Book Name:Bad shuguni

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

قیامت کانُور

شفیعِ روزِ شمار ، جناب ِاحمدِ مختارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا اِرشادِ نُور بار ہے :

زَ یِّنُوْا مَجَالِسَکُمْ بِالصَّلَاۃِ عَلَیَّ فَاِنَّ صَلَاتَکُمْ عَلَیَّ نُوْرٌ لَّکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ

یعنی تم اپنی مجلسو ں  کو مجھ پر دُرُودِپاک پڑ ھ کرآراستہ کرو کیونکہ تمہارا مجھ پردُرُود پڑھنا بروزِقیامت تمہارے لئے نُور ہو گا ۔  (الجامع الصغیر ، ص۲۸۰ ، حدیث  :  ۴۵۸۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

مَنحُوس کون؟

           ایک بادشاہ اپنے وزیروں  مُشیروں  کے ساتھ دربار میں  موجود تھا کہ  کالے رنگ کے ایک آنکھ والے آدمی کو بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا ، لوگوں  کو شکایت تھی کہ یہ ایسا منحوس ہے کہ جو صبح سویرے اِس کی شکل دیکھ لیتا ہے اُسے ضرورکوئی نہ کوئی نُقصان اُٹھانا پڑتا ہے لہٰذا اِسے مُلک سے نکال دیا جائے ۔ تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بادشاہ نے کہا : کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے میں  خود تجربہ کروں  گا اور کل صبح سب سے پہلے اِس کی صورت دیکھوں  گا پھر کوئی دوسرا کام کروں  گا ۔ اگلے دن جب بادشاہ بیدار ہوا اور خوابگاہ کا دروازہ کھولا تووہی ایک آنکھ والا آدمی سامنے کھڑا تھا ۔ بادشاہ اس کو دیکھ کر واپس پَلٹ آیا اور دربار میں  جانے کے لئے تیار ہونے لگا ۔ لباس تبدیل کرنے  کے بعد جُونہی بادشاہ نے جوتے میں  اپنا پاؤں  ڈالا اُس میں  موجود زہریلے بِچھو نے ڈنک مار دیا۔ بادشاہ کی چیخیں  بلند ہوئیں  تو خدمت گار بھاگم بھاگ اس کے پاس پہنچے ۔ زہر کے اثر سے بادشاہ کا سُرخ وسفید چہرہ نیلا پڑ چکا تھا ، محل میں  شور مچ گیا کہ ’’بادشاہ سلامت کو بچھو نے کاٹ لیا ہے ۔ ‘‘ چند لمحوں  میں  وزیرِ خاص بھی پہنچ گئے ، ہاتھوں  ہاتھ شاہی طبیب کو طَلَب کر لیا گیا جس نے بڑی مَہارت سے بادشاہ کا علاج شروع کردیا ۔ جیسے تیسے کر کے بادشاہ کی جان تو بچ گئی لیکن اسے کئی روز بسترِ عَلالت پر گزارنا پڑے ۔ جب طبیعت ذرا سنبھلی اوربادشاہ دربارمیں  بیٹھا تو ایک آنکھ والے آدمی کو دوبارہ پیش کیا گیا تاکہ اسے سزا سُنا ئی جائے کیونکہ شکایت کرنے والوں  کاکہنا تھا کہ اب اس کے ’’منحوس‘‘ ہونے کا تجربہ خود بادشاہ سلامت کرچکے ہیں۔ وہ شخص رو رو کر رحم کی فریاد کرنے لگاکہ مجھے میرے وطن سے نہ نکالا جائے ۔ یہ دیکھ کر ایک وزیر کو اس پر رحم آگیا ، اس نے بادشاہ سے بولنے کی اِجازت لی اور کہنے لگا : بادشاہ سلامت ! آپ نے صبح صبح اس کی صورت دیکھی تو آپ کو بِچھو نے کاٹ لیااس لئے یہ منحوس ٹھہرا لیکن معاف کیجئے گا کہ اِس نے بھی صبح سویرے آپ کا چہرہ دیکھا تھا جس کے بعد سے یہ اب تک قید میں  تھا اور اب شاید اسے مُلک بَدری(یعنی مُلک چھوڑنے) کی سزا سُنا دی جائے تو ذراٹھنڈے دل سے غور کیجئے کہ منحوس کون؟ یہ شخص یا آپ ؟ یہ سُن کر بادشاہ لاجواب ہوگیا اور ایک آنکھ والے کالے آدمی کو نہ صِرْف آزاد کردیا بلکہ اِعلان کروا دیا کہ آیندہ کسی نے اس کو منحوس کہا تو اُسے سخت سزا دی جائے گی ۔

کیا کوئی شخص منحوس ہوسکتا ہے؟

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کسی شخص ، جگہ ، چیز یا وَقْت کو منحوس جاننے کا اسلام میں  کوئی تصوُّر نہیں  یہ محض وہمی خیالات ہوتے ہیں۔ میرے آقااعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِ سنّت ، مجدِّدِ دین وملّت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے اسی نوعیت کا سُوال کیا گیا کہ ایک شخص کے متعلق مشہور ہے اگر صبح کو اس کی منحوس صورت دیکھ لی جائے یا کہیں  کام کو جاتے ہوئے یہ سامنے آجائے تو ضَرورکچھ نہ کچھ دِقّت اور پریشانی اٹھانی پڑے گی اور چاہے کیسا ہی یقینی طور پر کام ہوجانے کا وُثُوق (اِعتماد اور بھروسہ)ہو لیکن ان کا خیال ہے کہ کچھ نہ کچھ ضَروررُکاوٹ اور پریشانی ہوگی چنانچہ اُن لوگوں  کو ان کے خیال کے مناسب ہربار تجربہ ہوتا رہتا ہے اور وہ لوگ برابر اِس اَمْر(یعنی بات) کا خیال رکھتے ہیں  کہ اگر کہیں  جاتے ہوئے اس سے سامنا ہوجائے تو اپنے مکان پر واپس آجاتے ہیں  اورتھوڑی دیر بعد یہ معلوم کرکے کہ وہ منحوس سامنے تو نہیں  ہے !اپنے کام کے لئے جاتے ہیں۔ اب سُوال یہ ہے کہ ان لوگوں  کا یہ عقیدہ اور طرزِ عمل کیسا ہے؟ کوئی قباحتِ شرعیہ تو نہیں ؟اعلیٰ حضرت  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جواب دیا : شرعِ مطہر میں  اس کی کچھ اصل نہیں ، لوگوں  کا وہم سامنے آتا



Total Pages: 44

Go To