصہ سے مس ہوتاکہ حتی الامکان تراب مستعمل کے استعمال سے احتراز ہو کما تقدم ذکرہ فی سابع ابحاثناعلی الوجہ السادس من وجوہ حدالتیمّم(جیسا کہ اسکاذکر تعریفات تیمم میں سے چھٹی تعریف پرہماری ساتوں بحث کے تحت گزرا۔ ت) یہاں یقینا تراب مستعمل سے یہی تراب حکمی مراد ہے کہ یہ صورتیں تیمم معہود کی ہیں اور تیمم معہود میں تراب حکمی ہی درکار تراب حقیقی کی اصلًا حاجت نہیں بلکہ لگی ہو تو اس کے چھڑادینے جھاڑدینے کاحکم ہے ایك دفعہ میں نہ چھوٹے توجتنی بار میں صاف ہوجائے پھر انہوں نے یہ ترکیبیں عام افادہ میں فرمائی ہیں اگرچہ تیمم دُھلے پتھرپرہو۔ رہی تراب  حقیقی وہ اصلًا مستعمل نہیں ہوتی۔ جوہرہ نیّرہ میں ہے :

التیمّم لایکسب التراب الاستعمال [1]۔

تیمم مٹی میں مستعمل ہونے کی صفت نہیں پیداکرتا۔ (ت)

طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے : التراب لایوصف بالاستعمال(مٹّی مستعمل ہونے سے موصوف نہیں ہوتی۔ ت)اقول : فقیر کے نزدیك یہی تحقیق ہے اور اس پرمتعدد روشن دلائل قائم وبالله التوفیق۔

دلیل اوّل نصوص صریحہ یہاں مٹیاں دو۲ہیں : ایك تو وہ جس پرہاتھ مارے وہ توبلاشبہہ مستعمل نہیں ہوتی جس پراجماع کہناکچھ مستبعد نہیں۔

لولاان عبرعنہ فی غنیۃ ذوی الاحکام عن البرھان بالاصح المشیر الی قوت فی الخلاف مع انہ فی غایۃ الغرابۃ روایۃ والسقوط درایۃ فیما اعلم والله تعالٰی اعلم۔

اگر غنیہ ذوی الاحکام میں بحوالہ برہان اس کی تعبیر لفظ “ اصح “ سے نہ ہوتی کہ اس لفظ سے اختلاف میں کچھ قوت ہونے کااشارہ ہوتاہے باوجودیکہ جہاں تك مجھے علم ہے یہ خلاف روایۃً انتہائی غریب اور درایۃً بالکل ساقط ہے اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔ (ت)

فتاوٰی امام قاضیخانذا تیمّم (۲) الرجل عن موضع تیمّم عنہ غیرہ جاز[2]۔

جب آدمی نے ایسی جگہ سے تیمم کیا جہاں سے کسی اور نے تیمم کیا تھا تویہ جائز ہے۔ (ت)

شلبیہ علی الزیلعی :

قال الزاھدی لوتیمّم جماعۃ بحجر واحد اولبنۃ وارض جازکبقیۃ الوضوء[3]۔

زاہدی نے کہا : اگرایك جماعت نے ایك پتھر یاکچی اینٹ یازمین سے تیمم کیاتوجائز ہے جیسے بقیہ آب وضو(کہ اس سے پھر کوئی دوسرا وضو کرسکتاہے)۔ (ت)

محیط سرخسی و ہندیہ :

لوتیمّم اثنان من مکان واحد جاز[4]۔

اگردو۲نے ایك جگہ سے تیمم کیا ، جائزہے۔ (ت)

تاتارخانیہ و عالمگیری :

اذا تیمّم مرارًا من موضع واحد جاز[5]۔

اگرایك ہی جگہ بارہا تیمم کیاتوجائز ہے۔ (ت)

 



[1]   الجوہرۃ النیرۃ باب التیمم مطبع امدادیہ ملتان ۱ / ۲۷

[2]    فتاوی قاضیخان  باب التیمم  مطبع نولکشورلکھنؤ ۱ / ۳۰

[3]   شلبیہ علی تبیین الحقائق  باب التیمم  مطبعۃ الامیریہ بولاق مصر ۱ / ۳۸

[4]   فتاوی عالمگیری  باب التیمم  مطبع نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۱

[5]   الفتاوی التاتارخانیہ نوع فیما یجوز بہ التیمم ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۲۴۲



Total Pages: 232

Go To