Book Name:Fatawa Razawiyya jild 2

چھٹی صورت میں کہا جاسکتا ہے کہ ہوا میں ملنا یا زمین پر جاری ہونا بہنے کے بعد ہی ہوگا تو جس قدر بہانا ہوگا وہ مل جائے گا اور آخری ملنا مکمل بہانے کے بعد ہی متحقق ہوگا تو اگر وہ جاری نہ رہا اس کے بعد تو آخری ملنے والا مکمل طور پر نجس ہوجائے گا۔ (ت)اور ثانیا ، جاری کی جو مشہور تعریف ہے وہ یہ ہے کہ جاری پانی وہ ہے جو تنکا بہا کر لے جائے اور اظہر یہ ہے کہ جس کو جاری سمجھا جائے جیسا کہ دُر میں ہے اور وہ ہی صحیح ہے جیسا کہ بدائع ، تبیین ، بحر اور نہر میں ہے اور اس میں کچھ شك نہیں کہ دونوں تعریفات اُس نہر پر صادق ہیں جو اوپر سے

اھل العرف ان یقول انہ راکد فمن(۱)العجب بعد ذکرہ اختیار اشتراط المدد الا ان یقال ان الوضوء بغمس الاعضاء انما یکون فیما بعد السد منفصلا عنہ لا فی الاجزاء الملاصقۃ لہ وما انفصل عن السد فلہ من فوقہ مدد تأمل۔

وثالثا : (۲)یظھر لی والله تعالٰی اعلم ان لیس(۳)جریان الماء الا حرکتہ بطبعہ فی فضاء وبقاؤہ جاریا علی محل واحد ھو الذی یحتاج الی المدد لان الجاری لایقف فلولم یمد لاخلی المحل وبالمدد یتجدد علیہ امثالہ فیستمر جاریا علیہ مادام المدد غیران الجریان دافع لاثرالنجاسۃ عن الماء ما استمر جاریا لارافع لہ عنہ(۴)فلوجری الماء المتنجس بنفسہ بان کان فی صبب سد مجراہ ففتح ففاض لم یطھر ابدا بل لابد للطھارۃ من جریانہ مع الطاھر فجریان الطاھر لایحتاج الی المدد کنھر سد من فوقہ وکما تری اذا اشتد المطر ووقف لایزال الماء الواقع علی الارض والسطوح جاریا مدۃ بعدہ ولا یصح لاحد ان یقول وقف الواقع فور وقوف المطر وجریان النجس المطھرلہ یحتاج الی مدد من طاھر فلیکن محمل                                                

بند کردی گئی ہو کیونکہ یہ تو پورا ایك گھٹا بہر کر لے جائے گی چہ جائیکہ تنکا اور اہلِ عرف میں سے کسی کو روا نہیں کہ وہ اس پانی کو ٹھہرا ہوا کہے ، تعجب ہے کہ یہ بات ذکر کرنے کے بعد انہوں نے مدد کے شرط ہونے کو اختیار کیا ہے ، تاہم یہ جواب دیا جاسکتا ہے کہ اعضاء ڈبو کر وضو اسی پانی سے ہوسکتا ہے جو بندش کے بعد اس سے جدا ہو ، اس پانی میں نہیں ہوسکتا جس کے اجزاء بندش کے ساتھ ملے ہوئے ہوں اور جو بندش سے جدا ہے اس کو اوپر سے مدد مل رہی ہے تأمل

محل واحد پر جاری رہنا مدد کا محتاج ہے کیونکہ جو جاری ہے وہ ٹھہرے گا نہیں ، تو اگر اس کو مدد نہ ملے تو وہ جگہ خالی ہوجائے گی اور مدد کی اور ثالثا ، جو اللہ کے فضل سے مجھ پر منکشف ہوا ہے وہ یہ ہے کہ پانی کے جاری ہونے سے فضا میں اس کی طبعی حرکت مراد ہے اور اس کا وجہ سے اس پر اس کے امثال کا تجدد ہوگا تو وہ اس پر جاری رہے گا جب تك مدد ملتی رہے گی ، البتہ جریان پانی سے نجاست کے اثر کو دفع کرنے والا ہے جب تك کہ وہ جاری ہے اس سے رفع کرنے ولا نہیں ہے تو اگر ناپاك پانی ازخود جاری ہوا مثلاً کسی ڈھلوان میں تھا جو بند تھا پھر اس کو کھولا گیا تو وہ پانی جاری ہوگیا تو اس طرح وہ کبھی پاك نہ ہوگا بلکہ پاکی کیلئے ضروری ہے کہ وہ پاك پانی کے ساتھ جاری ہو ، تو پاك کا جاری ہونا مدد کا محتاج نہیں جیسے کوئی نہر کہ اوپر سے بند کردی جائے ، اور جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں کہ شدید

القولین وبالله التوفیق۔

ثم اقول : (۱)ھذا اذا کان الماء فی فضاء اما اذا کان فی جوف کحوض اوظرف فلا بد مع ذلك من خروجہ عنہ لان الماء کان واقفا فیہ والماء لایقف ماصادف منحدرا فدل وقوفہ علی عدمہ فاذا دخلہ ماء اٰخر فلا یدفعہ الی منحدر بل یعلیہ الی فوق فلا یکون جاریا الی ان یقطع العوائق بامتلاء المحل فیجد متسعا فینحدر فعند ذلك یصیر جاریا فمن اجل ھذا شرط فیہ مع الدخول الخروج(۲)فاذا کان حوض فی حوض والماء وراء الصغیر اوماؤہ کان واقفا فیہ لانعدام المنحدر فلا یجری مالم یخرج من الاعلی لما علمت اما اذا لم یکن الا فی الصغیر ووراء ہ مسیل فدخل الطاھر وملأہ وجعل الماء یخرج منہ ویسیل فقد جری الی ان یصل الی مایحاذیہ من سطح الکبیر فیقف لانعدام المنحدر فما یدخل الیہ بعدہ لایجریہ بل یعلیہ الی ان یملأ الا علی ثم یفیض۔                                 

