Book Name:Fatawa Razawiyya jild 2

تنبیہ اول : جو کچھ انہوں نے فرمایاہے اس کا مقتضی نبیذتمر اور نبیذ منقی سےوضوکاجوازہے خواہ اوصاف ثلٰثہ ہی کیوں نہ بدل گئے ہوں ، اور تیمم کے باب سے پہلے انہوں نے تصریح کی ہے کہ صحیح اس کے برخلاف ہے اور اس روایت سے رجوع کرلیاہے ، اور یہ اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ اس پر سے پانی کانام زائل نہ ہوا ہو ، اور نبیذتمر کے مسئلہ میں اس سے پانی کا نام زائل ہوگیا ہے تو کوئی مخالفت نہیں ، کمالایخفی۔
تنبیہ ثانی : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زعفران جب پانی میں مل جائے تو اس سے اس وقت تك وضو جائز ہو جب تك وہ
سیال ورقیق ہو خواہ اس کے تمام اوصاف بدل گئے ہوں ، کیونکہ وہ جامدات سے ہے ، اور معراج الدرایہ میں قنیہ سے منقول ہے کہ اگر زعفران پانی میں ڈال دی جائے تو اگر اس سے رنگنا ممکن ہو تو وہ مطلق پانی نہیں ہے ، اس میں گاڑھے پن کا کوئی اعتبار نہیں ، اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے پانی کا نام زائل ہوگیا ہے اھ(ت)

اس کو ان کے بھائی اور شاگرد محقق نے نہر میں رد کیاہے جیسا کہ ط میں ہے کہ زیلعی نے اس کو ذکر نہیں کیا ہے اور اس تقیید سے کچھ نفع نہ ہوگا اھ اس کا جواب علامہ ابو السعود نے فتح  اللہ المعین میں دیا ہے ،

فی فتح ا لله المعین وتبعہ ط بان الکلام فیما اذالم یزل عنہ اسم الماء کما ذکرہ الزیلعی فتنظیرالنھر ساقط وما ذکر فی البحر من الجواب ماخوذ من صریح کلام الزیلعی [1]۔ فھؤلاء ثلثۃ اجلاء اختلف انظارھم فی کلام الامام الزیلعی اماالاخوان العلامتان فاتفقاعلی ان الزیلعی لم یذکر فی الجامد قید بقاء الاسم غیران البحر یقول انہ مطوی منوی فالمعنی انکان جامدافمادام باقیاعلی رقتہ فالماء ھو الغالب یشرط ان لایزول عنہ اسم الماء والنھر یقول انہ لم یذکرہ کما تری ولم یردہ لانہ لایجدی نفعاواماالسید فزعم انہ مذکور فی صریح کلام الزیلعی وان کلامہ انما ھو فیہ وان البحر انما اخذہ منہ۔ ھکذا اختلفو واناانقلہ لك کل کلام الزیلعی لتجلی لك جلیۃ الحال قال رحمہ ا لله تعالٰی بعد مانقل اقوالًا متخالفۃ ھکذا جاء الاختلاف فلابد من ضابط وتوفیق فنقول ان الماء اذابقی علی اصل خلقہ ولم یزل عنہ اسم الماء جاز الوضوء بہ وان زال وصار مقیدا لم یجز والتقیید اما بکمال الامتزاج اوبغلبۃ الممتزج فکمال الامتزاج بالطبخ بطاھر لایقصد بہ التنظیف اوبتشرب النبات وغلبۃ الممتزج  

اور اس کی پیروی ط نے کی ہے کہ گفتگو اس میں ہے جس سے پانی کانام زائل نہ ہوا ہو جیسا کہ زیلعی نے ذکر کیاہے ، تو نہر کا نظیر دیناساقط ہے درست نہیں ، اور جو جواب بحر میں ہے وہ زیلعی کے صریح کلام سے ماخوذ ہے۔ (ت)تو یہ تین جلیل القدر علماء ہیں جن کی آراء زیلعی کے کلام کی بابت مختلف ہیں ، دونوں برادران اس پر متفق ہیں کہ زیلعی نے جامد میں نام کے بقا کی قید ذکر نہیں کی ہے ، البتہ بحر کہتے ہیں یہ نیت میں مضمر ہے ، تو معنی یہ ہے کہ اگر وہ جامد ہے تو جب تك وہ رقیق ہے تو پانی ہی غالب ہے بشرطیکہ اس سے پانی کانام زائل نہ ہو ، اور نہر کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس کو ذکر نہیں کیا ہے جیساکہ آپ دیکھ رہے ہیں اور اس کو انہوں نے رَد نہیں کیاہے کیونکہ اس میں کوئی فائدہ نہیں ، اور سید کا گمان ہے کہ یہ زیلعی کے کلام میں صریحًا مذکور ہے اور ان کا کلام اسی میں ہے اور بحر نے اُسی سے اخذ کیا ہے۔ (ت)

