Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

        چونکہ  دونوں طرح کی روایتوں یعنی موصول و مرسل کے راوی ثقہ ہیں ، لیکن حماد بن

زید ،  کے مقابلہ میں سفیان  کی روایت کو متعدد ثقہ حضرات نے ذکر کیا ہے ، لہذا موصول راجح  اور مرسل مرجوح قرار دی گئی  اور مذکورہ سند محفوظ اور اس کے مقابل شاذ ہوئی ۔

 شاذ المتن :-  وہ حدیث جس کے متن میں شذوذ ہو ۔ جیسے:۔

         عن عبد الواحد بن زیاد عن الاعمش عن ابی صالح عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : اذا صلی احدکم   الفجر فلیضطجع عن یمینہ۔ (۱۰۵)

        حضرت ابو ہریرہ   رضی  اللہ  تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم نماز فجر پڑھ لو تو داہنی کروٹ پر لیٹ جائو ۔

        یہ حدیث  قولی ہے ۔ لیکن دوسرے ثقہ حضرات نے اس حدیث کو حضور کے فعل کے طور پر ذکر کیا ہے ۔ امام بیہقی کہتے ہیں ، عبد الواحد  نے حدیث قولی روایت کر کے متعدد ثقہ روات کی مخالفت کی ہے ۔ اور یہ اپنی اس روایت میں تنہا ہیں ۔ لہذا ان کی روایت’’ شاذ ‘‘اور دوسرے حضرات کی ’’محفوظ‘ ‘ ہے ۔

   منکرو معروف

تعریف منکر :- وہ حدیث جس کا  راوی ضعیف ہو اور معتمد رواۃ کی حدیث کے خلاف روایت کرے ۔

        اس کے مقابل کو معروف کہتے ہیں : ۔

        مثال : -  ابن ابی حاتم  کی روایت  بطریق حبیّب بن حبیب :۔

        عن ابی اسحاق عن العیزار بن حریث عن ابن عباس عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال : من اقام الصلوۃ  و آتی الزکوۃ و حج البیت و صام و قری الضیف دخل الجنۃ ۔ (۱۰۶)

        حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ  حضور نبی کریم  صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا : جس نے نماز پڑھی ،زکوۃ دی ،حج بیت اللہ کیا ، رمضان کے روزے رکھے اور مہمان نوازی کی وہ جنت میں داخل ہوا ۔

        ابو حاتم کا کہنا ہے کہ یہ روایت منکر ہے ، کیونکہ ثقہ روات نے اس حدیث کو موقوفا روایت کیا یعنی



Total Pages: 604

Go To