بارش کے بعد چھتوں وغیرہ پر جمع شدہ پانی بہت دیر تك بہتا رہتا ہے اور کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ گرنے والا پانی بارش کے ٹھہرنے کے فوراً بعد ٹھہر گیا اور ناپاك پانی کا بہنا جو اس کو پاك کردے ، پاك پانی کی مدد کا محتاج ہے تو دونوں قولوں کا یہ محمل ہے وباللہ التوفیق۔ (ت)

پھر میں کہتا ہوں یہ اُس صورت میں ہے جبکہ پانی فضا میں ہو ، لیکن پانی اگر کسی تہ میں ہے جیسے حوض یا برتن تو ضروری ہے کہ وہ اس برتن سے خارج بھی ہو کیونکہ پانی اس میں ٹھہرا ہوا تھا اور پانی اترتی ہوئی چیز سے متصل ہونے کے وقت ٹھہر نہیں سکتا ہے ، تو اس کا ٹھہرنا اس کے عدم کی دلیل ہے تو اب جب اس میں دوسرا پانی داخل ہوا تو اس کو ڈھلوان کی طرف دھکا نہیں دے گا بلکہ اس کو اوپر کی طرف بلند کرے گا تو وہ اس وقت تك جاری نہ ہوگا جب تك کہ وہ رکاوٹوں کو محل کے پُر کرنے سے دُور نہ کردے ، پھر وہ کشادگی پائیگا اور اُترے گا اُس وقت وہ جاری ہوگا ، اسی وجہ سے اس میں دخول کے ساتھ ہی خروج کی شرط بھی رکھی گئی ہے ، تو جب ایك حوض دوسرے حوض میں ہو اور پانی چھوٹے حوض کے پیچھے ہو یا اس کا پانی ٹھہرا ہوا ہو کیونکہ اس میں ڈھلوان موجود نہیں تو جب تك اوپر سے خارج نہ ہو جاری نہ ہوگا جیسا کہ آپ نے جانا اور اگر پانی صرف چھوٹے میں ہو اور اس کے پیچھے پانی کے بہنے کا راستہ ہو اور پاك اس میں داخل ہوگیا ہو اور اس کو بھر دیا ہو یہاں تك کہ پانی اُس میں سے بہہ کر نکل رہا ہو تو اب جاری ہوگا یہاں تك کہ بڑے حوض کی مقابل سطح تك جا پہنچے ، اب ٹھہر جائیگا کیونکہ ڈھلوان موجود نہیں ہے

ثم اقول :  ھذا کلہ فی الجریان الحقیقی اما ما الحقوا بہ کحوض صغیر للحمام اوللوضوء یدخل فیہ الماء من الانابیب والمیازیب ویخرج بالغرف المتدارك والبئر(۱)ینبع فیھا الماء من تحت ویخرج بالاستقاء المتوالی او بفتح منفذ فیھا ان امکن کمامرعـــہعن الھندیۃ عن الظھیریۃ وعن المنحۃ عن الخیر الرملی وفی البحر عن البدائع عن الامام الحسن بن زیاد عند تکرار النزح ینبع الماء من اسفلہ ویؤخذ من اعلاہ فیکون [1]  کالجاری اھ وھو عندی محمل مافی الحلیۃ عن الامام محمد قال اجتمع رأیی ورأی ابی یوسف علی ان ماء البئر فی حکم الماء الجاری لانہ ینبع من اسفل ویؤخذ من اعلاہ فلا یتنجس بوقوع النجاسۃ فیہ [2] اھ  ونقلہ فی العنایۃ بلفظ قال محمد الخ ثم رأیت الامام ملك العلماء نقلہ فی البدائع بعین لفظ الحلیۃ وذکر تمامہ کحوض الحمام                                                                                                                                                                                                                  

تو اب اس کے بعد جو آئے گا وہ اس کو جاری نہ کرے گا بلالکہ اس کو بلالند کرے گا یہاں تك کہ اُوپر والے کو بھر دے گا پھر بہے گا۔ (ت)

پھر میں کہتا ہوں یہ سب بحث جریان حقیقی میں ہے ، لیکن فقہاء نے اس کے ساتھ جس کو لاحق کیا ہے جیسے چھوٹا حوض نہانے کیلئے یا وضو کیلئے جس میں پانی نلوں یا پرنالوں سے آتا ہے اور مسلسل چُلّو بھرنے سے نکلتا ہے ، اور یا وہ کنواں جس میں نیچے پانی کے سوتے ہیں ، اور مسلسل بھرنے سے وہ پانی نکلتا رہتا ہے یا اس میں کوئی سوراخ کھول دیا گیا ہے اگر ممکن ہو ، جیسا کہ ہندیہ سے ظہیریہ سے اور منحہ سے خیر رملی سے گزرا ، اور بحر میں بدائع سے امام حسن بن زیاد سے منقول ہے کہ پانی بار بار نکالا جائے تو نیچے سے نکلتا رہے اور اوپر سے لے لیا جاتا ہے ، تو یہ مثل جاری کے ہوگا اھ

 



[1]   بحوالہ بدائع الصنائع فصل فی بیان مقدار الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۷

[2]   بحوالہ بدائع الصنائع فصل فی بیان مقدار الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۵



Total Pages: 220

Go To