Book Name:Fatawa Razawiyya jild 2

(۵)حائض ونفساء کو جب تک حیض ونفاس باقی ہے وضو وغسل کا حکم نہیں مگر انہیں(۴)مستحب ہے کہ نماز پنجگانہ کے وقت اور اشراق وچاشت وتہجد کی عادت رکھتی ہو تو ان وقتوں میں بھی وضو کر کے کچھ دیر یادِ الٰہی کرلیا کرے کہ عبادت کی عادت باقی رہے۔ انہوں نے یہ وضو کیا۔

(۶)پاک آدمی نے ادائے سنّت کو جمعے یا عیدین یا عرفے یا احرام یا اور اوقات مسنونہ کا غسل یا میت کو غسل دینے کا وضو یا غسل کیا۔

(۷)باوضو(۱)نے کھانے کو یا کھانا کھا کر بہ نیت ادائے سنّت ہاتھ دھوئے یا کُلّی کی۔

(۸)وضوئے فرض یا نفل میں جو پانی کُلّی یا ناک میں پہنچانے میں صرف ہوا۔

(۹)کچھ اعضا دھو لئے تھے خشک ہوگئے سنت موالات کی نیت سے انہیں پھر دھویا ان سب صورتوں میں شکل دوم کے سبب مستعمل ہوجائے گا اگرچہ اسقاط واجب نہ کیا اقامت قربت کی(۲)میت کو نہلا کر غسل کرنا بھی مستحب ہے کما فی الدر وغیرہ۔

(۱۰)میت کے بارے میں علماء مختلف ہیں جمہور کے نزدیک موت نجاست حقیقہ ہے اس تقدیر پر تو وہ پانی کہ غسل میت میں صرف ہوا مائے مستعمل نہیں بلابلکہ ناپاک ہے اور بعض کے نزدیک نجاست حکمیہ ہے بحرالرائق وغیرہ میں اسی کو اصح کہا اس تقدیر پر وہ پانی بھی مائے مستعمل ہے اور ہماری تعریف کی شق اول میں داخل کہ اُس نے بھی اسقاط واجب کیا۔

اقول ولہٰذا ہم نے انسان کا پارہ جسم کہا نہ مکلف کا کہ میت مکلّف نہیں۔ اور تطہیر لازم تھی کہا نہ یہ کہ اس کے ذمے پر لازم تھی کہ یہ تطہیر میت کے ذمّے پر نہیں احیا پر لازم ہے۔

(۱۱)یوں ہی غسل میت کا دوسرا اور تیسرا پانی بھی آبِ مستعمل ہوگا کہ اگرچہ پہلے پانی سے اسقاط واجب ہوگیا مگر غسلِ میت میں تثلیث بھی قربت مطلوبہ فی الشرع ہے۔

اقول ولہٰذا ہم نے شق دوم میں بھی بدن انسان مطلق رکھا۔

(۱۲)وضو علی الوضو کی نیت سے دوسرے کو کہا مجھے وضو کرادے اُس نے بے نیت ثواب اُس کے اعضائے وضو دھو دئیے پانی مستعمل ہوگیا کہ جب اس کے امر سے ہے اور اس کی نیت قربت کی ہے تو وہ اسی کا استعمال قرار پائے گا الا تری انہ لوفعل ذلك محدث ونوی فقد اتی بالمامور بہ مع ان امر فاغسلوا وامسحوا انما کان علیہ(جیسا کہ اگر بے وضو ایسا کرے اور نیت کرے تو مامور بہ کو بجا لانے والا ہوگا جو فاغسلوا وامسحوا سے اس پر لازم تھا۔ ت)

(۱۳)باوضو(۳)آدمی نے اعضاء ٹھنڈے کرنے یا میل دھونے کو وضو بے نیت وضو علی الوضو کیا پانی مستعمل نہ ہوگا کہ اب نہ اسقاط واجب ہے نہ اقامت قربت۔

