$header_html

Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

 

 

چیزوں سے منع بھی فرمایا ۔ جسکے لئے یہ امر لازم ہے کہ حضور پیغمبر اسلام صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم کا کلام بھی قرآن عظیم کیطرح ہدایت کا سرچشمہ تسلیم کیا جائے اور اسلام کیلئے اسکو اصل سند مانا جائے۔

حضور سید عالم ﷺ شارح کلام ربانی ہیں

       ان تمام اوصاف وکمالات کی واقعی حیثیت کے پیش نظر حتمی اور یقینی طور پر کہاجاتاہے کہ خداوند قدوس نے آپکو دین اسلام کی تعلیمات کیلئے  جہاں قرآن کریم کے ذریعہ تبلیغ وہدایت کا فریضہ سونپا وہیں اسکی تشریح وتفسیر ،تبیین وتوضیح اور بیان وتصریح کیلئے اپنے افعال واقوال اورسیرت وکردار کے ذریعہ عام فرمانے کا حکم بھی فرمایا ۔

        قرآن کریم میں نماز کا حکم یوں ہے ۔

        واقیمواالصلوۃ ،

       اور نماز قائم کرو ۔

       آپ نے اسکی تفسیر اپنے اقوال وافعال سے یوں فرمائی ،کہ پانچ وقت کی نماز فرض ہے،فلاں وقت میں اتنی رکعات اور فلاں میں اتنی ،  شرائط یہ ہیں اور ارکان وفرائض یوں ہیں، انکے ساتھ ہی سنن ومستحبات کی نشاندہی ،ان تمام چیزوں کی تفصیل سے کتابیں مالامال ہیں اور ان پر عمل کی راہیں ہمار ے لئے پورے طور پر ہموار کردی گئی ہیں ۔اگر آپکی ذات اقدس نماز کی ادائیگی کیلئے کامل نمونہ نہ ہوتی تو پھر نماز پڑھنا اس اجمالی قرآنی حکم کے تحت ممکن ہی نہ تھا ۔

       زکوۃ، روزہ اور حج وعمرہ ان سب کیلئے بھی حضور کی قولی یاعملی وضاحت ضروری تھی ورنہ ارکان اسلام پر کوئی عمل کر ہی نہیں سکتاتھا ۔

        قرآن عظیم بلاشبہ ہمارے لئے ایک مکمل اور جامع دستور حیات ہے لیکن اسکے فرامین اصول وضوابط کے طور پر امت مسلمہ کو عطاہوئے جن کا اعجازوایجاز اپنی غایت ونہایت کو پہونچاہوا ہے ۔ایک ایک آیت ایسی  جامعیت رکھتی ہے کہ اسکے نیچے معانی ومفاہیم کا ایک بحربیکراں ودیعت کردیاگیاہے ۔ اسکی توضیح وتفسیر کیلئے ہم ہی کیاصحابہ کرام بھی اس سرچشمہ ہدایت کے محتاج نظر آتے ہیں ۔ یہ ہی وجہ تھی کہ قرآن اپنی رائے سے نہیں بلکہ تعلیمات رسول سے سمجھااور سمجھایاگیا ۔ اور اسی افہام وتفہیم کا نام سنت رسول اور احادیث مصطفی ہے ۔

 



Total Pages: 604

Go To
$footer_html