اسی طرح انہوں نے اختلاف کیا ہے ، اور اب میں زیلعی کا کلام نقل کرتا ہوں تاکہ بات پُوری طرح واضح ہوجائے ، انہوں نے پہلے تو مخالف اقوال ذکر کئے ، پھر فرمایا ، اسی طرح اختلاف ہوا ہے ، تو کوئی ضابطہ اور توفیق ضروری ہے ، تو ہم کہتے ہیں کہ پانی جب اپنی اصلی خلقت پر ہو اور اس سے پانی کا نام سلب نہ ہوا ہو تو اس سےوضوجائز ہے اور اگر نام زائل ہوجائے

بالاختلاط من غیر طبخ ولا تشرب نبات ثم المخالط ان جامدافمادام یجری علی الاعضاء فالماء الغالب وان مائعافان لم یکن مخالفافی شیئ کالماء المستعمل تعتبر بالاجزاء وان مخالفافیھافان غیراکثرھا لایجوزالوضوء بہ والاجازوان خالف فی وصف اووصفین تعتبر الغلبۃ من ذلك الوجہ کاللبن یخالفہ فی اللون والطعم فان کان بون اللبن اوطعمہ ھو الغالب لم یجز والاجاز وماء البطیخ یخالفہ فی الطعم فتعتبر الغلبۃ فیہ بالطعم فعلی ھذا یحمل ماجاء منھم علی مایلیق بہ فقول من قال ان کان رقیقایجوز والا لاعلی مااذا کان المخالط جامداومن قال ان غیراحداوصافہ جاز علی ماخالفہ فی الثلثۃ ومن قال اذا غیر احداوصافہ لایجوز علی ماخالفہ فی وصف او وصفین ومن اعتبر بالاجزاء علی مایخالفہ فی شیئ فاذانظرت وتأملت وجدت ماقالہ الاصحاب لایخرج عن ھذا و وجدت بعضھا مصرحا بہ وبعضھا مشارالیہ [2] اھ ھذاکل کلامہ قدلخصتہ ولم اخرم منہ حرفاغیرماذکر فی التشرب من الفرق بین الخروج والاستخراج فانہ غیر صحیح                                           

اور مقید ہوجائے تو جائز نہیں ، اور تقیید یا تو کمالِ امتزاج کے ساتھ یا ملی ہوئی چیز کے غلبہ کے ساتھ ہوگی ، تو کمالِ امتزاج یہ ہے کہ پانی میں ایسی پاك چیز ڈال کر پکائے جس سے تنظیف مقصود نہ ہو یا گھاس میں پانی جذب ہوجائے اور ملی ہوئی چیز کا غلبہ یہ ہے کہ پانی کا اختلاط بلا پکائے ہو اور گھاس میں پانی جذب کیے بغیر ہو پھر ملنے والی چیز اگر جامد ہو تو جب تك وہ اعضاء پر بہے تو پانی غالب ہوگا ، اور اگر ملنے والی چیز بہنے والی ہے تو وہ اگر کسی چیز میں پانی کے مخالف نہیں ہے ، جیسے مستعمل پانی تو غلبہ کا اعتبار اجزأ سے ہوگا ، اور اگر وہ پانی کے مخالف ہو تو اگر اکثر اوصاف کو بدل دے تو اس سےوضوجائز نہیں ورنہ جائز ہے ، اور اگر ایك یا دو وصفوں میں مخالف ہے تو اسی وجہ سے غلبہ معتبر ہوگا ، جیسے دودھ کہ پانی کے مخالف ہے رنگ اور مزے میں ، تو اگر دودھ کا رنگ یا مزہ غالب ہو تووضوجائز نہیں ورنہ جائز ہوگا۔ اور خربوزہ کا پانی ، پانی سے صرف مزہ میں مختلف ہے تو اس میں غلبہ باعتبار مزہ ہوگا ، لہٰذا فقہاءکی نصوص کو انہی مفاہیم پر محمول کرنا چاہئے جو اس کے لائق ہوں ، اب جو یہ کہتا ہے کہ اگر وہ رقیق ہے تو جائز ہے ورنہ نہیں ، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ملنے والی اگر جامد ہے تو یہ حکم ہے۔ اور جو کہتا ہے کہ اگر اس کے اوصاف میں سے کسی وصف کو بدل دیا تو جائز ہے ، یہ اس صورت میں ہے جب کہ وہ چیز پانی کے ساتھ تینوں وصفوں میں مخالف ہے ، اور جو کہتا ہے کہ جب اس کے اوصاف میں سے ایك وصف کو بدل دے تو جائز نہیں ، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ چیز پانی سے ایك یا دو وصفوں میں مخالف ہے ،