(۱۴)معلوم تھا کہ عضو تین۳ بار دھو چکا ہوں اور ہنوز پانی خشک بھی نہ ہوا تھا بلا وجہ چوتھی بار اور ڈالا یہ بھی قربت نہیں بلکہ خلافِ ادب ہے۔

(۱۵)ہاں اگر شک ہو کہ دو۲ بار دھویا یا تین۳ بار یوں تیقن تثلیث کیلئے پانی پھر ڈالا تو مستعمل ہوجائے گا اگرچہ واقع میں چوتھی بار ہو۔

(۱۶)جسے حاجتِ غسل نہیں اُس نے اعضائے وضو کے سوا مثلاً پیٹھ یا ران دھوئی۔

(۱۷)باوضو نے کھانا کھانے کو یا کھانے سے بعد یا ویسے ہی ہاتھ منہ صاف کرنے کو ہاتھ دھوئے کُلّی کی اور ادائے سنّت کی نیت نہ تھی مستعمل نہ ہوگا کہ حدث وقربت نہیں۔

(۱۸)باوضو نے صرف کسی کو وضو سکھانے کی نیت سے وضو کیا مستعمل نہ ہوا کہ تعلیم وضو اگرچہ قربت ہے مگر وضو سکھانے کو وضو کرنا فی نفسہ قربت نہیں سکھانا قربت ہے اور وہ زبان سے بھی ممکن ولہٰذا ہم نے قید لگائی کہ وہ استعمال خود کارِ ثواب تھا یعنی فعل فی نفسہ مطلوب فی الشرع ولو مقصودا لغیرہ کالوضوء(فعل فی نفسہ مطلوب فے الشرع ہے اگرچہ مقصود لغیرہ ہو جیسے وضو ہے۔ ت)

(۱۹)کوئی پاک کپڑا وغیرہ دھویا۔

(۲۰ ، ۲۱)کسی جانور یا نابالغ بچّے کو نہلایا اور ان کے بدن پر نجاست نہ تھی اگرچہ وہ جانور غیر ماکول اللحم ہو جیسے بلّی یا چوہا حتی کہ مذہب راجح میں کُتّا بھی جبکہ پانی اُن کے لعاب سے جُدارہا اگرچہ نہلانا ان کے دفع مرض یا شدت گرما میں ٹھنڈ پہنچانے کو بہ نیت ثواب ہو مستعمل نہ ہوگا۔

اقول : کپڑا برتن جانور اور ان کے امثال تو بدن انسان کی قید سے خارج ہوئے اور نابالغ کو نہلانا مثل وضوئے تعلیم خود قربت نہیں کہ بچّوں کے نہلانے کا کوئی خاص حکم شرع میں نہ آیا ہاں انہیں بلکہ ہر مسلمان وجاندار کو نفع وآرام پہنچانے کی ترغیب ہے یہ امور عادیہ اُس حکم کی نیت سے کلیہ محمودہ کے نیچے آکر قربت ہوسکتے ہیں مگر موجب استعمال وہی فعل ہے جو بذاتِ خود قربت ومطلوب شرع ہو۔

(۲۲)حائض ونُفسَاء نے قبل انقطاع دم بے نیت قربت غسل کیا پانی مستعمل نہ ہوگا کہ اس نے اگرچہ انسان کے جسم کو مس کیا جس کی تطہیر غسل سے واجب ہوگی مگر ابھی لازم نہیں بعد انقطاع لزوم ہوگا۔ اقول ولہٰذا ہم نے بالفعل کی قید لگائی۔

(۲۳)ناسمجھ بچّے نے وضو کیا جس طرح دو تین سال کے اطفال ماں باپ کو دیکھ کر بطور نقل وحکایت افعال وضو نماز کرنے لگتے ہیں پانی مستعمل نہ ہوگا کہ نہ قربت نہ حدث۔