ولا یتعلق بہ الغرض ھھنا۔

اقول :  فقد بان لك من کلامہ ثلٰثۃ امور الاول(۱) لاذکر فی کلامہ لتقییدحکم الجامد ببقاء الاسم حتی بالاشارۃ فضلا عن التصریح انماقال مادام یجری علی الاعضاء فالماء غالب ای مطلق غیرمقید فھذا کما تری مطلق غیر مقید ثم اذا اتی علی تطبیق الضابطۃ علی الروایات المختلفۃ حمل علی الجامد قول من قال ان کان رقیقایجوزوالا لا والقول فی الاصل مرسل وفی الحمل مرسل ارسالا فمتی جنح الی التقیید وکذلك تلونا علیك کلام الاٰخذین عنہ اصحاب الفتح والحلیۃ والغنیۃ والدرر ونورالایضاح حتی البحر الذی ابدی ھذا التقیید لم یلم احدمنھم فی تلخیص الضابطۃ الیہ لاجرم ان صرح الشامی بانہ من زیادات البحر الثانی ذکر رحمہ ا لله تعالٰی اولا اصلا مجمعا علیہ ان الوضوء انمایجوز بالماء المطلق وھو الذی لم یزل عنہ طبعہ                         

اور جو کہتا ہے کہ اگر اس کے اوصاف میں سے کسی وصف کو بدل دیا تو جائز ہے ، یہ اس صورت میں ہے جب کہ وہ چیز پانی کے ساتھ تینوں وصفوں میں مخالف ہے ، اور جو کہتا ہے کہ جب اس کے اوصاف میں سے ایك وصف کو بدل دے تو جائز نہیں ، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ چیز پانی سے ایك یا دو وصفوں میں مخالف ہے ، اور جس نے غلبہ باعتبار اجزاء لیا ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ چیز پانی کے ساتھ کسی چیز میں مخالف نہ ہو ، تو جب آپ غور کریں گے تو اسی نتیجہ پر پہنچیں گے جو کچھ اصحاب نے فرمایا ہے وہ اس بیان سے خارج نہیں ، ان میں سے بعض امور تو کتب میں بصراحت مذکور ہیں اور بعض کاذکر اشارتًا ہے اھ یہ ان کا مکمل کلام ہے جو بلاکم وکاست میں نے نقل کردیا ہے ، صرف تَشرُّب میں جو فرق خروج واستخراج میں ہے ، وہ صحیح نہیں ، اور نہ ہی اس سے کوئی غر ض یہاں متعلق ہے۔ (ت)

میں کہتا ہوں اُن کی گفتگو سے آپ کو تین باتیں معلوم ہوئیں : اول : ان کے کلام میں جامد کے حکم کو نام کی بقاء سے مقید کرنے کا کوئی تذکرہ موجود نہیں ہے صراحت تو الگ رہی اشارہ تك نہیں ، انہوں نے صرف یہ فرمایاہے کہ جب تك وہ اعضاء پر جاری رہے تو پانی غالب ہے یعنی مطلق ہے مقید نہیں ، تو جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں یہ مطلق ہے مقید نہیں ، پھر جب وہ ضابطہ کو مختلف روایات پر منطبق کرنے لگے ، تو جن لوگوں نے کہا ہے کہ اگر رقیق ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں انکے اس قول کو جامد پر محمول کیا ہے حالانکہ یہ قول مطلق ہے اور حمل میں بھی مرسل ہے تو قید لگانے کی طرف کب مائل ہوئے؟اسی طرح ہم نے اُن حضرات کا کلام بھی نقل کردیا جنہوں نے اس سے لیا ہے یعنی فتح ، حلیہ ، غنیہ ، درر اور نور الایضاح کے مصنفین ، یہاں تك کہ صاحبِ بحر جنہوں نے یہ قید لگائی ، ان میں سے کسی نے ضابطہ کا خلاصہ یہ نہیں کیا ، اس لئے شامی نے تصریح کردی کہ یہ زیادات بحر سے ہے۔

دوم : پہلے تو انہوں نے ایك متفق علیہ اصل

ولااسمہ دون المقید الزائل عنہ اسمہ۔

اقول :  ولم یذکر الطبع لان زوال الطبع یوجب زوال الاسم فذکرہ اولا ایضاحاوحذفہ اٰخرا اجتزاء فھذاالقدرممالاخلاف فیہ لاحد انما الشان فی معرفۃ المطلق والمقید ای معرفۃ انہ متی یزول الاسم فیحصل التقیید فتشمر لاعطاء ضابطۃ ذلك تتمیز بھا مواضع زوال الاسم عن محال بقائہ فقال التقیید باحدامرین کمال الامتزاج اوغلبۃ الممتزج الخ فلاشك انہ کلام فیمالم یزل عنہ اسم الماء کماذکرہ السید کانہ مسوق لبیان مایحصل بہ



[1]         فتح اللہ المعین ابحاث الماء سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۴

[2]            تبیین الحقائق بحث الماء بولاق مصر ۱ / ۲۰



Total Pages: 220

Go To