(۲۴)وضو کرنے میں پانی کو جب تک اُسی عضو پر بَہہ رہا ہے حکم استعمال نہ دیا جائے گا ورنہ وضو محال ہو جائے بلکہ جب اُس عضو سے جُدا ہوگا اس وقت مستعمل کہا جائے گا اگرچہ ہنوز کہیں مستقر نہ ہوا ہو مثلاً(۱)منہ دھونے منہ دھونے میں کلائی پر پانی لیا اور وہی پانی کے مُنہ سے جُدا ہو کر آیا کلائی پر بہا لیا جمہور کے نزدیک کافی نہ ہوگا کہ مُنہ سے منفصل ہوتے ہی حکم استعمال ہوگیا ہاں جن بعض کے یہاں استقرار شرط ہے اُن کے نزدیک کافی ہے کہ ابھی مستعمل نہ ہوا اور غسل میں سارا بدن عضو واحد ہے تو سر کا پانی کہ پاؤں تک بہتا جائے جس جس جگہ گزرا سب کو پاک کرتا جائے گا۔

(۲۵)اقول نجاست میں حکمیہ کی تقیید کا فائدہ ظاہر ہے کہ جو پانی نجاست حقیقیہ کے ازالہ میں صرف ہو ہمارے نزدیک مطلقًا  ناپاک ہوجائے گا نہ کہ مستعمل۔

(۲۶)اقول : ہم نے پانی کو مطلق رکھا اور خود رفع نجاست حکمیہ واقامت قربت ہائے مذکورہ سے واضح کہ پانی سے مائے مطلق مراد ہے تو شوربے یا دودھ کی لسّی یا نبیذ تمر سے اگر وضو کرے وہ مستعمل نہ ہونگے ان سے وضو ہی نہ ہوگا تو مستعمل کیا ہوں۔

(۲۷)خود نفس جنس یعنی پانی نے دودھ سرکہ گلاب کیوڑے وغیرہا کو خارج کردیا کہ اُن سے وضو کرے تو مستعمل نہ ہوں گے اگرچہ بے وضو ہو اگرچہ جُنب ہو اگرچہ نیت قربت کرے کہ(۱)غیر آب  نجاست حکمیہ سے اصلا تطہیر نہیں کرسکتا۔

تنبیہ : اگر کہیے ۲۶ و ۲۷ کا ثمرہ کیا ہے کہ مستعمل ہونے سے ہمارے نزدیک شے نجس نہیں ہوجاتی صرف نجاست حکمیہ دور کرنے کے قابل نہیں رہتی یہ قابلیت ان اشیاء میں پہلے بھی نہ تھی تو ان کو مستعمل نہ ماننے کا کیا فائدہ ہوا۔ اقول اول تو یہی فائدہ بہت تھا کہ مستعمل نہ ہونے سے ان کی طہارت متفق علیہ رہے گی کہ مستعمل کی طہارت میں ہمارے ائمہ کا اختلاف ہے اگرچہ صحیح طہارت ہے۔

ثانیًا : مستعمل(۲)اگرچہ طاہر ہے مگر قذر ہے مسجد میں اُس کا ڈالنا ناجائز ہے ان اشیاء کو مستعمل نہ بتانے سے یہ معلوم ہوا کہ مثلاً جس(۳)گلاب سے کسی نے وضو کیا اُسے مسجد میں چھڑک سکتے ہیں کہ وہ مستعمل نہ ہوا۔

بالجملہ یہ وہ نفیس وجلیل جامع ومانع وشافی ونافع تعریف مائے مستعمل ہے کہ بفضلِ الٰہی خدمت کلمات علمائے کرام سے اس فقیر پر القا ہوئے ولله الحمد۔ سہولتِ حفظ کیلئے فقیر اسے نظم کرتا اور برادران دینی سے دعائے عفو وعافیت کی طمع رکھتا ہے   ؎

 



Total Pages: 220

Go To